Tuesday, November 5, 2019

جماعت نہم اردو سبق " لہو اور قالین" تشریح پیراگراف نمبر5


سبق: لہو اور قالین

پیراگراف نمبر5


اقتباس:

میں اپنے ہزاروں ہم پیشہ بھائیوں کی طرح.........مجھے زندگی کی ضروریات سے بےنیاز کردیا۔


حوالہ متن:

سبق کا عنوان: لہو اور قالین

مصنف کا نام: میرزا ادیب

صنف: ڈرامہ

ماخذ: لہو اور قالین


خط کشیدہ الفاظ کے معانی

ہم پیشہ........ایک ہی شعبے سے منسلک

اصرار ....... ضد کرنا

غربت کدہ........غریب خانہ

وقف کرنا........... مخصوص کرنا

بےنیاز........بےپروا،

بےفکر۔

اطمینان........ تسلی،آرام و سکون


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق"لہو اور قالین" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ تجمل نے اختر سے اس کی پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس نے اپنا مکمل حال بتانا شروع کر دیا کہ آپ دوسال پہلے مجھے خستہ حال گھر سے نکال کر اپنے ہاں لے آئے اور مجھے غربت کدے سے نکال کر زندگی کی تمام ضرورتوں سے بےنیاز کردیا اور آپ میرے لیے دیوتا بن کر آئے۔


تشریح:

میرزا ادیب کا شمار اردو ادب کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے ڈراموں میں زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔" لہو اور قالین ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریاکاری جیسے قبیح عوامل اجاگر ہوتے ہیں۔

    تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ اختر تجمل کو اپنا حال بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جس طرح میری طرح کے بےشمار غریب اور کنگال مصور غربت زدہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے بالکل اسی طرح میں بھی غربت اور عسرت کی چکی میں پس رہا تھا اور میری یہ حالت کسی سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔ آپ نے میری اس حالت کا اندازہ لگا لیا کہ مجھ جیسا انسان آسانی کے ساتھ آپ کے کام آسکتا ہے۔اس لیے آپ نے بار بار ضد کی کہ میں اپنے خستہ حال گھر سے نکل کر آپ کے پاس آجاؤں تاکہ آپ کے ہاں اطمینان اور سکون سے فن مصوری کی خدمت کر سکوں۔

      آج بھی میں یہ بات تسلیم کر رہا ہوں کہ آپ نے میرے فن مصوری کےلیے ایک کمرا مخصوص کر دیا جس میں ضرورت کی تمام اشیا مجھے میسر تھیں اور میں ضروریات زندگی سے بےفکر ہوکر اپنے فن کی خدمت میں مگن ہوگیا۔

بقول شاعر 

سدا   روپوش    رہتے    ہیں   وہ   پتھر

عمارت جن کے کاندھوں پر تعمیر ہوتی ہے

جماعت نہم اردو سبق" لہو اور قالین" تشریح پیراگراف نمبر4


سبق : لہو اور قالین
پیراگراف نمبر4

اقتباس:
آپ سب کچھ سمجھ جائیں گے۔ یہ کوئی معما نہیں ہے...............میں ایک مفلس ،قلاش اور گمنام مصور ہوں۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: لہو اور قالین
مصنف کا نام: میرزا ادیب
صنف: ڈرامہ
ماخذ: لہو اور قالین

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
معما.......مسئلہ، پیچیدہ بات
تنگ و تاریک.......چھوٹی اور اندھیرے والی
خستہ.........بدحال بدنما........بد صورت،
مفلس........ نادار، تنگ دست
قلاش......مفلس،نادار
مصور.........تصویر بنانے والا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " لہو اور قالین " کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ اختر کی تصویر کو اول انعام ملنے کے بعد تجمل نے اسے مبارک باد دی تو وہ خوش ہونے کی بجائے تجمل کے ہاں سے اپنے گھر جانے پر بضد ہوگیا۔تجمل کے سمجھانے کے باوجود بھی اختر اپنی بات سے ٹس سے مس نہ ہوا۔بالاخر تنگ کر تجمل نے اس سے اس کی پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس پر اختر نے اپنا مکمل حال تجمل کے سامنے دہرا دیا۔


تشریح:
میرزا ادیب کا شمار اردو کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے ڈراموں میں زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کو اجاگر کیاگیا ہے۔" لہو اور قالین" ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریا کاری جیسے قبیح عوامل اجاگر ہوتے ہیں۔
          تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ جب تجمل نے اختر سے اس کی پریشانی اور ڈاکٹر کو نہ بلانے دینے کی وجہ پوچھی تو اختر نے تجمل سے عرض کی کہ میں جو بات آپ کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ وہ کوئی اتنی پیچیدہ بات نہیں جسے آپ سمجھ نہ سکیں بلکہ آپ سب کچھ اچھی طرح سمجھ جائیں گے بس میری بات کو تسلی سے سنیے۔
            یہاں آنے سے دو سال پہلے میں ایک چھوٹی سی اور اندھیرزدہ گلی کے ایک پرانے گھر میں رہتا تھا جوکہ انتہائی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا اور دیکھنے میں بھی بھلا نہیں لگتا تھا۔
        وہاں مجھے لوگ زیادہ نہیں جانتے تھے اور جو کم لوگ مجھے جانتے بھی تھے تو انھیں محض اتنا معلوم تھا کہ میں ایک غربت، مسکینی اور گمنامی کی زندگی بسر کرنے والا مصور ہوں۔

بقول شاعر
میری غربت نے اڑایا میرے فن کا مذاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں

جماعت نہم اردو سبق" لہو اور قالین" تشریح پیراگراف نمبر 3


سبق: لہو اور قالین

پیراگراف نمبر3


اقتباس:

آپ ابھی تک اسے مذاق سمجھ رہے ہیں.............ایک بھی میری نہیں ہے۔


حوالہ متن:

سبق کا عنوان: لہو اور قالین

مصنف کا نام: میرزا ادیب

صنف: ڈرامہ

ماخذ: لہو اور قالین


خط کشیدہ الفاظ کے معانی۔

مذاق......... مزاح

نارمل......... ذہنی طور پر ٹھیک

رخ........پہلو، شکل

بھیانک........ خوف ناک

خوف ناک........خوف زدہ کرنے والی، بھیانک

تصورات........ تصور کی جمع، خیالات

زمین بوس ہونا........ختم ہونا،فنا ہونا


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق" لہو اور قالین" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ اختر کی بنائی گئی تصویر کو اول انعام ملا تو تجمل نے اختر کو اس کی خوش خبری سنائی تو اختر خوش ہونے کی بجائے وہاں سے جانے پر بضد ہوگیا۔ تجمل نے اختر کو سمجھا بجھا کر روکنے کی کوشش کی تو اس نے تجمل کو اصل صورت حال بیان کی۔ جس پر تجمل نے کہا کہ معاملہ اس قدر آگے چلا جائے گا یہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔


تشریح:

میرزا ادیب کا شمار اردو ادب کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے ڈراموں میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہوتا ہے۔" لہو اور قالین " بھی ان کا تحریر کردہ ایسا ہی ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریاکاری جیسے قبیح عوامل اجاگر ہوتے ہیں۔

      تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ جب تجمل نے اختر کو اس کی بنائی گئی تصویر پر ملنے والے اول انعام کی خوش خبری سنائی تو اختر کو ذرا بھر بھی خوشی نہ ہوئی اور اس نے وہاں سے واپس گھر جانے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ تجمل نے اختر پر واضح کیا کہ وہ ایسے پاگل پن کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔ مگر اختر اپنی بات پر بضد رہا تو تجمل نے اختر سے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ تجھے دورہ پڑ گیا ہے مجھے ڈاکٹر کو فون کرنا چاہیے۔

            اختر نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے تجمل سے کہا کہ آپ ابھی تک میری یہاں سے چلے جانے والی  بات کو غیر سنجیدگی سے لے رہے ہیں حالانکہ میں بالکل ٹھیک ہوں اور مجھے ڈاکٹر کی بھی بالکل ضرورت نہیں ہے۔آپ میری بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں اور نہ ہی آپ کو مکمل حقائق کا ادراک ہے۔آپ صرف بات کا ایک ہی پہلو دیکھ رہے ہیں کہ ہماری بنائی گئی تصویر کو اول انعام ملا ہے اور آپ اس خوشی میں پھولے نہیں سما رہے ہیں حالانکہ اگر آپ کو بات کا دوسرا پس منظر معلوم ہو جائے تو وہ آپ کےلیے خوفناک ثابت ہوگا اور آپ نے  تصویر کے اول انعام ملنے پر جو بڑے بڑے خواب سینے میں سجا رکھے ہیں وہ سب چکنا چور ہو جائیں گے۔

اس تصویر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ سال میں اس شاندار محل سے میرے نام سے منسوب جتنی بھی تصویریں باہر بھیجی گئی ہیں ان میں سے میری بنائی  ہوئی ایک بھی نہیں تھی بلکہ وہ کسی اور نے بنائی تھیں۔

بقول شاعر

سدا   روپوش   رہتے    ہیں   وہ   پتھر

عمارت جن کے کاندھوں پر تعمیر ہوتی ہے

جماعت نہم اردو سبق " لہو اور قالین" تشریح پیراگراف نمبر2


سبق: لہو اور قالین
پیراگراف نمبر2

اقتباس:
تم دنیا سے الگ تھلگ رہ کر مصوری کرتے رہتے ہو.................کیا یہ میری توہین نہیں ہے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: لہو اور قالین
مصنف کا نام: میرزا ادیب
صنف: ڈرامہ
ماخذ: لہو اور قالین

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
الگ تھلگ..........علاحدہ،
جدا
مصوری.......تصویریں بنانا
واقعہ........ماجرا،قصہ
قلاش.......مفلس،تنگ دست
دکھاوا...... نمود و نمائش
توہین........بے قدری، اہانت، بےعزتی

سیاق وسباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق "لہو اور قالین " کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ تصویر کو اول انعام ملنے کے بعد تجمل نے جب مصور اختر کو روکنے کی کوشش کی تو وہ رکنے کی بجائے وہاں سے جانے پر بضد تھا۔ تجمل نے اختر کو سمجھایا کہ تم یہاں سے چلے گئے تو لوگ کیا کہیں گے۔تمھارے جانے میں میری توہین ہے۔

تشریح:
میرزا ادیب کا شمار اردو ادب کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے ڈراموں میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہوتا ہے۔" لہو اور قالین " بھی ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریاکاری جیسے قبیح عوامل کو اجاگر کیا گیا ہے۔
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ جب مصور اختر نے تجمل سے اپنے گھر واپس جانے کی بات کی تو تجمل نے اسے جانے دینے سے انکار کردیا اور اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ تمھاری معاشرے میں لوگوں کے ساتھ وابستگی نہیں ہوتی  اور نہ تم لوگوں سے میل ملاپ رکھتے ہو کیونکہ تم دنیا و مافیا سے لاتعلق ہو کر  اور تنہائی اختیار کرکے تصویر سازی کرتے رہتے ہو اور تم اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے کہ اس طرح کے حالات و واقعات میں لوگ کیا کرتے ہیں۔ وہ بڑی بڑی باتیں بناتے ہیں۔
             اب تم یہاں سے جانے پر بضد ہو تو اس حوالے سے لوگ جو سوچیں گے اور جو باتیں بنائیں گے وہ تم بالکل بھی نہیں جانتے۔ وہ سب میرے اوپر الزام لگاتے ہوئے کہیں گے کہ میں نے ایک غریب اور تنگ دست مصورکو اس کی خستہ حال جھونپڑی سے نکال کر محض دکھاوے اور نمائش کےلیے اپنے ہاں جگہ دی اور پھر اپنا مقصد حاصل کرنے کے بعد اسے واپس بھیج دیا۔اب تم ہی بتاؤ  کہ جب لوگ تمھارے چلے جانے کے بعد اس طرح کی باتیں بنائیں گے تو کیا اس میں میری تذلیل، بےقدری اور اہانت نہیں ہے۔
بقول شاعر

اپنے ہی سونے پن کا مداوا نہ کرسکے
کہنے  کو   ہم   نے   شہر  آباد  کر  دیا

جماعت نہم اردو سبق " لہو اور قالین" تشریح پیراگراف نمبر1


سبق " لہو اور قالین"

پیراگراف نمبر1


اقتباس:

سردار تجمل حسین کی کوٹھی"النشاط".............. مصوری کا دوسرا سامان ۔


حوالہ متن:

 سبق کا عنوان: لہو اور قالین

مصنف کانام: میرزا ادیب

صنف: ڈرامہ

ماخذ: لہو اور قالین


خط کشیدہ الفاظ کے معانی

 کوٹھی......بنگلہ

نشاط........خوشی،

مسرت

وسیع........کشادہ

اسٹوڈیو......وہ کمرہ جہاں فلم یا تصویر سازی ہو۔

اعلی.......عمدہ، شاندار

آراستہ......مزین، سجا ہوا

شاہکار....... عمدہ کارنامے

مجلد........ جلد کیاگیا

کارنیس.........منڈیر،طاق

تپائی......... چھوٹی میز

مزین.......سجا ہوا، آراستہ

گل دان......وہ گملا جس میں پھول رکھے ہوں۔

وسط.....درمیان، مرکز

ایزل...... سٹینڈ، فریم

کینوس....... وہ کپڑا یا کاغذ جس پر تصاویر بنائی جاتی ہیں۔


سیاق و سباق:

 

تشریح طلب اقتباس درسی سبق " لہو اور قالین" کا ابتدائی پیراگراف ہے۔اس سبق میں مصنف تجمل حسین کی کوٹھی " النشاط" کے ایک کمرے کا منظر بیان کرتے ہیں جس میں غریب اور گمنام مصور اختر تصاویر بناتا تھا۔


تشریح:

میرزا ادیب کا شمار اردو ادب کے ممتاز ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے ڈراموں میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہوتا ہے۔" لہو اور قالین" ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریا کاری جیسے قبیح عوامل کو اجاگر کیا گیا ہے۔

        تشریح طلب اقتباس میں مصنف، سردار تجمل حسین کی کوٹھی کا منظر بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی کوٹھی کانام " النشاط" ہےاور اس کے ایک وسیع و عریض کمرے کو مصور اختر استعمال کرتا ہے۔ اختر اس کمرے میں تصویر سازی کرتا رہتا ہے۔

       یہ کمرہ  اعلی اور عمدہ فرنیچر سے سجا ہوا ہے جس کے فرش پر قالین بچھا ہوا ہے اور اس کمرے کی دیواروں پر مشہور تصویر سازوں کی بنائی ہوئی عمدہ تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔کمرے کے ایک طرف سننے کےلیے ریڈیو اور اس کا ساز وسامان رکھا گیا ہے اور اس سے کچھ فاصلے پر صوفے، گدے اور کرسیاں بچھائی گئی ہیں۔کمرے کی شمالی دیوار کے ساتھ دو الماریاں لگی ہوئی ہیں جس میں جلد شدہ کتابیں رکھی گئی ہیں۔

      کمرے کی دیوار  کی  منڈیر اور کمرے میں رکھی ہوئی چھوٹی میزوں پر گلدان رکھے گئے ہیں جو تازہ پھولوں سے سجے ہوئے ہیں۔کمرے کے دروازوں اور کھڑکیوں پر ریشم کے نرم و ملائم پردے لگائے گئے ہیں جبکہ اس کے مرکز میں ایک بڑے فریم یا سٹینڈ پر تصویر سازی کےلیے  نقاشی والا کپڑا لگایا گیا ہے جو ابھی صاف شفاف تھا اور اس پر کوئی تصویر نہیں بنائی گئی تھی۔

       غرض کوٹھی اور اس کے وسیع کمرے میں اختر کو ضرورت کی ہر چیز مہیا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

بقول شاعر

میسر تھی ہر ضرورت زندگی جس میں

وہ کوٹھی کسی امیر شہر کی تھی۔

جماعت نہم اردو سبق امتحان تشریح پیراگراف نمبر16


سبق: " امتحان"
پیراگراف نمبر16

اقتباس:
مجھے تعجب تھا کیونکہ میں نے.........آخر کہاں تک بےایمانی ہوگی۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کانام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
تعجب.......حیرانی
برے.......خراب
تعریف کرنا.......ستائش کرنا، گن گانا
ممتحنوں.......امتحان لینے والے
اشک شوئی کرنا.......آنسو پونچھنا، تسلی دینا
گھبرانا.......پریشان ہونا
آئندہ.........آنے والا
بےایمانی.......بدنیتی
فرصت...... فراغت

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " امتحان" کا آخری پیراگراف ہے۔ مصنف کہتا ہے کہ جب میں  "لاکلاس " کے تمام مضامین میں بدرجہ اعلی فیل ہوا تو والد صاحب نے ممتحنوں کو برابھلا کہ کر مجھے تسلی دی اور کہا کہ کب تک ایسا ہوگا۔تم ایک نہ ایک دن ضرور کامیاب ہوگے۔

تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ کا شمار اردو کے نامور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا ہے۔ " امتحان " ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات،اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتا ہے۔
     تشریح طلب اقتباس میں مصنف اپنے " لاکلاس" کے امتحان کے نتیجے کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میں جملہ مضامین میں بدرجہ اعلی فیل ہوا تو مجھے اس پر حیرانی ہوئی کیونکہ میں نے پرچے اتنے بھی برے نہیں کیے تھے اور پرچوں میں جو کچھ میں نے لکھا وہ سب کچھ اپنے والد صاحب کو بھی سنایا۔ انھوں نے اس پر میری تعریف کی کہ تم نے بہت اچھا لکھا ہے اور ساتھ میں ممتحنوں کو برابھلا کہا کہ وہ اپنی ناقص کارکردگی کے ذریعے آپ کا نقصان کرتے ہیں اور ساتھ مجھے تسلی دی اور کہا کہ بیٹا تجھے گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں کیونکہ آج تو تم ممتحنوں کی وجہ سے ناکام ہوئے ہو مگر ہر بار تو ایسا نہیں ہوگا۔ اس سال کامیابی نہیں ملی تو اگلے سال تو مل ہی جائے گی آخر تمھارے ساتھ امتحان میں کب تک بےایمانی ہوگی۔ تم ایک نہ ایک دن ضرور کامیاب ہوگے۔ بقول شاعر

نہ ہوئی گر میرے پرچوں سے تسلی نہ سہی
امتحان اور بھی باقی ہے تو یہ بھی نہ سہی

جماعت نہم اردو سبق امتحان تشریح پیراگراف نمبر15


سبق: " امتحان"
پیراگراف نمبر15

اقتباس:
کچھ عرصہ کے بعد نتیجہ شائع ہوگیا...........برابر تین گھنٹے لکھا جاتا اور صفر ملتا۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کانام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
شائع ہونا......اشاعت ہونا، چھپنا
کم ترین......سب سے کم، معمولی
جملہ مضامین........تمام مضامین
بدرجہ اعلی.......بہترین درجے میں،عمدہ درجے سے
بھلے مانس.......شریف آدمی
ممتحن......امتحان لینے والا
بدمعاش......بدطینت، غنڈاگرد

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" امتحان" کے آخری حصے سے لیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کہتا ہے کہ میرے والد مجھے امتحان میں پاس کرانے کےلیے سفارشی چٹھی لے کر ممتحنوں کے پاس گئے تو وہاں سے نادم ہوکر واپس آئے اور دوبارہ کسی کے پاس نہ گئے۔امتحان کا نتیجہ تمام مضامین میں بدرجہ اعلی فیل ہونے کی صورت میں نکلا تو والد صاحب نے ممتحنوں کو برابھلا کہ کر مجھے تسلی دی کہ اس سال نہیں تو آئندہ سال سہی،آخر کب تک بےایمانی ہوگی۔

تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ اردو کے نامور ادیب تھے۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا تھا۔" امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات،اس کی اہمیت اور دوران امتحان کے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتا ہے۔
    تشریح طلب اقتباس میں مصنف اپنے " لاکلاس" کے امتحان کے نتائج کے متعلق کہتا ہے کہ جب کچھ عرصہ کے بعد میرے امتحان کا نتیجہ سامنے آیا تو میں سب سے کم اور معمولی نمبروں کے ساتھ تمام مضامین میں اعلی درجے سے فیل ہوگیا یعنی فیل ہونے والوں میں میرا پہلا نمبر تھا۔صرف ایک شریف النفس ممتحن تھے جنھوں نے شاید ترس کھا کر دو نمبر دے دیئے۔ باقیوں نے صفر نمبر سے آگے بڑھنے کا نام تک نہ لیا۔ بقول شاعر

یونہی وقت سو سو کے ہیں جو گنواتے
وہ خرگوش کچھوؤں سے ہیں زک اٹھاتے

       برے نتیجے کا سن کر والد صاحب کو بہت دکھ اور رنج ہوا اور انھوں نے میرے حاصل کردہ نمبروں کی نقل نکلوائی اور آخر میں انھوں نے یہ رائے دی کہ کسی بدبخت چپڑاسی نے ہی پرچے بدل دیے ہوں گے کیونکہ تم میرے سامنے مسلسل تین گھنٹے لکھنے کے بعد امتحانی کمرے سے باہر نکلتے تھے تو اس قدر محنت سے لکھے جانے پر صفر نمبر کیونکر آسکتے ہیں۔اس میں ضرور کسی بدطینت چپڑاسی کی کارستانی شامل ہے۔

پیراگراف نمبر8 خطوط غالب

                     03065976174            سبق:    خطوط غاؔلب               aufsurani.blogspot.com                                         ...