سبق: خطوط رشیداحمد صدیقی
اقتباس نمبر2
میرا خیال ہے کہ مرحوم۔۔۔۔۔۔۔اظہارخیال فرماتے۔
حوالۂ متن
سبق کا عنوان: خطوط رشیداحمدصدیقی
مصنف کا نام: رشیداحمدصدیقی
مرتب کردہ: ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
خیال ۔۔۔۔ تصور، گمان۔
مرحوم ۔۔۔۔رحمت کے قابل۔
تکلیف ۔۔۔۔ دکھ، رنج، پریشانی۔
شریف ۔۔۔۔ نیک نام
صفت ۔۔۔۔خوبی۔
معتبر ۔۔۔۔ قابل اعتبار، لائقِ اعتبار، تسلیم کرنے کے قابل۔
ادبیات ۔۔۔۔
وسیع ۔۔۔۔کشادہ، پھیلی ہوئی۔
متنوع ۔۔۔۔۔ طرح طرح کے، مختلف قسم کے
معترف ۔۔۔۔قدردان، اعتراف کرنے والے۔
استفادہ کرنا۔۔۔۔فائدہ اٹھانا، مستفید ہونا
ناملائم ۔۔۔۔ نامناسب، سخت۔
شوق ۔۔۔۔ ذوق، لگن
مسائل ۔۔۔۔ مسئلہ کی جمع، معاملات
اظہارِ خیال کرنا ۔۔۔۔ نقطۂ نظر پیش کرنا، گفتگو کرنا۔
تشریح:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" خطوط رشیداحمد صدیقی" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔رشیداحمدصدیقی اردو زبان کے بلندپایہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب طرز انشاپرداز تھے۔بنیادی طور پر وہ مزاح نگار تھے۔طنزوظرافت اور سنجیدہ مزاح میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔انھوں نے جہاں خوب صورت شخصی مرقعے لکھے وہیں اپنے دوستوں کے نام بےشمار خطوط بھی لکھے ہیں۔
یہ اقتباس اس خط کا حصہ ہے جسے مصنف نے دلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر اور اپنے دوست ظہیراحمد صدیقی کے نام لکھا اور اس میں انھوں نے ان کے والد مولانا ضیااحمد کی وفات پر اظہار تعزیت کی اور ان کی شرافت، علمیت اور ان کے اندازِ گفتگو کو بیان کیا۔ مصنف لکھتے ہیں کہ مرحوم بہت ہی شریف طبع انسان تھے۔شرافت قابل اعتبار صفت کا نام ہے اس لیے شریف شخص کی شرافت کی خوبی ہی معاشرے میں قابل اعتبار تسلیم کی جاتی ہے۔شریف شخص کبھی کسی کو بلاوجہ دکھ، تکلیف اور اذیت نہیں پہنچاتا۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے:
" تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ نہ ہوں۔"
مرحوم مولانا ضیااحمد نے بھی اپنی سادگی اور شرافت کی بدولت کبھی کسی کو دکھ اور تکلیف نہیں پہنچائی۔وہ نہ صرف اخلاقی حوالے سے بلند پایہ مقام رکھتے تھے بلکہ علمی حوالے سے بھی اپنا منفرد مقام رکھتے تھے۔ان کی اردو، فارسی اور عربی علم و ادب میں نہ صرف گہری نظر تھی بلکہ ان علوم و آداب میں ان کی گہری اور وسیع گرفت کا اعتراف ان کی زندگی میں ہی سب لوگ کیا کرتے تھے اور ان سے علمی حوالے سے فیض یاب بھی ہوتے تھے۔وہ تہذیب و شائستگی کا حسین مرقع تھے اس لیے کبھی ناشائستہ اور سخت الفاظ اپنی زبان پر نہ لاتے تھے۔ان کا طرز کلام بہت نرم،سلیقہ مند ہوتا تھا۔علمی مسائل و معاملات پر بھی ان کا طرز گفتگو انتہائی سنجیدہ، باوقار اور پرخلوص ہوتا تھا۔ بقول شاعر:
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آئے ہیں مرنے کےلیے

No comments:
Post a Comment