Thursday, November 7, 2019

جماعت نہم اردو سبق" ملکی پرندے اور دوسرے جانور" تشریح پیراگراف نمںر2


سبق: " ملکی پرندے اور دوسرے جانور
پیراگراف نمبر2

اقتباس:
بارش ہوتی ہے تو کوے نہاتے ہیں...........یہ بھی آپ سے نالاں ہیں۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: ملکی پرندے اور دوسرے جانور
مصنف کانام: شفیق الرحمن
صنف: مضمون
ماخذ: مزید حماقتیں

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
حفظان صحت.......صحت کی حفاظت
اصول..... قاعدہ، طور طریقہ،
سوچ بچار.......فکر، فہم و فراست
عقیدہ.......ایمان، یقین
فکر کرنا.........غور کرنا، سوچنا
اعصابی......جسمانی نسوں کا کمزور پڑنا
سنجیدگی........متانت
شرط لگانا......بازی لگانا
فکر معاش......روزی روٹی کی فکر
کھونا......گم کرنا، ضائع ہونا
نالاں.......ناراض، ناخوش

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" ملکی پرندے اور دوسرے جانور " کے ابتدائی حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف  کہتا ہے کہ کوا گرامر میں مذکر استعمال ہوتا ہے۔ برفانی کوا ڈیڑھ فٹ لمبا ہوتا ہے۔ کوے بندوق چلنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ان کی اڑان بالکل سیدھی ہوتی ہے۔

تشریح:
اردو کے ممتاز مزاح نگار اور افسانہ نگار شفیق الرحمن کے مضامین بہت ہلکے پھلکے اور نہایت شائستہ ہوتے ہیں۔وہ الفاظ کی بازی گری کی بجائے سادہ اور مؤثر انداز میں اپنا مدعا بیان کرتے ہیں جو پڑھنے والے کا دل موہ لیتا ہے۔
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف کوے کی عادات اور خصویات بیان کرتا ہے کہ بارش سے کوے لطف اٹھاتے ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو یہ اس میں خوش ہوکر نہاتے ہیں۔بارش کے پانی میں نہانا بعض اوقات صحت کو نقصان دیتا ہے لیکن کوے صحت کی حفاظت کو مدنظر رکھے بغیر بارش کے پانی میں نہاتے رہتے ہیں۔
      کوا زیادہ سوچتا نہیں کیونکہ اس کا اس بات پر یقین ہے کہ  زیادہ سوچنے اور فکر کرنے سے بیماریوں کے لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ زیادہ فکر مندی اعصاب پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ بقول شاعر

فکر مندی فضول ہوتی ہے
کوشش دل قبول ہوتی ہے

کوے کی زندگی میں ہمارے لیے بہت سے سبق موجود ہوتے ہیں جن سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔اس میں ایک سبق یہ ہے کہ کوا بڑے باوقار طریقے سے نظم و ضبط کے ساتھ بالکل سیدھا اڑتا ہے۔ کوؤں کو اڑتا ہوا دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ ان میں باہم کسی مقابلے کی شرط لگی ہوئی ہے۔یہ روزی کی تلاش میں دور دور مقامات پر چلے جاتے ہیں مگر کبھی گم نہیں ہوتے بلکہ شام ہوتے ہی کہیں نہ کہیں سے یہ واپس آ جاتے ہیں۔ چونکہ کوے بےشمار ہوتے ہیں اس لیے آپ کےلیے پہچاننا مشکل ہوگا کہ یہی وہ کوے ہیں جو گم ہونے کی بجائے واپس آئے ہیں یا کوئی اور کوے ہیں۔ یہ ان کی جگہ دوسرے کوے بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ سب کوؤں کی الگ الگ شناخت نہیں رکھی جاسکتی۔
      اگر ہم انسانوں میں سے کوئی کوے کو ناپسند کرتا ہے اور اس سے ناخوش رہتا ہے تو کوے بھی ایسے کو تیسا پر عمل کرتے ہوئے اس سے ناخوش رہتے ہیں۔ اسی لیے مجدد الف ثانی نے فرمایا:
" اگر تم خوش رہنا چاہتے ہو تو دوسروں کو خوش رکھو".

جماعت نہم اردو سبق" ملکی پرندے اور دوسرے جانور" تشریح پیراگراف نمبر1


سبق: ملکی پرندے اور دوسرے جانور

پیراگراف نمبر1


اقتباس: 

کوا باورچی خانے کے پاس مسرور...........مہینوں پچھتاتا رہتا ہے۔


حوالہ متن:

سبق کا عنوان: ملکی پرندے اور دوسرے جانور

مصنف کانام: شفیق الرحمن

صنف: مضمون

ماخذ: مزید حماقتیں


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس  درسی سبق" ملکی پرندے اور دوسرے جانور" کے ابتدائی حصے سے اخذ کیاگیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ کوا گرامر میں مذکر استعمال ہوتا ہے اور یہ کائیں کائیں کرتا ہے جس کا کوئی معنی نہیں۔پہاڑی کوا ڈیڑھ فٹ لمبا اور وزنی ہوتا ہے۔ کوے کی نظر تیز ہوتی ہے۔ بارش میں نہاتے ہوئے کوے حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہیں رکھتے۔


تشریح:

اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور مزاح نگار شفیق الرحمن کے مضامین بہت ہلکے پھلکے اور نہایت شائستہ ہوتے ہیں۔وہ الفاظ کی بازی گری سے کام لینے کی بجائے سادہ اور مؤثر انداز میں لکھتے ہوئے اپنا مدعا بیان کرتے ہیں جو پڑھنے والے کا دل موہ لیتا ہے۔

       تشریح طلب اقتباس میں مصنف کوے کی عادات و خصوصیات مزاحیہ انداز میں بیان کرتا ہے کہ کوا باورچی خانے کے قریب رہتے ہوئے بہت خوشی محسوس کرتا ہے کیونکہ وہاں اسے کھانے پینے کےلیے کوئی نہ کوئی چیز گری ہوئی مل جاتی ہے اور وہ باورچی خانے کے پاس سے ہر لمحہ کے بعد آکر کوئی نہ کوئی چیز اٹھا کر دور کہیں اپنے دوستوں یا اپنے بچوں کے پاس چھوڑ آتا ہے۔

       چونکہ کوے کو ادھر ادھر سے کھانے کو کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے تو وہ کھانے کی ان چیزوں کو بعض اوقات دور پھینک آتا ہے اس لیے وہ اپنی زندگی سے خوب لطف اٹھاتا ہے اور درخت پر بیٹھ کر اپنی اس خوش گوار اور خوب صورت زندگی سے  فرحت محسوس کرتا ہے اور  درخت پر بیٹھ کر اپنی اس خوش گوار زندگی کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی زندگی بہت حسین اور پیاری ہے کیونکہ اس کے نزدیک زندگی کا اصل مزہ یہ ہے کہ روزانہ نئے نئے کھانے کھائے جائیں اور یہی احساس اسے اڑائے رکھتا ہے۔

      کسی علاقے میں اگر کوئی بندوق چلائے تو کوے بندوق کی آواز سن کر اسےاپنی اہانت سمجھتے ہیں۔


" توہین ایک ایسا فعل ہے جسے  کوئی  اپنی ذات کےلیے پسند نہیں کرتا اور توہین کا شکار اپنا ردعمل ضرور دیتا ہے".


اس لیے کوے بھی بندوق کی آواز کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے اور اس پر احتجاج کرتے ہوئے اچانک لاکھوں کی تعداد میں اکٹھے ہوکر شور مچاتے ہیں جس سے بندوق چلانے والا  اپنے کیے پر پچھتاتا  رہتا ہے۔


"پچھتاوا ایک ایسا پرغم لمحہ ہوتا ہے جو غلط اقدام اٹھانے کے  بعد پیش آتا ہے". 


        چناں چہ بندوق چلانے کو اپنے پچھتاوے کے بعد اپنے کیے پر بہت شرمندگی رہتی ہے جس کا احساس اسے مہینوں تک رہتا ہے۔

Tuesday, November 5, 2019

جماعت نہم اردو سبق " لہو اور قالین" تشریح پیراگراف نمبر8


سبق: لہو اور قالین
پیراگراف نمبر8 آخری

اقتباس:
اور آپ کہ بھی کیا سکتے ہیں............. شخصیت کو جگمگانے کے علاؤہ اور کچھ بھی نہیں۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: لہو اور قالین
مصنف کا نام: میرزا ادیب
صنف: ڈرامہ
ماخذ: لہو اور قالین

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
حقیقت......سچائی
حیثیت....... مقام، درجہ،مرتبہ
احساس........لحاظ
اہلیتوں.......
صلاحیتوں
برف کی تہ جمنا........معدوم ہوجانا،ختم ہو جانا
شرارہ......چنگاری
سوہان روح......روح کو تکلیف دینے والی
شمع........دیا، چراغ،موم بتی
شاندار.......عالی شان،خوب صورت
شخصیت......ذات

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" لہو اور قالین" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصور اختر تجمل کو باور کراتا ہے کہ تم مجھے اپنی نمودونمائش اور شہرت کےلیے اپنے ہاں لائے اور میرے فن کو استعمال کیا۔آپ کا یہ کام میرے لیے سوہان روح ثابت ہوا کیونکہ کوئی فنکار یہ نہیں چاہتا کہ وہ محض کسی اور کےلیےشہرت کا ذریعہ بن کر استعمال ہو۔

تشریح:
میرزا ادیب کا شمار اردو ادب کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے ڈراموں میں زندگی کے تمام پہلووں کو اجاگر کیا گیا ہوتا ہے۔" لہو اور قالین" ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریاکاری جیسے قبیح عوامل کو اجاگر کیا گیا ہے۔
      تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ اختر تجمل سے مخاطب ہو کر اس  کواس کی اصلیت سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ نے اپنی ذاتی شہرت کےلیے میرے اور میرے فن کا استعمال کیا اور اب آپ میری اس بات کو جھوٹ گردانتے ہو اور آپ اس سچ کو جھوٹ سمجھنے کے علاؤہ اور کہ بھی کچھ نہیں سکتے اور نہ ہی آپ جذبات میں آکر اور محض اونچی آواز میں بول کر میری بتائی گئی سچائی کو بدل سکتے ہیں۔
            آپ کے ہاں میری حیثیت اور میرا مقام اتنا ہی تھا کہ اپنی شہرت کےلیے میرے اور میرے فن کا استعمال کیا جائے۔مجھے جب اس بات کا احساس ہوا کہ آپ اپنی ذات کےلیے ہی میرا استعمال کر رہے ہیں تو اس احساس سے میں کرب میں مبتلا ہوگیا اور مجھے ایسا لگا جیسے میری صلاحیتیں ختم ہوگئی ہوں۔ آپ کے اس طرح کے کام سے میرے سینے میں کام کرنے کی لگن، جوش جذبہ تک باقی نہ رہا اور آپ کے ہاتھوں اپنے استعمال ہونے کا احساس میری روح کو تڑپا رہا ہے کہ میں نے اپنے جس فن اور ہنر کے جس دیا کو اب تک جس محنت کے جذبے کے تحت روشن رکھا وہ آپ کے عالی شان بنگلے اور آپ کی ذات کی تشہیر اور اسے روشن رکھنے کے علاؤہ اور کوئی کام نہ دے سکی۔
بقول شاعر
میری غربت نے اڑایا ہے میرے فن کا مذاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں

جماعت نہم اردو سبق" لہو اور قالین" تشریح پیراگراف نمبر7


سبق: لہو اور قالین

پیراگراف نمبر7


اقتباس:

جس طرح بڑی دکانوں کے دروازوں پر.........میرے فن کا استعمال کر رہے تھے۔



حوالہ متن:

سبق کا عنوان: لہو اور قالین

مصنف کا نام: میرزا ادیب

صنف: ڈرامہ

ماخذ: لہو اور قالین


خط کشیدہ الفاظ کے معانی

 شفاف.......صاف ستھرا

حسین و جمیل.....خوب صورت

اعلی ذوق........عمدہ شوق

شان و شوکت........ قدرومنزلت

مرعوب ہونا ........رعب دبدبے میں آنا، اثر لینا

امارت......امیری، دولت مندی

شخصیت.......ذات

نمائش....... دکھاوا، نمود

فن........ہنر، کاری گری


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق " لہو اور قالین  کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصور اختر نے تجمل کے تمام تر احسانات کا ذکر کے بعد اس کی اصلیت بتاتے ہوئے کہا کہ تم نے اپنی ذاتی تشہیر کےلیے میری مفلسی اور غربت کو ذریعہ بنایا اور تم معاشرے کو دکھانا چاہتے تھے کہ میں غریب نواز ہوں۔تمھارے اس کردار سے میری اہلیتوں پر برف کی تہ جم گئی۔


تشریح:

میرزا ادیب کا شمار اردو ادب کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے تحریر کردہ ڈراموں میں زندگی کے  تمام اہم پہلوؤں کو اجاگر کیاگیا ہے۔" لہو اور قالین ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریاکاری جیسے عوامل بےنقاب ہوتے ہیں۔

   تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ اختر تجمل کے سامنے اپنی ساری روداد رکھتا ہے کہ کس طرح  تجمل اسے اپنے ہاں مصوری کےلیے لے آیا تھا۔اختر تجمل کو باور کراتا ہے کہ تم نے معاشرے میں اپنے نام اور مقام کےلیے میرا اور میرے فن کا استعمال کیا۔تم نے اپنی ذاتی تشہیر اور ناموری کےلیے مجھے جس طرح استعمال کیا اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ جس طرح شہروں میں بڑی بڑی کپڑے کی دکانوں پر انسانی مجسموں کو خوب صورت اور عمدہ ملبوسات سے مزین کرکے شیشے کی خوب صورت الماریوں میں سجاوٹ کے طور پر رکھا جاتا ہے جولوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ جس سے لوگ اس خوب صورتی کو دیکھ کر خریداری کےلیے کھینچے چلے آتے ہیں کیونکہ  ان مجسموں کو سجانے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ لوگ ان خوب صورت اور اعلی پہناوں  سے مزین مجسموں کو دیکھ کر،دکان اور دکانداروں کے عمدہ ذوق و شوق اور انکی شاندار قدرومنزلت سے متاثر ہوکر اس طرف کھینچے جاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح میری ذات کی حیثیت بھی ایک سجے سجائے مجسمے جیسی تھی جسے آپ نے اپنے گھر کے کمرے میں لاکر سجا رکھا تھا اور اس کا مقصد تجمل صاحب, محض اتنا تھا کہ آپ اپنی امیری،دولت مندی اور عیش و عشرت سے مزین ذات کی نمودونمائش اور دکھاوے کےلیے میرا اور میرے فن کا استعمال کر رہے تھے۔

بقول شاعر

میری غربت نے اڑایا ہے میرے فن کا مذاق

تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں۔

جمماعت نہم اردو سبق" لہو اور قالین" تشریح پیراگراف نمبر6


سبق:لہو اور قالین
پیراگراف نمبر6

اقتباس:
میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ آپ کے سلوک نے.............ساری دنیا کا دردسمایا ہوا ہے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: لہو اور قالین
مصنف کا نام: میرزا ادیب
صنف:ڈرامہ
ماخذ: لہو اور قالین

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
سلوک.......برتاؤ
اثر ڈالنا......متاثر کرنا
درجہ....... رتبہ، مقام٬ مرتبہ
دولت مند........مال دار
پہلو......کونا، گوشہ،
دھڑکنا...... دھک دھک کرنا
انسانیت نواز ........انسانوں کی خدمت کرنے والا٬ خدمت گزار
درد.........دکھ،تکلیف
سمایا........بسا ہوا، سمویا ہوا۔

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " لہو اور قالین " کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف بتاتا ہے کہ مصور اختر نے تجمل کو اپنی روداد سناتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے غربت کدے سے نکال کر اپنے ہاں لے آئے اور مجھے تمام ضروریات سے بےنیاز کر دیا تو آپ کے اس سلوک نے مجھے بہت متاثر کیا۔آپ نے ہی میری تصویروں کو شہرت دلائی۔آپ مجھے فرشتہ کے روپ میں نظر آئے۔

تشریح:
میرزا ادیب کا شمار اردو کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے ڈراموں میں زندگی کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔" لہو اور قالین ان کا تحریر کردہ ایسا ہی ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریا کاری جیسے قبیح عوامل سے آگاہ کیا گیا ہے۔
        تشریح طلب اقتباس میں  مصنف کہتا ہے کہ اختر تجمل سے مخاطب ہوکر اس  کی احسان مندی کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ مجھے غربت کدے سے نکال کر اپنے ہاں لے آئے اور مجھے ضروریات زندگی سے بےنیاز کر دیا۔
     آپ کے اس حسن سلوک نے مجھ پر بہت  زیادہ اثر ڈالا اور آپ میری نظر میں اعلی پائے کے انسان کے طور پر سامنے آئے۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ  بہت زیادہ دولت مند ہونے کے باوجود انسانیت کی خدمت کرنے والے ہیں اور نرم دل رکھتے ہیں جس میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہے اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ آپ کی خدمت صرف مجھ تک محدود نہیں بلکہ آپ پوری دنیا کے دکھی لوگوں کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں اور ان کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں۔گویا تمام دنیا کا درد آپ کے دل میں ہے۔
بقول امیر مینائی

خجر چلے کسی پر تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

جماعت نہم اردو سبق " لہو اور قالین" تشریح پیراگراف نمبر5


سبق: لہو اور قالین

پیراگراف نمبر5


اقتباس:

میں اپنے ہزاروں ہم پیشہ بھائیوں کی طرح.........مجھے زندگی کی ضروریات سے بےنیاز کردیا۔


حوالہ متن:

سبق کا عنوان: لہو اور قالین

مصنف کا نام: میرزا ادیب

صنف: ڈرامہ

ماخذ: لہو اور قالین


خط کشیدہ الفاظ کے معانی

ہم پیشہ........ایک ہی شعبے سے منسلک

اصرار ....... ضد کرنا

غربت کدہ........غریب خانہ

وقف کرنا........... مخصوص کرنا

بےنیاز........بےپروا،

بےفکر۔

اطمینان........ تسلی،آرام و سکون


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق"لہو اور قالین" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ تجمل نے اختر سے اس کی پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس نے اپنا مکمل حال بتانا شروع کر دیا کہ آپ دوسال پہلے مجھے خستہ حال گھر سے نکال کر اپنے ہاں لے آئے اور مجھے غربت کدے سے نکال کر زندگی کی تمام ضرورتوں سے بےنیاز کردیا اور آپ میرے لیے دیوتا بن کر آئے۔


تشریح:

میرزا ادیب کا شمار اردو ادب کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے ڈراموں میں زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔" لہو اور قالین ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریاکاری جیسے قبیح عوامل اجاگر ہوتے ہیں۔

    تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ اختر تجمل کو اپنا حال بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جس طرح میری طرح کے بےشمار غریب اور کنگال مصور غربت زدہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے بالکل اسی طرح میں بھی غربت اور عسرت کی چکی میں پس رہا تھا اور میری یہ حالت کسی سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔ آپ نے میری اس حالت کا اندازہ لگا لیا کہ مجھ جیسا انسان آسانی کے ساتھ آپ کے کام آسکتا ہے۔اس لیے آپ نے بار بار ضد کی کہ میں اپنے خستہ حال گھر سے نکل کر آپ کے پاس آجاؤں تاکہ آپ کے ہاں اطمینان اور سکون سے فن مصوری کی خدمت کر سکوں۔

      آج بھی میں یہ بات تسلیم کر رہا ہوں کہ آپ نے میرے فن مصوری کےلیے ایک کمرا مخصوص کر دیا جس میں ضرورت کی تمام اشیا مجھے میسر تھیں اور میں ضروریات زندگی سے بےفکر ہوکر اپنے فن کی خدمت میں مگن ہوگیا۔

بقول شاعر 

سدا   روپوش    رہتے    ہیں   وہ   پتھر

عمارت جن کے کاندھوں پر تعمیر ہوتی ہے

جماعت نہم اردو سبق" لہو اور قالین" تشریح پیراگراف نمبر4


سبق : لہو اور قالین
پیراگراف نمبر4

اقتباس:
آپ سب کچھ سمجھ جائیں گے۔ یہ کوئی معما نہیں ہے...............میں ایک مفلس ،قلاش اور گمنام مصور ہوں۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: لہو اور قالین
مصنف کا نام: میرزا ادیب
صنف: ڈرامہ
ماخذ: لہو اور قالین

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
معما.......مسئلہ، پیچیدہ بات
تنگ و تاریک.......چھوٹی اور اندھیرے والی
خستہ.........بدحال بدنما........بد صورت،
مفلس........ نادار، تنگ دست
قلاش......مفلس،نادار
مصور.........تصویر بنانے والا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " لہو اور قالین " کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ اختر کی تصویر کو اول انعام ملنے کے بعد تجمل نے اسے مبارک باد دی تو وہ خوش ہونے کی بجائے تجمل کے ہاں سے اپنے گھر جانے پر بضد ہوگیا۔تجمل کے سمجھانے کے باوجود بھی اختر اپنی بات سے ٹس سے مس نہ ہوا۔بالاخر تنگ کر تجمل نے اس سے اس کی پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس پر اختر نے اپنا مکمل حال تجمل کے سامنے دہرا دیا۔


تشریح:
میرزا ادیب کا شمار اردو کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے ڈراموں میں زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کو اجاگر کیاگیا ہے۔" لہو اور قالین" ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریا کاری جیسے قبیح عوامل اجاگر ہوتے ہیں۔
          تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ جب تجمل نے اختر سے اس کی پریشانی اور ڈاکٹر کو نہ بلانے دینے کی وجہ پوچھی تو اختر نے تجمل سے عرض کی کہ میں جو بات آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ کوئی اتنی پیچیدہ بات نہیں جسے آپ سمجھ نہ سکیں بلکہ آپ سب کچھ اچھی طرح سمجھ جائیں گے بس میری بات کو تسلی سے سنیے۔
            یہاں آنے سے دو سال پہلے میں ایک چھوٹی سی اور اندھیرزدہ گلی کے ایک پرانے گھر میں رہتا تھا جوکہ انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور دیکھنے میں بھی بھلا نہیں لگتا تھا۔
        وہاں مجھے لوگ زیادہ نہیں جانتے تھے اور جو کم لوگ مجھے جانتے بھی تھے تو انھیں محض اتنا معلوم تھا کہ میں ایک غربت، مسکینی اور گمنامی کی زندگی بسر کرنے والا مصور ہوں۔

بقول شاعر
میری غربت نے اڑایا میرے فن کا مذاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں

پیراگراف نمبر8 خطوط غالب

                     03065976174            سبق:    خطوط غاؔلب               aufsurani.blogspot.com                                         ...