03065976174 سبق: خطوط رشیداحمدصدیقی aufsurani.blogspot.com
پیراگراف نمبر5
اقتباس
موجودہ صدی کی ابتدا میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تفریحی کتابیں ہوتیں۔
حوالۂ متن
سبق کا عنوان: خطوط رشیداحمدصدیقی
مصنف کا نام: رشیداحمدصدیقی
صنف: خطوط نگاری
مرتب کردہ: ڈاکٹرسلیمان اطہرجاوید
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
صدی ۔۔۔۔۔ ایک سو سال۔ ابتدا ۔۔۔۔۔ شروع، آغاز۔
متوسط ۔۔۔۔۔ درمیانہ، اوسط درجے کا۔ نقشہ ۔۔۔۔۔ نمونہ۔
مشترک ۔۔۔۔۔ ساجھی، باہمی۔ خصوصیات ۔۔۔۔۔ خصوصیت کی جمع، خوبیاں، اچھائیاں۔
روایات ۔۔۔۔۔ روایت کی جمع، طور طریقے۔ رجحانات ۔۔۔۔۔ رجحان کی جمع، میلان، لگاؤ، جھکاؤ۔
سرچشمہ ۔۔۔۔۔ مرکز، منبع، محور۔ مذہب ۔۔۔۔۔ دین۔
اخلاق ۔۔۔۔۔ خلق کی جمع، اچھائیاں۔ تہذیب ۔۔۔۔۔ تمدن، سلیقہ۔
پیروی ۔۔۔۔۔ اطاعت، فرماں برداری۔ اطراف ۔۔۔۔۔ طرف کی جمع، اردگرد۔
جوانب ۔۔۔۔۔ جانب کی جمع، اطراف، گردونواح۔ بھلے ۔۔۔۔۔ اچھے، بہتر۔
نتائج ۔۔۔۔۔ نتیجہ کی جمع، صلہ، حاصل، ثمرہ۔ نمونے ۔۔۔۔۔ مثالیں۔
نمائندے ۔۔۔۔۔ ترجمان۔ تعلیم و تربیت ۔۔۔۔۔سکھانے اور پڑھانے کا عمل۔
مکتبوں ۔۔۔۔۔ مکتب کی جمع، مدرسوں، درس گاہوں بالعموم ۔۔۔۔۔ عام طور پر۔
مطالعہ ۔۔۔۔۔ پڑھائی۔ ذخیرہ ۔۔۔۔۔ جمع شدہ۔
تشریح:
رشیداحمدصدیقی اردو زبان کے بلندپایہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب طرز انشاپرداز تھے۔بنیادی طور پر وہ مزاح نگار تھے۔طنزوظرافت اور سنجیدہ مزاح میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔انھوں نے جہاں خوب صورت شخصی مرقعے تحریر کیے وہیں اپنے دوستوں کے نام بےشمار خطوط بھی لکھے ہیں۔
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" خطوط رشیداحمدصدیقی " کے اُس خط سے سے اخذ کیا گیا ہے جو رشیداحمد صدیقی نے اپنے دوست اور علی گڑھ یونیورسٹی کے ساتھی پروفیسر سیدبشیرالدین کے نام جوابی خط کے طور پر لکھا ہے۔مصنف اپنے اس خط کے اندر برصغیر میں بیسویں صدی کے مسلمان گھرانوں کا تاریخی پس منظر عیاں کرتا ہے۔مصنف کہتا ہے کہ بیسویں صدی کے ابتدائی تیس سے چالیس سال تک متوسط اور درمیانے درجے کی زندگی گزارنے والے مسلمان گھرانوں کو ان گرم و سرد حالات کا سامنا کرنا پڑا جن کا ذکر آپ نے اپنے خط میں کیا تھا۔گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے حالات کی مشکلات ہوں یا آسانیاں اس کا متوسط طبقے پر ہمیشہ زیادہ اثر پڑا ہے۔وہ ان حالات کا ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کرتے آئے ہیں کیونکہ دکھ اور سکھ زندگی کاحصہ ہیں ان سے نبردآزما ہونا ہی پڑتا ہے۔ بقول شاعر
؎ خوشی کے ساتھ دنیا میں ہزاروں غم بھی ہوتے ہیں
جہاں بجتی ہے شہنائی وہاں ماتم بھی ہوتے ہیں
ان مسلمان خاندانوں کے جہاں دکھ سکھ ایک جیسے تھے وہیں ان کی تہذیب و تمدن، ان کی خوبیاں اور ان کے میلانات بھی تقریباً ایک جیسے تھے۔دین اسلام کے پیروکار ہونے کے ناطے ان کی تمام تر خصوصیات اور میلانات کا ایک جیسا ہونا فطری امر تھا۔دین، اخلاق اور اپنی تہذیب و تمدن کو اپنانے جیسی نمایاں خصوصیات رکھنے والے حقیقی نمونے اور ترجمان ہر مشترک خاندان کے لوگوں میں چند دنوں پہلے تک مل جاتے تھے لیکن اب خال خال ملتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے دین اسلام اور اخلاقیات کی حقیقی روح سے قدرے دوری اختیار کرلی ہے۔دین اسلام اور اخلاقیات کے اپنانے کے جہاں اچھے نتائج سامنے آتے تھے وہیں ان سے دوری کے برے نتائج بھی سامنے آتے ہیں اور آ رہے ہیں۔ جیساکہ حضرت علیؓ کا فرمان ہے:
" نیک کام کرنے والا خود اس کام سے بہتر اور برے کام کرنے والا خود اس برائی سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ "
جب مسلمان حسن اخلاق اور بہتر تہذیب و تمدن کے حامل تھے تب ان کی ابتدا ہی سے بہترین تعلیم و تربیت گھروں میں یا مسلمانوں کی مشترک درس گاہوں میں ہوتی تھی۔ اس وقت عام طور پر مساجد ہی درس گاہ کا ذریعہ ہوتی تھیں۔ لوگ اگر مزید پڑھنے اور تعلیم حاصل کرنے کا شغف رکھتے تو وہ اس مقصد کےلیے گھروں میں جمع کی گئی مذہبی ، اخلاقی اور تفریح مہیا کرنے والی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔یہ کتابیں بھی ان کے اخلاق سنوارنے اور ان کی بہتر تربیت کرنے کا نمایاں سبب بنتی تھیں۔ جیسا کہ علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں:
" مطالعہ انسان کےلیے اخلاق کا معیار ہے ۔"

No comments:
Post a Comment