سبق: خطوط رشیداحمد صدیقی
پیراگراف نمبر9
اقتباس
علی گڑھ کا آپ کا مطالعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔
حوالۂ متن
سبق کا عنوان: خطوطِ رشیداحمد صدیقی
مصنف کا نام: رشیداحمدصدیقی
صنف: مکتوب نگاری
مرتب کردہ: ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
مطالعہ۔۔۔۔۔ پڑھائی۔
قابلِ غور ۔۔۔۔۔ غوروفکر کے لائق۔
قدروقیمت ۔۔۔۔۔ اہمیت ، شان وشوکت۔
اہل علم وفن ۔۔۔۔۔۔ علمی مہارت رکھنے والے۔
احترام ۔۔۔۔۔ عزت، قدر۔
استعداد ۔۔۔۔۔ صلاحیت۔
محروم ہونا ۔۔۔۔۔ کھو دینا، گنوا دینا۔
طفیل ۔۔۔۔۔ سبب، ذریعہ۔
اختیارواقتدار ۔۔۔۔۔ آزادانہ حکمرانی، بااختیار حکومت۔
تشریح:
رشیداحمدصدیقی اردو زبان کے بلندپایہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب طرز انشاپرداز تھے۔بنیادی طور پر وہ مزاح نگار تھے۔طنزوظرافت اور سنجیدہ مزاح میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔انھوں نے جہاں خوب صورت شخصی مرقعے تحریر کیے وہیں اپنے دوستوں کے نام بےشمار خطوط بھی لکھے ہیں۔
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " خطوطِ رشیداحمدصدیقی سے اخذ کیا گیا ہے ۔ یہ اس خط کا آخری اقتباس ہے جو مصنف نے اپنے دوست اور علی گڑھ کے ساتھی پروفیسر سیدبشیرالدین کے نام ان کےخط کے جواب میں لکھا تھا مصنف،سیدبشیرالدین کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ علی گڑھ میں رہ کر آپ کو جس قدر کتابوں کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا وہ اس لحاظ سے قابل غور ہے اور قابل فکر ہے کہ علی گڑھ کی ان خدمات نے آپ کے دل میں علی گڑھ کی اہمیت اور اس کی قدرومنزلت کافی بڑھا دیا ہے۔علی گڑھ جیسے تعلیمی ادارے کی اہمیت ان لوگوں سے معلوم کرنے کے لائق ہے جو اہل علم و فن ہیں اور علوم وفنون کی افادیت سے اچھی طرح واقف ہیں مگر ہندوستان سے باہر ہیں اور علی گڑھ جیسی درس گاہ سے علمی استفادہ کرنے سے محروم ہیں۔ جیسا کہ ایک قول ہے:
" انسان کو کسی چیز کی قدر اس وقت ہوتی ہے جب وہ ہاتھوں سے نکل چکی ہوتی ہے۔"
معاشرے میں جہاں اچھی چیز کے قدردانوں کی کمی نہیں وہیں ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو کم ظرف ہوتے ہیں۔ایسے لوگ نہ اعلیٰ اور قیمتی چیز کی قدروقیمت جانتے ہیں اور نہ ہی ان میں عزت و احترام کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ان ناقدردانوں میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو علی گڑھ یونیورسٹی کی بدولت ہی اعلیٰ مناصب پر فائز ہوکر صاحب اقتدارواختیار بنے اور ان پر دولت اور شہرت مہربان ہوئی۔علی گڑھ یونیورسٹی سے دور رہ کر وہ ان چیزوں کے ملنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ بقول شاعر :
کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہے
مانند حباب ابھر کے اتراتا ہے




