03065976174 سبق: خطوط رشیداحمد صدیقی aufsurani.blogspot.com
پیراگراف نمبر3
اقتباس:
مرحوم کی مفارقت سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبرجمیل عطافرمائے۔آمین۔
حوالۂ متن
سبق کا عنوان: خطوطِ رشیداحمدصدیقی
مصنف کانام: رشیداحمدصدیقی
صنف: خطوط نگاری
مرتب کردہ: ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید
خط کشیدہ الفاظ کے معانی۔
مرحوم ۔۔۔۔ رحمت کے قابل۔ مفارقت ۔۔۔۔ جدائی۔
مشرقی ادب ۔۔۔۔ برضغیر کا علم وادب۔ آداب ۔۔۔۔ ادب کی جمع، علم و حکمت۔
مستقبل ۔۔۔۔آنے والا زمانہ۔ محفل ۔۔۔۔ جلسہ، صحبت۔
سایۂ رحمت ۔۔۔۔ رحمت کی چھاؤں۔ صبرجمیل ۔۔۔۔ بہترین صبروتحمل۔
تشریح:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" خطوط رشیداحمد صدیقی" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔رشیداحمدصدیقی اردو زبان کے بلندپایہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب طرز انشاپرداز تھے۔بنیادی طور پر وہ مزاح نگار تھے۔طنزوظرافت اور سنجیدہ مزاح میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔انھوں نے جہاں خوب صورت شخصی مرقعے لکھے وہیں اپنے دوستوں کے نام بےشمار خطوط بھی لکھے ہیں۔
یہ اقتباس اس خط کا حصہ ہے جو مصنف نے دلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر اور اپنے دوست ظہیراحمد صدیقی کے نام لکھا اور اس میں انھوں نے ان کے والد مولانا ضیااحمد کی وفات پر اظہار تعزیت کی اور ان کی شرافت، علمیت اور ان کے اندازِ گفتگو کو بیان کیا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ مرحوم مولانا ضیااحمد کی ہم سے جدائی صرف جدائی ہی نہیں بلکہ ان کے دنیا سے جانے کے بعد پورے برصغیر کے علم و ادب اور اس کی محفلوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جسے نہ تو اب پورا کیا جاسکتا ہے اور نہ آنے والے زمانے کے قرب میں پورا کیا جاسکے گا۔ جیساکہ حدیث مبارکہ ہے:
" ایک عالم کی موت عالم کی موت ہے۔"
ان کی جدائی کے اس دکھ میں ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے اور پسماندگان سمیت ہم سب کو بہترین صبرو استقامت کے ساتھ یہ دکھ سہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔ بقول شاعر:
؎ موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کےلیے
No comments:
Post a Comment