03065976174 سبق: خطوط رشیداحمدصدیقی aufsurani.blogspot.com
پیراگراف نمبر7
اقتباس:
جو باتیں اوپر عرض کی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسلسل مانگ رہی ہے۔
حوالۂ متن
سبق کا عنوان: خطوطِ رشیداحمدصدیقی
مصنف کا نام: رشیداحمدصدیقی
صنف: مکتوب نگاری
مرتب کردہ: ڈاکٹر سلیمان اطہر جاوید
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
عرض کرنا ۔۔۔۔۔ کہنا، بتانا۔ سربراہوں ۔۔۔۔۔ سرپرستوں۔
کم و بیش ۔۔۔۔۔ تھوڑا بہت۔ معلم ۔۔۔۔۔ استاد، اتالیق۔
امانت ۔۔۔۔۔ ذمہ داری۔ حق ادا کرنا ۔۔۔۔۔ ذمہ داری پوری کرنا۔
ہندوستان گیر ۔۔۔۔۔ ہندوستان بھرمیں۔ شہرت ۔۔۔۔۔ ناموری، مشہوری۔
متواتر ۔۔۔۔۔ مسلسل، لگاتار، پے در پے۔ مانگ ۔۔۔۔۔ طلب۔
تشریح:
رشیداحمدصدیقی اردو زبان کے بلندپایہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب طرز انشاپرداز تھے۔بنیادی طور پر وہ مزاح نگار تھے۔طنزوظرافت اور سنجیدہ مزاح میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔انھوں نے جہاں خوب صورت شخصی مرقعے تحریر کیے وہیں اپنے دوستوں کے نام بےشمار خطوط بھی لکھے ہیں۔
تشریح طلب اقتباس مصنف رشیداحمد صدیقی کے اس خط سے اخذ کیا گیا ہے جو انھوں نے اپنے دوست اور علی گڑھ کے ساتھی پروفیسر سید بشیرالدین کے نام ان کے خط کے جواب میں لکھا تھا۔ مصنف مکتوب الیہ پروفیسر بشیرالدین کو مخاطب کرکے لکھتے ہیں کہ اپنے خط کے بیچ میں اپنے بزرگوں کے طور طریقوں اور اپنے تعلیمی مراحل کے حوالے سے جو باتیں بیان کی ہیں ان سب سے جتنا میں واقف ہوں اتنا ہی آپ ان سے عملی طور پر گزر چکے ہیں۔ایک جیسے حالات ، رجحانات اور ایک جیسے مواقع میسر آنے کی بدولت جن کتابوں اور ہمارے سرپرستوں اور بڑوں نے آپ کو متاثر کیا تقریباً اتنا ہی ان سے میں متاثر ہوا ہوں۔ان مشترکات کے ساتھ جب ہم نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو میں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوگیا جبکہ آپ کو لائبریری کے انتظام اور نظم و نسق سنبھالنے کا موقع میسر آیا۔لائبریری کے منتظم کی حیثیت سے آپ نے کتابوں کی دولت اور امانت کا حق کماحقہ ادا کیا۔
آپ کے ان مخلصانہ طورطریقوں کی بدولت آپ کو ہندوستان بھر میں وہ اعلیٰ مقام ملا کہ لوگ آپ جیسی نامور شخصیت سے اپنے معاملات میں مشاورت کرنے اور آپ کی مدد حاصل کرنے کے متمنی نظر آتے تھے۔لوگوں کی طرف سے لگاتار اور مسلسل آپ سےمشاورت اور امداد کی توقع بڑھتی رہی کیونکہ وہ آپ کے مخلصانہ طرزعمل سے متاثر تھے۔ جیسا کہ قول ہے:
" اچھے انسان سے لوگ ہمیشہ اچھائی اور بھلائی کی امید لے کر آتے ہیں۔"

No comments:
Post a Comment