Monday, November 4, 2019

جماعت نہم اردو سبق " امتحان" تشریح پیراگراف نمبر12


سبق: " امتحان"
پیداگراف نمبر12

اقتباس:
ان کا مسکرانا پہلے تو اچھا............چھے گھنٹے گزارنے کیسے مشکل ہوں گے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کانام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
زہر ہونا...... بھلا نہ لگنا، پسند نہ آنا،
واللہ......اللہ کی قسم
مصیبت ہونا.......تکلیف دہ ہونا
قلبی......دلی طور پر
نفرین....... نفرت
قلبی نفرین.......دلی نفرت
ظالم......جابر،ظلم کرنے والا
مشکل......کٹھن٬دشوار

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " امتحان" کے آخری حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس اقتباس کا سیاق و سباق یہ ہےکہ " لاکلاس" کے امتحان کے دوران جب مصنف نے گارڈ سے سوال کا جواب پوچھا تو اس نے بتانے سے انکار کردیا اور ساتھ ہی مصنف پر کڑی نظر جمالی۔ اس پر مصنف کو اس سے سخت نفرت ہوگئی اور تیاری نہ ہونے کے سبب مصنف کا دل چاہتا تھا کہ وہ آدھے گھنٹے میں کمرہ امتحان سے نکل جائے۔

تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ اردو کے نامور ادیب تھے۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا تھا۔" امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات، اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔
      تشریح طلب اقتباس میں مصنف اپنے " لاکلاس" کے امتحان کے دوران کمرہ امتحان کے اندر کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب گارڈ نے مجھے سوال کا جواب بتانے سے انکار کر دیا اور میرے قریب سے ہلنے کا نام تک نہ لینے لگا تو اس کی مسکراہٹ جو پہلے بھلی لگتی تھی اب  مجھے تکلیف دینے لگی اور وہ مجھے ذرا بھی بھلا نہیں لگ رہا تھا۔میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس کے انکار کے بعد مجھے زندگی بھر اتنی اور کسی سے دلی نفرت نہیں ہوئی جیسے اس گارڈ سے ہوگئی تھی۔

"کسی سے وابستہ توقع پوری نہ ہو تو دل اس سے مایوس ہوجاتا ہے".

       مصنف کہتا ہے کہ الغرض اس طریقے سے امتحان کے تمام دن گزر گئے کہ نہ خود اچھا لکھ سکا اور نہ گارڈ صاحب کی وجہ سے کسی سے پوچھنے کا موقع مل سکا۔اب آپ ہی میری حالت کو بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ جب لکھنے کو کچھ بھی یاد نہ ہو تو ایسے ظالم وجابر اور سخت آدمی کے ساتھ امتحانی کمرے میں پورے چھے گھنٹے گزارنے میں کتنی مشکل پیش آتی ہوگی۔ بقول شاعر

یونہی وقت سو سو کے ہیں جو گنواتے
وہ خرگوش کچھوؤں سے ہیں زک اٹھاتے۔

جماعت نہم اردو سبق" امتحان" تشریح پیراگراف نمبر11


سبق:"امتحان
پیراگراف نمبر11

اقتباس:
جب دوسروں سے مدد ملنے کی توقع...............مگر وہ کب ہٹنے والے تھے، قطب ہوگئے۔

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
توقع........امید، آس
منقطع.......ختم ہونا،تعلق ٹوٹنا
دریافت کرنا......پوچھنا، معلوم کرنا
زور سے...... عروج پر
لحاظ..... شرم، پاسداری
ٹہلنا........چہل قدمی کرنا
قطب ہونا...... جم جانا، نہ ہلنا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" امتحان" کے درمیان سے اخذ کیاگیا یے۔اس اقتباس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کی " لاکلاس" کے امتحان کے دوران تیاری نہ ہونے کی وجہ سے برابر والے سے پوچھنے کی کوشش ناکام ہوئی تو اس نے گارڈ سے پوچھنے کا فیصلہ کرلیا مگر اس نے بھی کچھ بتانے سے انکار کردیا جس سے وہ مصنف کو زہر لگنے لگا اور مصنف اس سے قلبی نفرت کرنے لگا۔

تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ اردو کے نامور ادیب تھے۔ ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا تھا۔" امتحان " ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات،اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔
     تشریح طلب اقتباس کے اندر مصنف اپنے " لاکلاس" کے امتحان کے وقت کمرہ امتحان کے اندر کی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ " اصول قانون" کے پرچے کے دوران گارڈ صاحب نے برابر والے سے پوچھنے کی میری کوشش میں رکاوٹ ڈال دی اور جب دوسروں سے مدد ملنے کی توقع ختم ہوگئی اور مدد کے کوئی آثار باقی دکھائی نہ دیے تو میں نے براہ راست گارڈ صاحب سے ہی سوال کے جواب پوچھنے کی ٹھان لی۔
"
جب کشتی منجھدار میں پھنس جائے اور بچنے کی صورتحال مخدوش ہو جائے تو حالات کا کھل کر مقابلہ کرنا پڑتا ہے".

     چناں چہ اس مقصد کےلیے میں کھڑا ہوگیا۔ گارڈ صاحب میرے پاس آئے تو میں نے ان سے دوسرے سوال کا جواب پوچھ لیا۔اس پر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ مجھے تو اس کا جواب معلوم نہیں۔اس پر میں نے دیدہ دلیری سے کہا کہ میرے پاس والا تو بہت ہی اچھا لکھ رہا ہے آپ اس سے جواب پوچھ دیں اور اگر آپ کو ان سے سوال کا جواب پوچھنے میں عار اور شرم محسوس ہوتی ہے تو آپ میرے سر پر سوار ہوکر کھڑے رہنے کی بجائے ادھر ادھر چہل قدمی کرلیں اور میری راہ میں حائل نہ ہوں تو میں خود اس سے سوال کا جواب پوچھ لوں گا۔ مگر انھوں نے میری بات ماننے سے انکار کر دیا اور ادھر ادھر جانے کی بجائے وہیں میرے قریب جم کر کھڑے ہوگئے تاکہ میں پاس والے سے پوچھنے کی جسارت نہ کرسکوں۔ میری ان سے جو توقع تھی وہ ختم ہوگئی اور وہ مجھے زہر لگنے لگے۔ بقول شاعر

سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے
کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا انسان سے ہوتا ہے

جماعت نہم اردو سبق " امتحان" تشریح پیراگراف نمبر10


سبق: " امتحان"
پیراگراف نمبر10

اقتباس:
میں نے قلم اٹھا کر لکھنا شروع کر دیا..........سر پر ہی کھڑے رہتے تھے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کانام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
اصول........قاعدہ، قانون
رائے......تجویز
مقنن.......قانون بنانے والا، قانون دان
تجویز.......رائے
پابند کرنا.........لاگو کرنا، عائد کرنا،لازم کرنا
نگاہ.......نظر، دید
تاڑ گئے........تاک گئے،جان گئے
بلا.......مصیبت
ناگہانی.......اچانک آنے والی
بلائے ناگہانی......اچانک آنے والی مصیبت

سیاق وسباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" امتحان" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔اس اقتباس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کہتا ہے کہ امتحانی کمرے میں پرچہ حل کرتے وقت مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ کس چیز کا پرچہ ہے۔گارڈ صاحب نے پرچے کے عنوان پر انگلی رکھی تو معلوم ہوا کہ " اصول قانون" کا پرچہ ہے۔میں نے پرچے کو برابر والے سے پوچھ کر حل کرنے کی کوشش کی جو گارڈ کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔ بالآخر میں نے براہ راست گارڈ صاحب سے ہی پوچھنے کا فیصلہ کرلیا۔
 
تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ اردو کے نامور ادیب تھے۔ ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا تھا۔" امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات،اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔
   تشریح طلب اقتباس میں مصنف اپنے " لاکلاس " کے امتحان کے وقت امتحانی کمرے کے اندر کی صورتحال بیان کرتا ہے کہ جب مجھے پتا چلا کہ پرچہ " اصول قانون" کا ہے تو میں نے اپنا قلم اٹھایا اور بلا سوچے سمجھے لکھنا شروع کردیا کیونکہ "اصول" کا موضوع ایسا ہے کہ اس کےلیے کسی کتاب کے پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس مضمون پر ہر شخص اپنی تجویز اور رائے دے سکتا ہے کہ اصول کیوں اور کیسے ہونے چاہییں  اور یہ کہ اصول بنتے ہی ٹوٹنے کےلیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک قانون دان ایک اصول معاشرے میں قائم کرکے اسے لاگو کراتا ہے تو دوسرا شخص اسے من و عن تسلیم نہیں کرتا اور اس اصول کو توڑ دیتا ہے اور اس پر اپنی الگ رائے قائم کر لیتا ہے۔
    چناں چہ اسی وجہ سے ہم اپنی تجویز کو کسی دوسرے کی رائے یا تجویز کا پابند نہیں کرسکتے۔ اس وجہ سے میں نے " اصول" کے متعلق خود سے لکھنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھ والے سے بھی کچھ پوچھنے کی جسارت کی اور نگرانوں اور گارڈ کی نظروں سے محفوظ رہنے کے لیے ادھر ادھر بھی نظر گھماتا رہا۔ کسی دانا کا قول ہے:
"دوسروں کو دھوکا دینے والا درحقیقت خود کو دھوکا دے رہا ہوتا ہے".
     وہاں موجود گارڈ صاحب میری تمام کیفیت سے اچھی طرح واقف ہوگئے اوروہ میرے سر پر ایسے کھڑے ہوگئے جیسے بن بلائی مصیبت اچانک ہمارے گلے پڑ گئی ہو۔اس نے ذرا بھی ادھر ادھر دیکھنے کی کوشش ناکام بنادی اورمیں مصیبت میں پڑگیا۔
 بقول شاعر
یونہی وقت سو سو کے ہیں جوگنواتے
وہ خرگوش, کچھوؤں سے ہیں زک اٹھاتے۔

جماعت نہم اردو سبق امتحان "تشریح پیراگراف نمبر 8


سبق: امتحان
پیراگراف نمبر8

اقتباس:
بعض کم حیثیت ملازم ..............ان پر بھروسا کرنا نادانی ہے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کا نام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
بعض.......کچھ، چند
حیثیت........درجہ، رتبہ،مقام
باامید.........امید رکھتے ہوئے،آس کے ساتھ
تدبیر.........سوچ بچار،فہم و فراست
تقدیر.....قسمت،نصیب
مسئلہ.......معاملہ
کارروائی.......کارگزاری
صورت......شکل
بھروسا......اعتماد
نادانی......بےوقوفی

سیاق وسباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" امتحان" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کہتا ہے امتحانات کے دوران امداد غیبی یا پرچوں کی الٹ پھیر سے کامیابی مل سکتی ہے کیونکہ بعض شریف ملازم بھی انعام کی لالچ میں پرچہ بدل دیتے ہیں۔اسی امید کے ساتھ مصنف جب امتحانی کمرے میں داخل ہوا تو وہاں اسے ہنس مکھ نگران کار ملے۔

تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ اردو ادب کے نامور مصنف تھے۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا ہے۔" امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات اور اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں.
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف امتحانات کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ امتحان میں شریک ہونے والے کی اگر پڑھائی میں تیاری اچھی نہ ہو تو وہ پرچوں کی الٹ پھیر اور امتحانی کمرے میں کتاب کے سہارے سے کامیاب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔پرچوں کی الٹ پھیر کے حوالے سے کچھ معمولی درجے کے شریف ملازم بھی مل جاتے ہیں جو انعام کی امید سے پرچہ دوسرے طالب علم کے ساتھ بدل دیتے ہیں۔اس طرح کے کام کرنے سے ایک ایماندار اور محنت سے پڑھنے والے کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کا حق سلب ہوجاتا ہے۔

"دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنا ظلم ہے"۔

اس اقدام سے محنت کرنے والے کو اس کی محنت کا حقیقی اجر نہیں ملتا۔اس طرح کی سوچ سے کام کرنے والے کی تدبیر اگر کامیاب ہوجائے تو وہ کھرا ہوجاتا ہے لیکن اگر اس کے مقدر میں ایسا ہونا نہ لکھا ہو تو وہ اپنا سا منھ لے کے رہ جاتا ہے۔ قسمت اچھی ہو تو یہ کام آسانی سے ہو جاتا ہے اور اگر قسمت اچھی نہ ہو تو ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ بقول شاعر

جو چل جائے تدبیر بنے جو ٹل جائے تقدیر بنے
اس بات کو اصغر کیا سمجھیں یہ بات نہیں سمجھانے کی

مصنف کہتا ہے کہ امتحان میں پرچوں کی الٹ پھیر اور کتاب کے سہارے کے علاؤہ اور بھی کئی طریقے ہوسکتے ہیں مگر ان پر توکل کرکے امتحان میں جانا سراسر نادانی کے علاؤہ کچھ بھی نہیں۔  بقول شاعر

نہیں آساں منزل تک رسائی

سفر پاؤں کے چھالے مانگتا ہے۔

جماعت نہم اردو سبق "امتحان" تشریح پیراگراف نمبر7


سبق: امتحان

پیراگراف نمبر7


اقتباس: 

شاید وہ حضرات جو امتحان میں کبھی شریک..........تقدیر سب کچھ آسان کر دیتی ہے۔


حوالہ متن:

سبق کا عنوان: امتحان

مصنف کانام: مرزا فرحت اللہ بیگ

صنف: مضمون

ماخذ: مضامین فرحت


خط کشیدہ الفاظ کے معانی

شریک......شامل ہونا

مضمون......موضوع، عنوان

وضاحت.....تفصیل

عرض کرنا......کہنا

ذرا......تھوڑا

امداد غیبی.......غیب سے ملنے والی مدد

اصطلاح...... کسی لفظ کا خاص مفہوم

مدد......امداد، سہارا

نیک ذات...... شریف آدمی

عندالمواقع.......عین موقع پر

الٹ پھیر.........بدلنا،تبدیل کرنا، 

بظاہر......ظاہرا، دیکھنے میں

مشکل.....دشوار، کٹھن

تقدیر...... قسمت


سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق "امتحان" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف کو " لاکلاس " کے امتحان میں امداد غیبی اور پرچوں کی الٹ پھیر سے ہی کامیابی کی توقع تھی اور اس کے ساتھ ساتھ بعض شریف اور کم حیثیت ملازم کے ذریعے پرچہ بدلنے کی آس لیے بیٹھا تھا۔

   

تشریح:

مرزا فرحت اللہ بیگ کا شمار اردو کے نامور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا ہے۔" امتحان "ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات،اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش آنے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔

    تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ جب وہ قانون کے امتحان کےلیے مقام امتحان پہنچا تو امتحان کی تیاری نہ ہونے کے سبب اسے امتحان میں کامیابی کی امید دو طرح سے تھی۔ ایک غیبی امداد اور دوسری پرچوں کی الٹ پھیر۔

     مصنف کہتا ہے کہ جن لوگوں کو امتحانات سے واسطہ نہیں پڑا اور جنھوں نے کبھی امتحانات دیئے ہی نہیں وہ میری امدادغیبی اور پرچوں کی الٹ پھیر والی بات کو نہ سمجھ سکیں گے۔اس لیے ان لوگوں کی آسانی کےلیے اپنی بات وضاحت سے کہتا ہوں کہ " امداد غیبی" امتحانی نکتہ نگاہ سے وہ مدد ہوتی ہے  جو پرچہ حل کرنے والوں کو ایک دوسرے سے یا کسی اچھی صفت کے حامل نگران سے یا عین موقع کے اوپر کتاب مل جانے سے پہنچ جاتی ہے۔ جس سے سارا پرچہ حل کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔

   مصنف کہتا ہے کہ امتحان کے دوران اگر پرچوں کی الٹ پھیر سے ہی کام چلانا ہو تو ظاہری طور پر یہ کام بہت مشکل دکھائی دیتا ہے کہ نگران ایسا آسانی  سے ہونے نہیں دیتے لیکن جب انسان کی قسمت اچھی ہو اور تقدیر اس کا ساتھ دے رہی ہو تو یہ کام بھی آسان ہونا ہے ورنہ انسان اپنی بدنصیبی کو روتا ہے۔ بقول شاعر


جو چل جائے تدبیر بنے،جو ٹل جائے تقدیر بنے

اس بات کو اصغر کیا سمجھیں یہ بات نہیں سمجھانے کی۔

Tuesday, October 29, 2019

جماعت نہم اردو سبق " امتحان" تشریح پیراگراف نمبر5


سبق: امتحان
پیراگراف نمبر5

اقتباس:
بعض وقت ایسا ہوا کہ لیمپ بھڑک................ان کے دلوں پر سکہ بٹھا رکھا تھا۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کا نام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت

خط کشیدہ الفاظ کے معانی۔
بھڑک.......تیز شعلہ
سیاہ........کالی
محویت.....مصروفیت
نتیجہ......صلہ،حاصل
نقشہ کھینچنا........سمجھانا, منظر کشی کرنا
شبانہ روز....... دن رات
سکہ بٹھانا...... رعب دبدبہ قائم کرنا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " امتحان " کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف " لا کلاس" کے امتحان کی تیاری کی بجائے گھر میں الگ کمرے میں لیمپ روشن کرکے آرام سے سات بجے سو جاتا اور والدین کو دھوکے میں رکھتا اور پھر امتحان قریب آنے کے بعد وہ فیل ہونے کے خوف سے والدین سے کہتا کہ وہ خود کو ابھی امتحان کے قابل نہیں سمجھتا۔

تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ  اردو کے نامور ادیب ہیں۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پر لطف ہوتا ہے۔" امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات ،اس کی اہمیت اور دوران امتحان پیش ہونے والے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہیں۔
      تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ جب " لا کلاس" کے امتحان کا زمانہ قریب آیا تو میں الگ کمرے میں لیمپ روشن کرکے آرام سے سات بجے سو جاتا تھا۔ لیمپ کے مسلسل جلتے رہنے کی وجہ سے بعض اوقات ایسا ہوتا کہ لیمپ سے تیز شعلہ نکلتا جس کے دھویں سے اس کی چمنی کالی ہوجاتی تھی اور گھر والے اس کو دیکھ کر سمجھتے کہ میں محنت اور لگن سے پڑھائی میں مصروف رہتا ہوں حالانکہ یہ سب دھوکا تھا۔ بقول شاعر

احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
چہرے پر خوشی سجا رہا ہوں

چناں چہ بعض اوقات والدین مجھے اتنی محنت کرنے سے منع بھی کرتے تھے مگر میں ان کو بتاتا تھا کہ دنیا ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور آپ مجھے زیادہ محنت کرنے سے روکتے ہیں۔اگر میں محنت نہیں کروں گا تو ترقی کیسے کروں گا۔ جیسا کہ قول ہے:

"محنت کامیابی کی کنجی ہے"
اس طرح میں اپنے والدین کو خوش کر دیتا تھا۔
      والدین کو دھوکے میں رکھ کر امتحان کی تیاری کی مشکل سے تو آسانی سے جان چھڑا لی مگر جب امتحان کا زمانہ قریب آگیا تو گھر والوں کے سامنے اصلیت بےنقاب ہونے کا خطرہ پیش آگیا کیونکہ

" سراب اور دھوکا دو ایسی خوش کن چیزیں ہیں جن کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی"۔
چناں خود کو بچانے کے واسطے میں نے گھر والوں کو باور کرایا کہ میں ابھی امتحان کےلیے اتنی تیاری نہیں کرسکا جتنی مجھے کرنی چاہیے تھی۔مگر گھر والے یہ بات ماننے کو تیار نہ تھے کیونکہ " لاکلاس " کےلیے میری دن رات کی محنت سے وہ مرعوب ہوچکے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ میری پڑھائی کی تیاری مکمل ہے حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔کسی دانا کا قول ہے:
" دوسروں کو دھوکے میں رکھنے والا دراصل خود کو دھوکا دے رہا ہوتا ہے"۔

جماعت نہم اردو سبق "امتحان"تشریح پیراگراف نمبر9


سبق : امتحان پیراگراف نمبر9

اقتباس:
خیرآمدم برسرمطلب.........اللہ دے بندہ لے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کانام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
خیرآمدم........ خیر سے آتے ہیں
برسرمطلب.......مطلب کی طرف
خیرآمدم برسر مطلب...........خیر سے مطلب کی طرف آتے ہیں۔اصل مدعا کی طرف آتے ہیں
پونے دس......نو بج کر پینتالیس منٹ
بسم اللہ کہنا.......اللہ کے نام سے شروع کرنا
خلیق.......خوش اخلاق، مہربان
ہنس مکھ.......ہنستا مسکراتا چہرہ،خوش مزاج
بیڑہ بار ہونا.......مقصد پورا ہونا،کامیابی ملنا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" امتحان" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف امداد غیبی اور پرچوں کی الٹ پھیر سے امتحان میں کامیابی کی توقع رکھتے ہوئے جب امتحانی کمرے میں آیا تو  اسے ہنس مکھ نگران کاروں کو دیکھ کر ان سے امداد کی توقع ہوئی۔جب پرچہ تقسیم ہوا  تو اس نے سرسری پڑھ کر میز پر رکھ دیا۔

تشریح:
مرزا فرحت اللہ بیگ کا شمار اردو کے نامور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پر لطف ہوتا ہے۔"امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا مضمون ہے جس میں وہ امتحان کے اثرات،اس کی اہمیت اور دوران امتحان کے واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کرتا ہے۔
     تشریح طلب اقتباس میں مصنف امتحانات میں امداد غیبی اور پرچوں کی الٹ پھیر پر تفصیلی بات کرنے کے بعد کہتا ہے کہ خیر میں اب اپنے اصل مدعا کی طرف آتا ہوں کہ نوبج کر پینتالیس منٹ پر گھنٹی بھی اور ہم اللہ کا نام لے کر کے کمرے میں آگئے۔ جب ہم کمرے کے اندر داخل ہوئے تو اندر بہت سے امتحان کےلیے مقررکیے گئے نگران موجود تھے۔ان میں سے ایک نگران بہت ہی مہربان اور شفیق تھے۔خوش اخلاقی  اور ہر وقت مسکراہٹ  ان کے چہرے سے عیاں ہوتی ہے۔مجھے اپنی جگہ تلاش کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔جب میں نے ان سے اس حوالے سے مدد طلب کی تو وہ بھی میری جگہ کی تلاش کے لیے میرے ساتھ چل پڑے۔
       انھوں نے مجھے جگہ ڈھونڈ  دی اور میرے ساتھ تو کافی دیر مسکرا کر بات چیت بھی کرتے رہے۔ان کی اس خوش اخلاقی کو دیکھ کر میں بھی خوش ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک اچھا نگران کار بھیج دیا ہے جوکہ شفیق بھی ہے اور خوش اخلاق بھی۔
انسان اپنے اخلاق سے پہچانا جاتا ہے"۔"

اب میں ضرور اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاؤں گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس خوش خلق نگران کو میرے لیے نعمت بنا کر بھیجا ہےتو اس سےضرورفائدہ اٹھاؤں گا۔
بقول شاعر
کس توقع سے کس کو دیکھیں
کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا۔

پیراگراف نمبر8 خطوط غالب

                     03065976174            سبق:    خطوط غاؔلب               aufsurani.blogspot.com                                         ...