03065976174 سبق: خطوط رشیداحمد صدیقی aufsurani.blogspot.com
پیراگراف نمبر1:
اقتباس
مولانا ضیااحمد صاحب مرحوم ۔۔۔۔۔۔۔ سعادت آپ کو نصیب ہوئی۔
حوالۂ متن
سبق کا عنوان: خطوطِ رشیداحمد صدیقی
مصنف کا نام: رشیداحمد صدیقی
صنف: خطوط نگاری
مرتب کردہ: ڈاکٹر سلیمان اطہرجاوید
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
مرحوم ۔۔۔۔۔ رحمت کےلائق رفیق ۔۔۔۔۔ دوست
شفیق ۔۔۔۔۔ مہربان رفیق و شفیق ۔۔۔۔۔ دوست اور مہربان
سانحۂ رحلت ۔۔۔۔۔ وفات کا حادثہ صدمہ ۔۔ ۔۔۔ دکھ، تکلیف، رنج
سایۂ شفقت ۔۔۔۔۔محبت کی چھاؤں معظمات ۔۔ ۔۔۔معظم کی جمع، عظمتیں،بڑائیاں
بہرہ مند ہونا ۔۔۔۔۔ فائدہ اٹھانا، استفادہ کرنا ممتاز ۔ ۔۔۔۔مشہور، نامور
مفتخر۔۔۔۔۔قابل فخر، فخر کےلائق ممتاز و مفتخر ۔ ۔۔۔۔ مشہور اور قابل فخر
سعادت ۔۔ ۔۔۔ خوش بختی، خوش نصیبی نصیب ہونا ۔ ۔۔ ۔۔ ملنا، میسر ہونا
تشریح:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" خطوط رشیداحمد صدیقی" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔رشیداحمدصدیقی اردو زبان کے بلندپایہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب طرز انشاپرداز تھے۔بنیادی طور پر وہ مزاح نگار تھے۔طنزوظرافت اور سنجیدہ مزاح میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔انھوں نے جہاں خوب صورت شخصی مرقعے لکھے وہیں اپنے دوستوں کے نام بےشمار خطوط بھی لکھے ہیں۔
تشریح طلب اقتباس اس خط کا حصہ ہے جسے مصنف نے دلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر اور اپنے دوست ظہیراحمد صدیقی کے نام لکھا اور اس میں انھوں نے ان کے والد مولانا ضیااحمد کی وفات پر اظہار تعزیت کی۔ ظہیراحمد صدیقی صاحب سے مخاطب ہوکر مصنف لکھتے ہیں کہ آپ کے والد محترم ضیااحمد صاحب کو اللہ غریق رحمت فرمائے۔جب وہ حیات تھے تو نہ صرف آپ کےلیے بلکہ میرے سمیت ہرکسی کےلیے سراپا شفقت تھے اور سب کے ساتھ ان کا سلوک نہایت دوستانہ ہوتا تھا۔اللہ ان پر کروٹ کروٹ اپنی رحمت نازل فرمائے کیونکہ ان کے جانے کا دکھ اور غم اس قدر ہے کہ ان کی جدائی کے کرب کا اندازہ میرے اور آپ کے علاوہ اور کس کو ہوسکتا ہے لیکن موت سے کسی کو مفر نہیں۔ حدیث مبارکہ ہے:
" ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔"
ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ہم ایک ایسی شفیق اور حلیم طبع شخصیت سے محروم ہوگئے جن کا خلا کبھی پُر نہیں کیا جاسکتا۔ بقول شاعر
؎ موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کےلیے
مصنف ظہیراحمد صدیقی کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ آپ کو اپنے والد مرحوم کے محبت و شفقت بھرے سائے میں زندگی کے تمام تر لوازمات سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔آپ نے اپنی زندگی میں جن بلند پایہ معیارات کو حاصل کیا یقیناً اس میں آپ کے والد محترم کا بہت ہاتھ تھا۔ان کی موجودگی اور ان کے تعاون کے بغیر شاید آپ زندگی کی عظمتوں سے فائدہ اٹھا کر وہ نام حاصل نہ کر پاتے جو آج آپ کو حاصل ہے۔ یہ آپ کےلیے بہت بڑی خوش نصیبی اور خوش بختی ہے کہ آپ نے باپ کے سایہ شفقت رہ کر اپنی زندگی میں جو مقام بنایا وہ ہم سب کی نظروں میں نمایاں بھی ہے، قابل رشک اور قابل فخر بھی۔ جیسا کہ کسی مفکر کا قول ہے:
" باپ تاریک راہوں میں روشنی کا مینارہے۔"


No comments:
Post a Comment