پیراگراف نمبر6
اقتباس
اسی تخیل کو لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محسوس کرلیاجائے تو کیا حرج ہے۔
حوالۂ متن
سبق کا عنوان: خطوط رشیداحمدصدیقی
مصنف کا نام: رشیداحمدصدیقی
صنف: خطوط نگاری
مرتب کردہ: ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید
خط کشیدہ الفاظ کے معانی:
تخیل ۔۔۔۔۔ خیال، نظریہ، سوچ۔
کرشمہ ۔۔۔۔۔ معجزہ۔
انقلاب ۔۔۔۔۔ تبدیلی، کایاپلٹ۔
کرشمۂ انقلاب ۔۔۔۔۔ تبدیلی کا معجزہ۔
قلب ۔۔۔۔۔ دل۔
ماہیت ۔۔۔۔۔ تبدیلی آنا، بدلنا۔
قلبِ ماہیت ۔۔۔۔۔ دل کی حالت بدلنا، دل میں تبدیلی آنا۔
اسلاف ۔۔۔۔۔ سلف کی جمع، بزرگ، آباواجداد۔
عظمت ۔۔۔۔۔ بڑائی۔
شفقت ۔۔۔۔۔ پیارومحبت۔
سہارا ۔۔۔۔۔ آسرا۔
شرافت ۔۔۔۔۔ نیک نامی، بھلے منسی۔
آشنا ۔۔۔۔۔واقف، پہچان رکھنے والا۔
سخاوت ۔۔۔۔۔غنی ہونا، دل کھول کر خرچ کرنا۔
بہرہ مند ہونا ۔۔۔۔۔فائدہ اٹھانا، استفادہ کرنا۔
آرزومندی ۔۔۔۔۔ خواہش مندی۔
رنج ۔۔۔۔۔۔ دکھ اور تکلیف۔
راحت ۔۔۔۔۔ آرام وسکون، اطمینان۔
شریک ہونا۔۔۔۔۔ شامل ہونا۔
بڑائی ۔۔۔۔۔۔عظمت۔
مبارک باد ہو ۔۔۔۔۔ برکت نصیب ہو، خوش خبری ہو۔
فخر ۔۔۔۔۔ ناز۔
حرج۔۔۔۔۔۔ نقصان، برائی، قباحت۔
تشریح:
رشیداحمدصدیقی اردو زبان کے بلندپایہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب طرز انشاپرداز تھے۔بنیادی طور پر وہ مزاح نگار تھے۔طنزوظرافت اور سنجیدہ مزاح میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔انھوں نے جہاں خوب صورت شخصی مرقعے تحریر کیے وہیں اپنے دوستوں کے نام بےشمار خطوط بھی لکھے ہیں۔
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" خطوط رشیداحمدصدیقی کے درمیان سے اور اس خط سے اخذ کیا گیا ہے جو رشیداحمدصدیقی نے اپنے دوست اور علی گڑھ یونیورسٹی کے ساتھی پروفیسر سیدبشیرالدین کے نام جوابی خط کے طور پر لکھا۔سیدبشیرالدین دہلی میں رہتے تھے اور انھوں نے دہلی کے حالات و واقعات پر کافی کتابیں بھی لکھی ہوئی ہیں۔مصنف کہتے ہیں کہ مشترک مکتبوں اور درس گاہوں بالعموم مساجد میں تعلیم و تربیت حاصل کرکے، اپنےعزیزوں اور بزرگوں کے شریفانہ طور طریقوں سے متاثر ہوکر ، ان سے اپنی ابتدائی عمر کے تخیل کو جولانی بخش کر اور اپنے ان بدلتے خیالات کو لے کر یا یہ خیالات ہمیں لے کر علی گڑھ میں آگئے۔علی گڑھ جیسی عظیم درس گاہوں کی بدولت ہی انقلاب کا وہ معجراتی نمونہ سامنے آیا جس نے لوگوں کے خیالات اور ان کے دل کی کیفیات کو یکسر بدل دیا۔ جیسا کہ ایک قول ہے:
" اچھی درس گاہیں انسان کے تخیلات اور اطوار بدل دیتی ہیں۔"
جو باتیں ہم نے کتابوں میں پڑھی تھیں وہ ہمارے خوابوں اور سوچوں تک ہی محدود تھیں۔ علی گڑھ یونیورسٹی نے ان باتوں کو اور ان خوابوں کو عملی جامہ پہنایا۔ اس یونیورسٹی میں ہمیں بزرگوں کا بڑاپن ، ان کا پیار اور لگاؤ اور ہمدردانہ رویہ دیکھنے کو ملا۔اس کے علاوہ وہاں کے ساتھیوں کے شریفانہ رویے،ان کی فراخ دلی اور ان کی چاہت اور اپنائیت سے ہم نہ صرف واقف ہوئے بلکہ ان سے بھرپور استفادہ بھی کیا۔ان کے ساتھ رہنے اور ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے میں ہمیں اپنی عظمت نظر آئی۔ جیساکہ حدیث مبارکہ ہے۔
" تم میں سے اچھا انسان وہ ہے جس سے دوسرے نفع حاصل کریں۔"
غرض ان سب باتوں کا ماحصل یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہماری زندگی میں حقیقی خوشیاں اور راحت لایا۔ اس پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینے اور فخر محسوس کرنے میں کوئی برائی نہیں بلکہ ہمارے لیے خوش نصیبی اور افتخار کی بات ہے۔

No comments:
Post a Comment