Tuesday, November 5, 2019

جماعت نہم اردو سبق امتحان تشریح پیراگراف نمبر14




سبق : " امتحان"

پیراگراف نمبر14


اقتباس: 

امتحان ختم ہوا اور امید نمبر ایک اور دو کا خون................ لڑکے سے کہو کہ وہ خود کوشش کرے۔

  

حوالہ متن:

 سبق کا عنوان: امتحان

مصنف کانام: مرزا فرحت اللہ بیگ

صنف: مضمون

ماخذ: مضامین فرحت


خط کشیدہ الفاظ کے معانی

خون ہونا.......غارت ہونا

سوجھی......خیال آیا،ترکیب آئی

زبردست.......شاندار، بہترین

چٹھی....... رقعہ

سفارش.........مدد، رسائی

اخلاق.......طور طریقے

دریافت کرنا......پوچھنا

عرض کرنا.......کہنا، بات کرنا

خادم زادہ......خادم کا بیٹا

خانہ زاد........تابع دار، فرماں بردار

ممنون.......احسان مند، شکرگزار

ممنون احسان......بھلائی پر شکرگزار

بندہ خدا........اللہ کا بندہ


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق " امتحان" کے آخری حصے سے اخذ کیاگیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کہتا ہے کہ " لاکلاس" کے امتحان میں پرچہ دینے کے بعد میں والد صاحب سے پرچے کی سختی کی شکایت کرتا تو میرے والد صاحب میری تسلی کےلیے ممتحن کو برابھلا کہتے۔امتحان کے دوران تمام امیدوں پر پانی پھر جانے کے بعد میرے والد سفارشی چٹھی لے کر ممتحنوں کے پاس پہنچ گئے جہاں انھیں ندامت کا سامنا کرنا پڑا۔

 

تشریح:

مرزا فرحت اللہ بیگ اردو کے نامور ادیب تھے۔ ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا تھا۔" امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات، اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔

     تشریح طلب اقتباس کے اندر مصنف اپنے " لاکلاس" کے امتحان کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب میرا امتحان ختم ہوا اور اس میں کامیابی حاصل کرنے کی پہلی امید "امداد غیبی" اور دوسری امید "پرچوں کی الٹ پھیر " بر نہ آئی بلکہ دونوں امیدیں غارت ہوکر رہ گئیں اور امتحان میں ناکامی واضح نظر آنے لگی تو ہم نے سوچا کہ ممتحنوں کے پاس جاکر سفارش کی کوشش کریں۔ چناں چہ والد صاحب ایک بہترین سفارشی رقعہ لے کر ایک صاحب کے پاس پہنچ گئے۔ اس نے رقعہ دیکھا اور نہایت ادب و احترام سے والد صاحب کو بٹھایا اور اپنے آنے کی وجہ پوچھی تو والد صاحب نے اپنا مدعا بیان کرنا شروع کیا کہ مجھ خدمت گزار کے بیٹے نے اس سال امتحان دیا ہے تو اگر آپ اس سلسلے میں اس کی مدد کرکے اس کےلیے کچھ کوشش کریں تو میں آپ کا تابع دار اور خدمت گزار رہنے کے ساتھ ساتھ آپ کے احسان کا بھی شکرگزار رہوں گا۔

        میرے والد صاحب کی یہ بات سن کر وہ صاحب بہت ہنسے اور دوسرے لوگوں سے جو اس سے ملنے آئے ہوئے تھے کہنے لگے کہ یہ صاحب بڑی عجیب درخواست لے کر میرے پاس آئے ہیں کہ امتحان تو ان کے بیٹے دیا ہے مگر یہ چاہتے ہیں کہ اس کی کامیابی کےلیے کوشش میں کروں۔ ارے اللہ کے بندے اپنے بیٹے سے کہو کہ اگر کامیابی چاہتے ہو تو اس کےلیے تم خود محنت اور کوشش کرو کیونکہ حقیقی کامیابی خود محنت کرنے سے آتی ہے نہ کہ دوسروں کی کوشش سے۔ بقول حالی


محنت کرو عزیزو محنت سے کام ہوگا

کہتے ہیں بخت جس کو آکر غلام ہوگا

جماعت نہم اردو سبق امتحان تشریح پیراگراف نمبر13


سبق: " امتحان"

پیراگراف نمبر13


اقتباس:

میں تو ہر روز آدھا گھنٹا کے بعد ہی ............ممتحن کو بہت کچھ برابھلا کہتے۔


حوالہ متن:

سبق کا عنوان: امتحان

مصنف کا نام: مرزا فرحت اللہ بیگ

صنف: مضمون

ماخذ: مضامین فرحت


خط کشیدہ الفاظ کے معانی

مصیبت.....تکلیف، دکھ

صحن......آنگن

رعب......دبدبہ

قہر.......غضب، ظلم

قہر درویش برجان درویش..........اپنے آپ پر غصہ نکالنا

شکایت ........شکوہ،گلہ

تشفی.......تسلی، تسکین

ممتحن.......امتحان لینے والے

برابھلا کہنا.......کوسنا


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق" امتحان" کے درمیان سے اخذ کیاگیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کہتا ہے کہ میں نے جب بھی دوران امتحان ادھر ادھر سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی تو گارڈ صاحب اسے ناکام بنانے پر تلے رہے۔مجھے ان سے قلبی نفرت ہوگئی تھی۔پرچہ دینے کے بعد اپنے باپ سے سختی کی شکایت کی تو وہ ممتحنوں کو برابھلا کہتے۔انھیں میری کامیابی کا پختہ یقین تھا۔


تشریح:

مرزا فرحت اللہ بیگ کا شمار اردو کے نامور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا ہے۔" امتحان "ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات،اس کی اہمیت اور دوران امتحان کے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔

       تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ امتحان کے دوران  امتحانی کمرے میں چھے گھنٹے لگاتار بیٹھنا بہت مشکل ہوتا ہے وہ بھی ایسے وقت میں جب کچھ یاد ہی نہ ہو۔میری تو یہ خواہش ہوتی کہ میں کمرے سے آدھا گھنٹے میں ہی باہر نکل آؤں لیکن میں ایسا اس لیے نہیں کرسکتا تھا کیونکہ میرے لیے مشکل یہ تھی کہ والد صاحب روز گیارہ بجے وہیں پہنچ جاتے اور نیچے آنگن میں بیٹھ کر میرا انتظار کرتے رہتے۔ اگر میں اپنی خواہش کے مطابق جلدی باہر چلا جاتا تو وہ میری نالائقی کو سمجھ جاتے اور دوسال سخت محنت کرنے کا جو تاثر میں نے انھیں دیا ہوا تھا جس سے وہ مرعوب بھی ہوچکے تھے تو وہ سب غارت ہوجاتا۔


" وہ رعب اور دبدبہ جس کی حقیقت اور اصلیت کچھ نہ ہو اپنے لیے درد سر بن جاتا ہے"۔


اس لیے میں اپنی نالائقی کا غصہ خود پر نکالتے ہوئے مجبوراً آخری وقت تک کمرہ امتحان کے اندر بیٹھا رہتا تھا۔ بقول شاعر


احباب کو دے رہا ہوں دھوکا

چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں


         مصنف کہتا ہے  جب پرچہ ختم ہونے کے بعد میں کمرے سے باہر آتا تو والد صاحب سے شکایت کرتا کہ پرچہ بہت سخت اور مشکل تھا اور وہ مجھے تسلی دینے کےلیے امتحان لینے والوں کو کوستے کہ وہ ایسے برے اقدامات کرتے ہیں۔ ضرب المثل ہے۔

" ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا".

Monday, November 4, 2019

جماعت نہم اردو سبق " امتحان" تشریح پیراگراف نمبر12


سبق: " امتحان"
پیداگراف نمبر12

اقتباس:
ان کا مسکرانا پہلے تو اچھا............چھے گھنٹے گزارنے کیسے مشکل ہوں گے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کانام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
زہر ہونا...... بھلا نہ لگنا، پسند نہ آنا،
واللہ......اللہ کی قسم
مصیبت ہونا.......تکلیف دہ ہونا
قلبی......دلی طور پر
نفرین....... نفرت
قلبی نفرین.......دلی نفرت
ظالم......جابر،ظلم کرنے والا
مشکل......کٹھن٬دشوار

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " امتحان" کے آخری حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس اقتباس کا سیاق و سباق یہ ہےکہ " لاکلاس" کے امتحان کے دوران جب مصنف نے گارڈ سے سوال کا جواب پوچھا تو اس نے بتانے سے انکار کردیا اور ساتھ ہی مصنف پر کڑی نظر جمالی۔ اس پر مصنف کو اس سے سخت نفرت ہوگئی اور تیاری نہ ہونے کے سبب مصنف کا دل چاہتا تھا کہ وہ آدھے گھنٹے میں کمرہ امتحان سے نکل جائے۔

تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ اردو کے نامور ادیب تھے۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا تھا۔" امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات، اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔
      تشریح طلب اقتباس میں مصنف اپنے " لاکلاس" کے امتحان کے دوران کمرہ امتحان کے اندر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب گارڈ نے مجھے سوال کا جواب بتانے سے انکار کر دیا اور میرے قریب سے ہلنے کا نام تک نہ لینے لگا تو اس کی مسکراہٹ جو پہلے بھلی لگتی تھی اب  مجھے تکلیف دینے لگی اور وہ مجھے ذرا بھی بھلا نہیں لگ رہا تھا۔میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس کے انکار کے بعد مجھے زندگی بھر اتنی اور کسی سے دلی نفرت نہیں ہوئی جیسے اس گارڈ سے ہوگئی تھی۔

"کسی سے وابستہ توقع پوری نہ ہو تو دل اس سے مایوس ہوجاتا ہے".

       مصنف کہتا ہے کہ الغرض اس طریقے سے امتحان کے تمام دن گزر گئے کہ نہ خود اچھا لکھ سکا اور نہ گارڈ صاحب کی وجہ سے کسی سے پوچھنے کا موقع مل سکا۔اب آپ ہی میری حالت کو بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ جب لکھنے کو کچھ بھی یاد نہ ہو تو ایسے ظالم وجابر اور سخت آدمی کے ساتھ امتحانی کمرے میں پورے چھے گھنٹے گزارنے میں کتنی مشکل پیش آتی ہوگی۔ بقول شاعر

یونہی وقت سو سو کے ہیں جو گنواتے
وہ خرگوش کچھوؤں سے ہیں زک اٹھاتے۔

جماعت نہم اردو سبق" امتحان" تشریح پیراگراف نمبر11


سبق:"امتحان
پیراگراف نمبر11

اقتباس:
جب دوسروں سے مدد ملنے کی توقع...............مگر وہ کب ہٹنے والے تھے، قطب ہوگئے۔

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
توقع........امید، آس
منقطع.......ختم ہونا،تعلق ٹوٹنا
دریافت کرنا......پوچھنا، معلوم کرنا
زور سے...... عروج پر
لحاظ..... شرم، پاسداری
ٹہلنا........چہل قدمی کرنا
قطب ہونا...... جم جانا، نہ ہلنا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" امتحان" کے درمیان سے اخذ کیاگیا یے۔اس اقتباس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کی " لاکلاس" کے امتحان کے دوران تیاری نہ ہونے کی وجہ سے برابر والے سے پوچھنے کی کوشش ناکام ہوئی تو اس نے گارڈ سے پوچھنے کا فیصلہ کرلیا مگر اس نے بھی کچھ بتانے سے انکار کردیا جس سے وہ مصنف کو زہر لگنے لگا اور مصنف اس سے قلبی نفرت کرنے لگا۔

تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ اردو کے نامور ادیب تھے۔ ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا تھا۔" امتحان " ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات،اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔
     تشریح طلب اقتباس کے اندر مصنف اپنے " لاکلاس" کے امتحان کے وقت کمرہ امتحان کے اندر کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ " اصول قانون" کے پرچے کے دوران گارڈ صاحب نے برابر والے سے پوچھنے کی میری کوشش میں رکاوٹ ڈال دی اور جب دوسروں سے مدد ملنے کی توقع ختم ہوگئی اور مدد کے کوئی آثار باقی دکھائی نہ دیے تو میں نے براہ راست گارڈ صاحب سے ہی سوال کے جواب پوچھنے کی ٹھان لی۔
"
جب کشتی منجھدار میں پھنس جائے اور بچنے کی صورتحال مخدوش ہو جائے تو حالات کا کھل کر مقابلہ کرنا پڑتا ہے".

     چناں چہ اس مقصد کےلیے میں کھڑا ہوگیا۔ گارڈ صاحب میرے پاس آئے تو میں نے ان سے دوسرے سوال کا جواب پوچھ لیا۔اس پر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ مجھے تو اس کا جواب معلوم نہیں۔اس پر میں نے دیدہ دلیری سے کہا کہ میرے پاس والا تو بہت ہی اچھا لکھ رہا ہے آپ اس سے جواب پوچھ دیں اور اگر آپ کو ان سے سوال کا جواب پوچھنے میں عار اور شرم محسوس ہوتی ہے تو آپ میرے سر پر سوار ہوکر کھڑے رہنے کی بجائے ادھر ادھر چہل قدمی کرلیں اور میری راہ میں حائل نہ ہوں تو میں خود اس سے سوال کا جواب پوچھ لوں گا۔ مگر انھوں نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا اور ادھر ادھر جانے کی بجائے وہیں میرے قریب جم کر کھڑے ہوگئے تاکہ میں پاس والے سے پوچھنے کی جسارت نہ کرسکوں۔ میری ان سے جو توقع تھی وہ ختم ہوگئی اور وہ مجھے زہر لگنے لگے۔ بقول شاعر

سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے
کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا انسان سے ہوتا ہے

جماعت نہم اردو سبق " امتحان" تشریح پیراگراف نمبر10


سبق: " امتحان"
پیراگراف نمبر10

اقتباس:
میں نے قلم اٹھا کر لکھنا شروع کر دیا..........سر پر ہی کھڑے رہتے تھے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کانام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
اصول........قاعدہ، قانون
رائے......تجویز
مقنن.......قانون بنانے والا، قانون دان
تجویز.......رائے
پابند کرنا.........لاگو کرنا، عائد کرنا،لازم کرنا
نگاہ.......نظر، دید
تاڑ گئے........تاک گئے،جان گئے
بلا.......مصیبت
ناگہانی.......اچانک آنے والی
بلائے ناگہانی......اچانک آنے والی مصیبت

سیاق وسباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" امتحان" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔اس اقتباس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کہتا ہے کہ امتحانی کمرے میں پرچہ حل کرتے وقت مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ کس چیز کا پرچہ ہے۔گارڈ صاحب نے پرچے کے عنوان پر انگلی رکھی تو معلوم ہوا کہ " اصول قانون" کا پرچہ ہے۔میں نے پرچے کو برابر والے سے پوچھ کر حل کرنے کی کوشش کی جو گارڈ کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔ بالآخر میں نے براہ راست گارڈ صاحب سے ہی پوچھنے کا فیصلہ کرلیا۔
 
تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ اردو کے نامور ادیب تھے۔ ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا تھا۔" امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات،اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔
   تشریح طلب اقتباس میں مصنف اپنے " لاکلاس " کے امتحان کے وقت امتحانی کمرے کے اندر کی صورتحال بیان کرتا ہے کہ جب مجھے پتا چلا کہ پرچہ " اصول قانون" کا ہے تو میں نے اپنا قلم اٹھایا اور بلا سوچے سمجھے لکھنا شروع کردیا کیونکہ "اصول" کا موضوع ایسا ہے کہ اس کےلیے کسی کتاب کے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس مضمون پر ہر شخص اپنی تجویز اور رائے دے سکتا ہے کہ اصول کیوں اور کیسے ہونے چاہییں  اور یہ کہ اصول بنتے ہی ٹوٹنے کےلیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک قانون دان ایک اصول معاشرے میں قائم کرکے اسے لاگو کراتا ہے تو دوسرا شخص اسے من و عن تسلیم نہیں کرتا اور اس اصول کو توڑ دیتا ہے اور اس پر اپنی الگ رائے قائم کر لیتا ہے۔
    چناں چہ اسی وجہ سے ہم اپنی تجویز کو کسی دوسرے کی رائے یا تجویز کا پابند نہیں کرسکتے۔ اس وجہ سے میں نے " اصول" کے متعلق خود سے لکھنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ والے سے بھی کچھ پوچھنے کی جسارت کی اور نگرانوں اور گارڈ کی نظروں سے محفوظ رہنے کے لیے ادھر ادھر بھی نظر گھماتا رہا۔ کسی دانا کا قول ہے:
"دوسروں کو دھوکا دینے والا درحقیقت خود کو دھوکا دے رہا ہوتا ہے".
     وہاں موجود گارڈ صاحب میری تمام کیفیت سے اچھی طرح واقف ہوگئے اوروہ میرے سر پر ایسے کھڑے ہوگئے جیسے بن بلائی مصیبت اچانک ہمارے گلے پڑ گئی ہو۔اس نے ذرا بھی ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش ناکام بنادی اورمیں مصیبت میں پڑگیا۔
 بقول شاعر
یونہی وقت سو سو کے ہیں جوگنواتے
وہ خرگوش, کچھوؤں سے ہیں زک اٹھاتے۔

جماعت نہم اردو سبق امتحان "تشریح پیراگراف نمبر 8


سبق: امتحان
پیراگراف نمبر8

اقتباس:
بعض کم حیثیت ملازم ..............ان پر بھروسا کرنا نادانی ہے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کا نام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
بعض.......کچھ، چند
حیثیت........درجہ، رتبہ،مقام
باامید.........امید رکھتے ہوئے،آس کے ساتھ
تدبیر.........سوچ بچار،فہم و فراست
تقدیر.....قسمت،نصیب
مسئلہ.......معاملہ
کارروائی.......کارگزاری
صورت......شکل
بھروسا......اعتماد
نادانی......بےوقوفی

سیاق وسباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" امتحان" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کہتا ہے امتحانات کے دوران امداد غیبی یا پرچوں کی الٹ پھیر سے کامیابی مل سکتی ہے کیونکہ بعض شریف ملازم بھی انعام کی لالچ میں پرچہ بدل دیتے ہیں۔اسی امید کے ساتھ مصنف جب امتحانی کمرے میں داخل ہوا تو وہاں اسے ہنس مکھ نگران کار ملے۔

تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ اردو ادب کے نامور مصنف تھے۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا ہے۔" امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات اور اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں.
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف امتحانات کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ امتحان میں شریک ہونے والے کی اگر پڑھائی میں تیاری اچھی نہ ہو تو وہ پرچوں کی الٹ پھیر اور امتحانی کمرے میں کتاب کے سہارے سے کامیاب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔پرچوں کی الٹ پھیر کے حوالے سے کچھ معمولی درجے کے شریف ملازم بھی مل جاتے ہیں جو انعام کی امید سے پرچہ دوسرے طالب علم کے ساتھ بدل دیتے ہیں۔اس طرح کے کام کرنے سے ایک ایماندار اور محنت سے پڑھنے والے کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کا حق سلب ہوجاتا ہے۔

"دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنا ظلم ہے"۔

اس اقدام سے محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا حقیقی اجر نہیں ملتا۔اس طرح کی سوچ سے کام کرنے والے کی تدبیر اگر کامیاب ہوجائے تو وہ کھرا ہوجاتا ہے لیکن اگر اس کے مقدر میں ایسا ہونا نہ لکھا ہو تو وہ اپنا سا منھ لے کے رہ جاتا ہے۔ قسمت اچھی ہو تو یہ کام آسانی سے ہو جاتا ہے اور اگر قسمت اچھی نہ ہو تو ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ بقول شاعر

جو چل جائے تدبیر بنے جو ٹل جائے تقدیر بنے
اس بات کو اصغر کیا سمجھیں یہ بات نہیں سمجھانے کی

مصنف کہتا ہے کہ امتحان میں پرچوں کی الٹ پھیر اور کتاب کے سہارے کے علاؤہ اور بھی کئی طریقے ہوسکتے ہیں مگر ان پر توکل کرکے امتحان میں جانا سراسر نادانی کے علاؤہ کچھ بھی نہیں۔  بقول شاعر

نہیں آساں منزل تک رسائی

سفر پاؤں کے چھالے مانگتا ہے۔

جماعت نہم اردو سبق "امتحان" تشریح پیراگراف نمبر7


سبق: امتحان

پیراگراف نمبر7


اقتباس: 

شاید وہ حضرات جو امتحان میں کبھی شریک..........تقدیر سب کچھ آسان کر دیتی ہے۔


حوالہ متن:

سبق کا عنوان: امتحان

مصنف کانام: مرزا فرحت اللہ بیگ

صنف: مضمون

ماخذ: مضامین فرحت


خط کشیدہ الفاظ کے معانی

شریک......شامل ہونا

مضمون......موضوع، عنوان

وضاحت.....تفصیل

عرض کرنا......کہنا

ذرا......تھوڑا

امداد غیبی.......غیب سے ملنے والی مدد

اصطلاح...... کسی لفظ کا خاص مفہوم

مدد......امداد، سہارا

نیک ذات...... شریف آدمی

عندالمواقع.......عین موقع پر

الٹ پھیر.........بدلنا،تبدیل کرنا، 

بظاہر......ظاہرا، دیکھنے میں

مشکل.....دشوار، کٹھن

تقدیر...... قسمت


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق "امتحان" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کو " لاکلاس " کے امتحان میں امداد غیبی اور پرچوں کی الٹ پھیر سے ہی کامیابی کی توقع تھی اور اس کے ساتھ ساتھ بعض شریف اور کم حیثیت ملازم کے ذریعے پرچہ بدلنے کی آس لیے بیٹھا تھا۔

   

تشریح:

مرزا فرحت اللہ بیگ کا شمار اردو کے نامور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا ہے۔" امتحان "ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات،اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔

    تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ جب وہ قانون کے امتحان کےلیے مقام امتحان پہنچا تو امتحان کی تیاری نہ ہونے کے سبب اسے امتحان میں کامیابی کی امید دو طرح سے تھی۔ ایک غیبی امداد اور دوسری پرچوں کی الٹ پھیر۔

     مصنف کہتا ہے کہ جن لوگوں کو امتحانات سے واسطہ نہیں پڑا اور جنھوں نے کبھی امتحانات دیئے ہی نہیں وہ میری امدادغیبی اور پرچوں کی الٹ پھیر والی بات کو نہ سمجھ سکیں گے۔اس لیے ان لوگوں کی آسانی کےلیے اپنی بات وضاحت سے کہتا ہوں کہ " امداد غیبی" امتحانی نکتہ نگاہ سے وہ مدد ہوتی ہے  جو پرچہ حل کرنے والوں کو ایک دوسرے سے یا کسی اچھی صفت کے حامل نگران سے یا عین موقع کے اوپر کتاب مل جانے سے پہنچ جاتی ہے۔ جس سے سارا پرچہ حل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

   مصنف کہتا ہے کہ امتحان کے دوران اگر پرچوں کی الٹ پھیر سے ہی کام چلانا ہو تو ظاہری طور پر یہ کام بہت مشکل دکھائی دیتا ہے کہ نگران ایسا آسانی  سے ہونے نہیں دیتے لیکن جب انسان کی قسمت اچھی ہو اور تقدیر اس کا ساتھ دے رہی ہو تو یہ کام بھی آسان ہونا ہے ورنہ انسان اپنی بدنصیبی کو روتا ہے۔ بقول شاعر


جو چل جائے تدبیر بنے،جو ٹل جائے تقدیر بنے

اس بات کو اصغر کیا سمجھیں یہ بات نہیں سمجھانے کی۔

پیراگراف نمبر8 خطوط غالب

                     03065976174            سبق:    خطوط غاؔلب               aufsurani.blogspot.com                                         ...