Wednesday, December 25, 2019

جماعت نہم اردو سبق" نصوح اور سلیم کی گفتگو" تشریح پیراگراف نمبر4


سبق: نصوح اور سلیم کی گفتگو
پیراگراف نمبر4

اقتباس:
بیٹا برا مت منانا...........مجھ کو جتا دینا ضرور تھا۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: نصوح اور سلیم کی گفتگو
مصنف کانام: ڈپٹی نذیر احمد دہلوی
صنف:    ناول
ماخذ:   توبتہ النصوح

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
بھلے مانسوں.......شریف لوگوں
دستور......طریقہ کار، اسلوب
ٹوکتی......منع کرتی، روکتی
جتانا......باور کرانا، سمجھانا،تاکید کرنا
ضرور......لازم

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" نصوح اور سلیم کی گفتگو" کے آخری حصے سے لیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ جب سلیم اپنے ہم جماعت کے گھر گیا تو اس نے وہاں اس کی نانی کو سلام نہ کیا ۔جس پر اس کی نانی نے سلیم کو نصیحتیں کیں اور اسے سمجھایا اور ساتھ میں لمبی زندگی کی دعا دی اور مٹھائی بھی کھلائی۔ اس کے اس حسن سلوک کی وجہ سے سلیم کا دل تمام کھیلوں سے کھٹا ہوگیا۔

تشریح:
ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کا شمار اردو کے ابتدائی ناول نگاروں میں  ہوتا ہے۔ انھوں نے ہمیشہ اصلاحی ناول لکھے۔" نصوح اور سلیم کی گفتگو" بھی ان کا ایسا ہی اصلاحی ناول  ہے جس میں وہ انسان کو نیکی ،اچھائی اور اچھے کردار اپنانے کی طرف راغب کرتے ہیں۔
               تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ جب سلیم نے اپنے ہم جماعت کے گھر جا کر اس کی نانی کو سلام نہ کیا تو اس بات کو نانی نے غلط محسوس کرتے ہوئے اسے نصیحت کی کہ بیٹا! میری بات کا برا مت منانا کیونکہ میں منھ لگتی کہ رہی ہوں کہ جو اچھے اور نیک سیرت لوگ ہوتے ہیں ،ان کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے سے بڑے کو سلام کرتے ہیں کیونکہ ہمارا دین اسلام ہمیں یہی کچھ سکھاتا ہے۔جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:
" تم میں سے چھوٹے کو چاہیے بڑے کو سلام کرے، سوار کو چاہیے پیدل کو سلام کرے، کھڑے ہوئے کو چاہیے کہ بیٹھے ہوؤں کو سلام کرے اور تھوڑوں کو چاہیے کہ زیادہ کو سلام کریں".

         نانی جان سلیم سے مخاطب ہوکر مزید کہتی ہیں کہ میں تمھیں نصیحتیں نہ کرتی لیکن چونکہ تم میرے بچوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہو اور ان کے ساتھ تمھارا ملنا ملاپ ہے تو میں نہیں چاہتی کہ وہ بھی ایسا ہی کریں جیسا تم نے کیا۔
جیسا کہ مقولہ ہے:

"آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے".

اس لیے میں نے تمھیں تاکید کی تاکہ تم بھی میرے بچوں کی طرح ہو جاؤ ناکہ وہ غلط کام کی طرف راغب ہوں۔اس وجہ سے میں نے تمھیں سلام کرنے کی تاکید کی اور تمھیں سمجھایا۔ بقول شاعر

حیا سے حسن کی قیمت دوچند ہوتی ہے
نہ ہوں جو آب تو موتی کی آبرو کیا ہے

جماعت نہم اردو سبق " ہجرت نبوی" تشریح پیراگراف نمبر6


سبق: ہجرت نبوی 

پیراگراف نمبر6

اقتباس:

کفار نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا............آج بھی بوسہ گاۂ خلائق ہے۔

حوالہ متن:

سبق کا عنوان:  ہجرت نبوی

مصنف کانام:  مولانا شبلی نعمانی

صنف:   سیرت نگاری

ماخذ:   سیرت النبی

خط کشیدہ الفاظ کے معانی

محاصرہ .......گھیراؤ

بےخبر.......لاعلم، غافل

عزیز.......پیارا

فرزند.....بیٹے

قرارداد......عہد،معاہدہ، عہد و پیمان

جبل....... پہاڑ

پوشیدہ........چھپا ہوا، پنہاں

بوسہ گاۂ خلائق.......لوگوں کے بوسہ دینے کی جگہ، زیارت گاہ

سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق " ہجرت نبوی کے درمیان سے اخذ کیا گیا یے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ اسلام دشمنی میں کفار مکہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کی غرض سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا گھیراؤ کرلیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے ارادے کی خبر ہوچکی تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سے زیادہ لوگوں کی امانتوں کی فکر تھی اس لیے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے بستر مبارک پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سلایا اور خود کفار مکہ کو غافل پاکر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مدینے کی طرف ہجرت فرما گئے اور اس سفر کے دوران تین دن غار ثور میں پناہ لی جہاں حضرت ابوبکر رضہ اللہ عنہ کے  بیٹے،ننھی بیٹی اور غلام مسلسل حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مامور رہے۔

تشریح:

مولانا شبلی نعمانی اردو کے نامور ادیب تھے۔ انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر کتاب سیرت النبی لکھی۔ سبق" ہجرت نبوی " بھی اسی کتاب سے اخذ کیا گیا ہے جس میں مولانا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کا احوال جامع انداز میں بیان کیا۔

          تشریح طلب اقتباس میں مصنف حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ کے دوران کفار مکہ کی طرف سے کیے گئے پروپیگنڈوں کو بےنقاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہجرت کی رات قریش کے کفار نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا گھیراؤ  کر رکھا تھا تاکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذباللہ قتل کیا جاسکے۔جب رات کافی گزر گئی تو اللہ تعالیٰ نے گھیراؤ کرنے والے کافروں کو بےخبر کرکے انھیں غفلت کی نیند سلا دیا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

" اور ہم نے ان کے آگے ایک دیوار اور ان کے پیچھے ایک دیوار بنادی۔ پھر ہم نے ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا سو وہ کچھ نہیں دیکھتے".

   حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم انھیں غفلت میں سوتا ہوا چھوڑ کر باہر تشریف لائے اور خانہ کعبہ کے قریب آکر اسے دیکھا اور  غم زدہ ہوکر فرمایا کہ اے مکہ تو مجھ کو تمام دنیا سے زیادہ پیارا اور عزیز ہے لیکن تیرے فرزند اور یہاں کے باسی مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے۔اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جن سے پہلے ہی ہجرت مدینہ کے متعلق مشورہ اور قول و قرار ہوچکا تھا۔ چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے کر عازم مدینہ ہوئے ۔قریش مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا تعاقب کیا۔اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حفظ ماتقدم کے طور پر غار ثور میں اپنے آپ کو پنہاں فرما لیا۔ 

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے: 

 انھیں  باہر تشریف لے جانا ہوا اور جب وہ دونوں غار میں تھے". (سورت توبہ).

یہ غار آج بھی اسی طرح موجود ہے اور دنیا بھر سے لوگ اس غار کی زیارت کےلیے حاضر ہوتے اور اپنی آنکھوں کو تراوت بخشتے ہیں اور اسے بوسہ دیتے ہیں۔

Friday, December 20, 2019

جماعت نہم اردو سبق نصوح اور سلیم کی گفتگو تشریح پیراگراف نمبر3


سبق: نصوح اور سلیم کی گفتگو
پیراگراف نمبر3

اقتباس:
حضرت بی اپنے پڑھنے سے.............نہایت ادب کے ساتھ سلام کیا۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: نصوح اور سلیم کی گفتگو
مصنف کانام: ڈپٹی نذیر احمد دہلوی
صنف: ناول
ماخذ: توبتہ النصوح

خط کشیدہ الفاظ کے معانی۔
فارغ......بےفکر، آزاد،فرصت پانا
ضرور .......لازم
عمر دراز.......لمبی زندگی
نیک.......پاک صفت
ہدایت.......رہنمائی، نصیحت
غیرت.......حمیت، شرم و حیا
زمین میں گڑنا......شرمسار ہونا
نہایت .......بہت زیادہ
ادب......احترام


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق " نصوح اور سلیم کی گفتگو " کے آخری حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ نصوح نے اپنے بیٹے سلیم سے کھیلوں سے عدم دلچسپی کی وجہ پوچھی تو اس نے اس کی وجہ محلے کے چار لڑکوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب میں ان کے گھر گیا تو ان کی نانی نے مجھے اچھی نصیحتیں کیں اور مجھے دعا دی۔ چاروں لڑکوں کے اچھے طرز عمل اور ان کی نانی کے اچھے سلوک کو دیکھ کر میرا دل کھیلوں سے کھٹا ہوگیا۔

تشریح:
ڈپٹی نذیر احمد کا شمار اردو کے ابتدائی ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔انھوں نے ہمیشہ اصلاحی ناول لکھے۔" نصوح اور سلیم کی گفتگو" ان کا تحریر کردہ ایسا ناول ہے جس میں وہ ایسے خاندان کے متعلق بتاتے ہیں جس کا سربراہ نصوح ہے جو اپنے گھروالوں کی دنیاوی اور اخروی لحاظ سے اصلاح کرنا چاہتا ہے۔
         تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ سلیم اپنے والد نصوح کے پوچھنے پر کھیلوں میں عدم دلچسپی کی وجہ اپنے محلے کے چار لڑکوں کو قرار دیتا ہے۔ان میں سے ایک اس کا ہم جماعت تھا۔ سلیم کہتا ہے کہ میں جب اپنے جماعت سے سبق پڑھنے کی غرض سے جب ان کے گھر گیا تو سلام نہ کرنے پر ان کی نانی نے مجھے نصیحتیں کرنا شروع کردیں۔
        وہ مجھ سے مخاطب ہوکر بولیں کہ بیٹا! اگرچہ تم نے مجھے سلام نہیں کیا اس کے باوجود بھی میں تمھیں دعا دیتی ہوں کہ تم جیتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تجھے لمبی زندگی دے اور نیک سیرت بنائے۔
       ان کی اس طرح کی  بات پر میں اپنے کیے پر سخت شرمسار ہوا۔ 
حدیث مبارکہ ہے:

"تم میں سے چھوٹے کو چاہیے بڑے کو سلام کرے، کھڑے ہوئے کو چاہیے بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور سوار کو چاہیے پیدل کو سلام میں پہل کرے۔"

چناں چہ میں ندامت اور  شرمندگی کے احساسات کے ساتھ اٹھ کر ان کے پاس گیا اور نہایت ادب و احترام سے انھیں سلام کیا۔

بقول شاعر

حیا سے حسن کی قیمت دوچند ہوتی ہے
نہ ہوں آب تو موتی کی آبرو کیا ہے

Wednesday, December 18, 2019

جماعت نہم اردو سبق نصوح اور سلیم کی گفتگو تشریح پیراگراف نمبر 3


سبق: نصوح اور سلیم کی گفتگو

پیراگراف نمبر3


اقتباس:

حضرت بی اپنے پڑھنے سے.............نہایت ادب کے ساتھ سلام کیا۔


حوالہ متن:

سبق کا عنوان: نصوح اور سلیم کی گفتگو

مصنف کانام: ڈپٹی نذیر احمد دہلوی

صنف: ناول

ماخذ: توبتہ النصوح


خط کشیدہ الفاظ کے معانی۔

فارغ......بےفکر، آزاد،فرصت پانا

ضرور .......لازم

عمر دراز.......لمبی زندگی

نیک.......پاک صفت

ہدایت.......رہنمائی، نصیحت

غیرت.......حمیت، شرم و حیا

زمین میں گڑنا......شرمسار ہونا

نہایت .......بہت زیادہ

ادب......احترام



سیاق و سباق:


تشریح طلب اقتباس درسی سبق " نصوح اور سلیم کی گفتگو " کے آخری حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ نصوح نے اپنے بیٹے سلیم سے کھیلوں سے عدم دلچسپی کی وجہ پوچھی تو اس نے اس کی وجہ محلے کے چار لڑکوں کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب میں ان کے گھر گیا تو ان کی نانی نے مجھے اچھی نصیحتیں کیں اور مجھے دعا دی۔ چاروں لڑکوں کے اچھے طرز عمل اور ان کی نانی کے اچھے سلوک کو دیکھ کر میرا دل کھیلوں سے کھٹا ہوگیا۔


تشریح:

ڈپٹی نذیر احمد کا شمار اردو کے ابتدائی ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔انھوں نے ہمیشہ اصلاحی ناول لکھے۔" نصوح اور سلیم کی گفتگو" ان کا تحریر کردہ ایسا ناول ہے جس میں وہ ایسے خاندان کے متعلق بتاتے ہیں جس کا سربراہ نصوح ہے جو اپنے گھروالوں کی دنیاوی اور اخروی لحاظ سے اصلاح کرنا چاہتا ہے۔

         تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ سلیم اپنے والد نصوح کو کھیلوں میں عدم دلچسپی کی وجہ بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی وجہ محلے میں رہنے والے وہ چار لڑکےہیں جن کا طرز معاشرت انتہائی اچھا ہے اور ان میں  سے ایک اس کا ہم جماعت ہے۔ سلیم کہتا ہے کہ میں جب اپنے جماعت سے سبق پڑھنے کی غرض سے ان کے گھر گیا تو سلام نہ کرنے پر ان کی نانی نے مجھے نصیحتیں کرنا شروع کردیں۔

        وہ مجھ سے مخاطب ہوکر بولیں کہ بیٹا! اگرچہ تم نے مجھے سلام نہیں کیا اس کے باوجود بھی میں تمھیں دعا دیتی ہوں کہ تم جیتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تجھے لمبی زندگی دے اور نیک سیرت بنائے۔

       ان کی اس طرح کی  بات پر میں اپنے کیے پر سخت شرمسار ہوا۔ 

حدیث مبارکہ ہے:


"تم میں سے چھوٹے کو چاہیے بڑے کو سلام کرے، کھڑے ہوئے کو چاہیے بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور سوار کو چاہیے پیدل کو سلام میں پہل کرے۔"


چناں چہ میں ندامت اور  شرمندگی کے احساسات کے ساتھ اٹھ کر ان کے پاس گیا اور نہایت ادب و احترام سے انھیں سلام کیا۔


بقول شاعر


حیا سے حسن کی قیمت دوچند ہوتی ہے

نہ ہوں آب تو موتی کی آبرو کیا ہے

Tuesday, December 3, 2019

جماعت نہم اردو سبق ملکی پرندے اور دوسرے جانور تشریح پیراگراف نمبر11


سبق: ملکی پرندے اور دوسرے جانور

پیراگراف نمبر11


اقتباس:

بلیاں دوپہر کو سوجاتی ہیں..........زندگی کتنی عجیب ہے۔


حوالہ متن: 

سبق کا عنوان: ملکی پرندے اور دوسرے جانور

مصنف کانام: شفیق الرحمن

صنف: مضمون

ماخذ: مزید حماقتیں


خط کشیدہ الفاظ کے معانی

دوپہر.....دوسرا پہر

بعض اوقات....   کبھی کبھی

بظاہر...... ظاہراً، ظاہری طور پر

چپکے سے.......چوری چوری

بازپرس...... پوچھ گچھ

خفا......ناراض

سالہا سال........کئی سالوں سے، طویل عرصے سے

اجنبی.......ناواقف

عجیب........انوکھی


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق" ملکی پرندے اور دوسرے جانور" کا آخری پیراگراف ہے۔ اس کا سباق یہ ہے کہ مصنف بلیوں کے بارے میں بتاتا ہے کہ بلیاں گھر میں سارے چوہوں کو ختم کرسکتی ہیں جس سے چوہے تو ختم ہو جائیں گے مگر بلیاں باقی رہ جائیں گیں۔ بلیاں دن بھر میک اپ کرتی رہتی ہیں۔اگر یہ اپنے جسم پر سیدھی دھاریاں بنالیں تو ان کا مٹاپا چھپ سکتا ہے۔بلیاں دوپہر کو سوجاتی ہیں اور انسانوں سے اجنبی رہتی ہیں۔


تشریح: 

اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور مزاح نگار شفیق الرحمن کے مضامین بہت ہلکے پھلکے اور نہایت شائستہ ہوتے ہیں۔ وہ الفاظ کی بازی گری سے کام لینے کی بجائے سادہ، مؤثر اور دلچسپ انداز میں لکھتے ہوئے اپنا مدعا بیان کرتے ہیں جو پڑھنے والے کا دل موہ لیتا ہے۔

تشریح طلب اقتباس میں مصنف نے بڑے ہلکے پھلکے مزاحیہ انداز میں بلیوں کی فطرت کی خوب صورت عکاسی کی ہے۔وہ لکھتا ہے کہ بلیاں دوپہر کو آوارہ نہیں پھرتیں بلکہ آرام سے سوجاتی ہیں۔ وہ اپنی نیند کےلیے رات کا انتظار نہیں کرتیں۔ بعض اوقات بلیاں سونے کا بہانہ بھی کرتی ہیں اور اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سوئی ہوئی بلی چپکے سے ادھر ادھر دیکھتی ہے اور پھر موقع پاتے ہی باہر نکل جاتی ہے۔عام طور پر بلیوں سے ان کی تفریح اور دیگر کاموں کی بابت کچھ پوچھا جائے تو وہ اس کا برا مناتی ہیں اور ناراض ہوجاتی ہیں۔ ایک عالم گیر سچائی ہے 


" باز پرسی اور پوچھ گچھ طبیعت پر گراں گزرتی ہے"


یہی وجہ ہے کہ باز پرسی ہونے پر صرف بلی ہی خفا نہیں ہوتی بلکہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں سے کسی سے بھی پوچھ گچھ کریں تو وہ غم و غصّے کا اظہار کرے گا۔

     انسان اور بلی کا آپس میں گہرا تعلق اور چولی دامن کا ساتھ ہے کیونکہ یہ کئی سالوں سے ایک ہی گھر میں اکٹھے رہتے ہیں مگر ان کی آپس میں بنتی نہیں ہے بلکہ یہ ایک دوسرے سے ناواقف اور لاتعلق رہتے ہیں اورایک دوسرے کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ یہی ان کی زندگی ہے اور زندگی کے کھیل بڑے عجیب ہوتے ہیں۔

جماعت نہم اردو سبق ملکی پرندے اور دوسرے جانور" تشریح پیراگراف نمبر10



سبق: ملکی پرندے اور دوسرے جانور
پیراگراف نمبر10

اقتباس:
بلیاں پالنے والوں کو یہ وہم ہوجاتا ہے.........دوسرے یہاں کیا کرنے آتے ہیں۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: ملکی پرندے اور دوسرے جانور
مصنف کا نام: شفیق الرحمن
صنف: مضمون
ماخذ: مزید حماقتیں

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
وہم........گمان
خواہ مخواہ......... ایسے ہی، بغیر کسی وجہ کے
قیام .......رہائش رکھنا
طعام......کھانا پینا
بندوبست....... اہتمام، انتظام
نکتہ نظر........نظریہ خیال

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " ملکی پرندے اور دوسرے جانور" کے آخری حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کہتا ہے کہ بلیوں کی کئی قسمیں ہوتی ہیں اور بلیوں کی قسمیں گننے والوں کی بھی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔بلیاں دوسروں کا نکتہ نظر بالکل بھی نہیں سمجھتیں۔ بلی کو سال بھر میں سدھایا جاسکتا ہے۔ بلی دودھ پینے والے جانوروں سے تعلق رکھتی ہے۔

تشریح:
اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور مزاح نگار شفیق الرحمن کے مضامین بہت ہلکے پھلکے اور نہایت شائستہ ہوتے ہیں۔وہ الفاظ کی بازی گری سے کام لینے کی بجائے سادہ،مؤثر اور دلچسپ انداز میں اپنا مدعا بیان کرتے ہیں جو پڑھنے والے کا دل موہ لیتا ہے۔
      تشریح طلب اقتباس میں مصنف بلیوں کی خصوصیات اور ان کو پالنے والوں کی سوچ کو ہلکے پھلکے مزاح میں بیان کرتے ہیں کہ بلیوں اور انسان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے اس لیے انھیں بہت سے لوگ اپنے گھروں میں پالتے ہیں۔ جو لوگ بلیوں کو پالتے ہیں اور پالنے کے شوقین ہوتے ہیں وہ اس وہم وگمان اور خوش فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ بلیاں انھیں بغیر کسی وجہ کے اور بلا مشروط پسند کرتی ہیں اور اس کی وجہ یہ بھی نہیں کہ وہ لوگ بلیوں کی رہائش اور کھانے پینے کا اہتمام کرتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک بلیاں دلی لگاؤ کی وجہ سے انھیں پسند کرتی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا بلکہ یہ ان لوگوں کا وہم اور گُمان ہوتا ہے۔کاش کہ بلیاں واقعی انھیں چاہتی ہوتیں تو ان کے وہم و گمان اور خوش فہمی کا بھرم رہ جاتا لیکن بلیوں میں خواہ مخواہ کی چاہت نہیں   پائی جاتی۔
     مصنف مزید کہتا ہے کہ بلیاں دوسروں کے  نظریہ خیال کو بالکل بھی نہیں سمجھ پاتیں اور انھیں اپنی بات اور اپنا خیال سمجھانا ہے بھی بڑا مشکل ہوتا ہے کیونکہ اگر انھیں یہ باور کرانے کی کوشش کی جائے کہ ہمیں دنیا میں بھیجنے کا مقصد دوسروں کی خدمت اور ان کی مدد کرنا ہے۔ جیساکہ شاعر کہتا ہے

اپنے لیے تو سبھی جیتے ہیں اس جہاں میں
ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

تو بلیاں ہمارے اس نکتہ نظر کو بالکل بھی نہیں سمجھ سکتیں اور جب ہمارا یہ خیال ان تک جاتا ہوگا تو ان کا اس پر سوچے سمجھے بغیر ہی ہم سے سوال ہوگا کہ اگر ہم اس دنیا میں دوسروں کےلیے آئے ہیں تو دوسرے یہاں کس مقصد کےلیے آئے ہیں اور یہاں کون سا کام کرنے آئے ہیں۔

جماعت نہم اردو سبق ملکی پرندے اور دوسرے جانور تشریح پیراگراف نمںبر9


سبق: ملکی پرندے اور دوسرے جانور

پیراگراف نمبر9


اقتباس:

سال بھر میں بلی سدھائی............یہ ایک راز ہے جو بلیوں تک محدود ہے۔


حوالہ متن: 

سبق کا عنوان: ملکی پرندے اور دوسرے جانور

مصنف کا نام: شفیق الرحمن

صنف: مضمون

ماخذ: مزید حماقتیں


خط کشیدہ الفاظ کے معانی

سدھائی ہوئی.......تربیت یافتہ

مشقت...تکلیف،محنت

نتیجہ......انجام،حل

قفل.......تالا

راز.......بھید

محدود......ایک حد میں


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس ملکی پرندے اور دوسرے جانور کے آخری حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ بلی کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ بلیاں دوسرے کا نکتہ نظر نہیں سمجھتیں۔بلی کو سال بھر میں سدھایا جاسکتا ہے۔بلیاں آپس میں لڑتے ہوئے ایک دوسرے کا منھ نوچ لیتی ہیں کیونکہ ان میں برداشت کم ہوتی ہے۔


تشریح:

اردو کے ممتاز مزاح نگار اور افسانہ نگار شفیق الرحمن کے مضامین بہت ہلکے پھلکے اور نہایت شائستہ ہوتے ہیں۔وہ الفاظ کی بازی گری کی بجائے سادہ، مؤثر اور دلچسپ انداز میں لکھتے ہوئے اپنا مدعا بیان کرتے ہیں جو پڑھنے والے کا دل موہ لیتا ہے۔

      تشریح طلب اقتباس میں مصنف بڑے جامع اور مزاحیہ انداز میں بلیوں کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ ایک بلی کو تربیت دے کر اور اسے سیکھنے کے مراحل سے گزار کر ویسا پالتو بنایا جاسکتا ہے جیسا آپ چاہتے ہیں۔بلی کو اس طرح تربیت دینے پر سخت محنت لگتی ہے تب جاکر سال بھر میں چند ایک بلیاں سدھائی ہوئی ہو جاتی ہیں۔ان بلیوں کو سدھانے اور انھیں تربیت دینے کا خاص مقصد ہوتا ہے۔انھیں میوزیم میں پیش کرنے کےلیے بھی سدھایا جاتا ہے اور کسی اچھی نمائش کےلیے بھی اسے تربیت دی جاتی ہے مگر سال بھر کی تربیت دینے کی محنت مشقت کے باوجود بھی بلی، بلی ہی رہتی ہے البتہ تربیت یافتہ اور سدھائی ہوئی ہوتی ہے۔

    ہمارے ہاں جتنے بھی دوسرے جانور پائے جاتے ہیں وہ اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں لیکن بلی ایک ایسا جانور ہے جو دودھ پینے والے جانوروں میں شمار ہوتی ہے اور اگر ہم غلطی سے اپنا دودھ باہرکھلا چھوڑ دیں تو باوجود اس کے کہ بلی سدھائی ہوئی اور تربیت یافتہ ہوتی ہے وہ دودھ پی جاتی ہے۔

         دودھ کو اگر مکمل بند کرکے اسے تالا لگا دیا جائے تب بھی بلی اسے پی جاتی ہے جو کہ ہمارے لیے حیران کن بات ہے۔ایسا کیونکر ممکن ہوتا ہے اس بارے میں ہم انسان کچھ کہنے سے قاصر ہیں کیونکہ اس بھید سے صرف بلیاں ہی واقف ہیں کہ تالا بند دودھ تک رسائی کیسے حاصل کرنی ہے؟. برطانیہ کے ڈاکٹر دوسا کےبلیوں کے متعلق انکشاف کرتے ہوئے کہتے ہیں:


" بلیوں کی غیر معمولی حس قبل از وقت مرنے کا بھی  احساس دلا دیتی ہے".


بلی میں اگر واقعی ایسی خصوصیت پائی جاتی ہےتو محض قفل بند دودھ تک پہنچنا تو اس کےلیے کیا بڑی بات ہوسکتی ہے سوائے اس کے کہ یہ ہمارے سامنے ایک راز ہے جس کے متعلق ہم کچھ نہیں جانتے کہ وہ ایسا کیسے کرلیتی ہے؟.

پیراگراف نمبر8 خطوط غالب

                     03065976174            سبق:    خطوط غاؔلب               aufsurani.blogspot.com                                         ...