Saturday, March 30, 2019

نہم اردو.. ہجرت نبوی پیراگراف نمبر1 تشریح.


پیراگراف نمبر1

.اس وقت جبکہ دعوت حق........اپنے لئے حکم خدا کا منتظر تھا

حوالہ متن:
سبق کاعنوان:   ہجرت نبوی
مصنف کانام:  مولانا شبلی نعمانی
ماخذ:   سیرت النبی
صنف:   سیرت نگاری
 
خط کشیدہ الفاظ کے معانی.

دعوت حق: سچائی کی دعوت
حافظ عالم:دنیا جہان کی حفاظت کرنے والا,اللہ تعالی
دارالامان:پرامن گھر
وجود اقدس:حضور کی پاک ذات
ستم گار:ظلم ڈھانے والے.
.ہدف:نشانہ


سیاق وسباق:

 تشریح طلب اقتباس مولانا شبلی نعمانی کے تحریر کردہ سبق ہجرت نبوی کا ابتدائی پیراگراف ہے..اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ جب حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلانیہ اہل قریش کو اسلام کی دعوت دی تو وہ آپ کے بدترین مخالف بن گئے اور آپ کو نقصان پہنچانے کےلیے آپ کے گھر کامحاصرہ کرلیا..مگر آپ اللہ تعالی کے حکم سے مدینہ پہنچ گئے اور آپ کا نعرہ تکبیر کی صداؤں سے استقبال کیا گیا ۔
تشریح:

مولانا شبلی نعمانی اردو ادب کے نامور مصنف اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے عالم تھے..انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ  علیہ وسلم کی حیات مبارک پر کتاب سیرت النبی لکھی جس میں سے سبق ہجرت نبوی  لیا گیا ہےجس میں مصنف نے آپ کی ہجرت کے حوالے سے وضاحت کی.
     تشریح طلب اقتباس میں مصنف لکھتے ہیں کہ جب حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کی طرف سے لوگوں کو سچے دین  کی طرف اعلانیہ بلانے  کا حکم دیا گیاتو آپ نے اہل قریش کوسچائی کے راستے کی طرف بلایا اور اسلام کی دعوت دی تو انھوں نے اس راستے کو اپنانے کی بجائے اس کی مخالفت میں تلواریں نکال لیں اور آپ کے بدترین دشمن بن گئے ..وہ مسلمانوں پر ظلم ستم ڈھانے لگے اور آپ کی راہ میں کانٹے بچھانے لگے.انھوں نے صحابہ کرام پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیے اور حضوراکرم کو بہت زیادہ تنگ کیا..حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا: 
" اللہ کی راہ میں جتنا میں ستایا گیا ہوں اتنا کوئی اور نہیں ستایا گیا"۔
 (احمد مسند)
اہل قریش کے ان مظالم کی شدت کے پیش نظر اللہ تعالی نے مسلمانوں کو  مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم فرمایا جوکہ مسلمانوں کےلیے امن کا گہوارہ سرزمین تھی اور وہاں کے لوگ سچے مذہب اسلام کی طرف راغب تھے..آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے محافظ اور نگہبان اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل فرماتے ہوئے مسلمانوں کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ذات مبارکہ کےلیے اللہ تعالی کے حکم کے منتظر رہے کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کام اللہ تعالی کی منشا کے بغیر نہیں فرماتے تھے..جیساکہ قرآن پاک میں ارشاد ہے
"  آپﷺ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے بلکہ وہ کہتے ہیں 
(۔۔ جس کا انھیں حکم دیا جاتا ہے"( سورة النجم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ظالم قریش کا اصلی نشانہ تھی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کےلیے بھی اللہ تعالی کی طرف سے ہجرت کا حکم آگیا جس کی تکمیل کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف جانے کا عزم فرما لیا.. 

Tuesday, March 26, 2019

اردو نہم گیس پیپر سالانہ امتحان 20-2019




اردو نہم... پرچہ میں پوچھے جانے والے اہم سوالات


اہم واحد جمع..
خلق ... اخلاق
عقل..عقول.
محنت ..محن
کبیر... کبار / کبائر.
سنت...سنن
حکم ..احکام
حاکم... حکام
خیمہ..خیام
ادب...آداب.
ادیب ...ادبا
تفسیر...تفاسیر
یتیم...یتامی..
فقیر...فقرا
غریب...غربا..
امیر...امرا
عمید...عمائد..
تلمیذ.. تلامیذ.
الم ...آلام

اہم مذکر مونث
زوجہ ...زوج.
نند...نندوئی.
گھسیارا...گھسیارن
نٹ...نٹنی.
تنبولی.. تنبولن..
بھائی ...بھاوج
بہن...بہنوئی..
بندر.... بندریا..
کتا....کتیا.
معلم...معلمہ

اہم مترادف
فراخ...کشادہ
ظلمت.. تیرگی
کشادہ....وسیع
عاقل...دانش مند
عسرت. ..تنگی

اہم متضاد.
طول...عرض
شریف...رذیل
قوت....ضعف.
قوی....ضعیف
باطن...ظاہر
معلم...متعلم
رغبت...نفرت

اہم ضرب الامثال.
کاٹھ کی ہنڈیا....
ماروں گھٹنا.....
عید پیچھے.....
بارہ برس دلی میں رہے.....
آسمان سے گرا....
خدمت سے.....
بھاگتے چور کی.....
گڑ سے مرے....
ناؤ کاغذ کی......
ہم بھی پانچوں.......
شیخی اور......
تین کانے
ساجھے کی ہنڈیا چوراہے پر پھوٹتی ہے
اہم درخواستیں
ہیلتھ آفیسر..
پوسٹ ماسٹر
فوڈ کنٹرولر
ہیڈ ماسٹر والی تمام

اہم کہانیاں..
قوم کی خاطر ایثار..
اتفاق میں برکت
نااتفاقی کا انجام
جھوٹ کا انجام.
جس کا کام اسی کو ساجھے
دودھ کا دودھ..
عادت کی خرابی..
ایسے کو تیسا یا جیسس کرو گے ویسا بھروگے.

اسباق کے اندر سے پوچھے جانے والے سوالات اہم.
اردو کے پہلے ناول نگار...ڈپٹی نذیر احمد
خاندان مغلیہ کے آخری تاجدار.... بہادر شاہ ظفر.
طالب علم کتنی دیر میں کمرہ جماعت سے نکل آتا....آدھ گھنٹہ میں
رسالہ اسباب بغاوت ہند کس نے لکھا.  ... سرسید احمد خان نے
ڈاکٹر نے میاں کو تاکید کی..... خاموش لیٹے رہنے کی..
استعارہ کے لغوی معنی ...ادھار لینا
قاطع برہان کے مصنف... مرزا غالب
جمن کی بیوی کا نام...فہیمن..
مرزا پنشن کےلیے سفر کرتے... کلکتہ کا..
کس کی قسمیں نہیں... بھینس
غزل کے جس شعر میں شاعر تخلص استعمال کرے .... مقطع
برہمن کو کس بات کی حسرت تھی...بتوں سے باتوں کی
جرات سے ملنے کون آئے...انشا اللہ خان
اکثر کون گھبرایا کرتا ہے..مبتدی
میاں دفتر جایا کرتے...صبح دس بجے
مرزا ادیب کا اصل نام...دلاور علی.
الو کی کتنی قسمیں بیان کی گئی ہیں.... بیس سے زائد
مرزا سودا کا کلام ہے....واہ
تجمل کی کوٹھی کانام...النشاط
چوزے کی تخنی غذا ہے.... مقوی
لوگ غالب کو خط لکھتے.... بیرنگ
کوا گرامرمیں استعمال ہوتا ہے...مذکر
کس نے سودا کو میر پر ترجیح دی...ابراہیم ذوق
مدو جزر اسلام کس کی تصنیف ہے...الطاف حسین حالی.
علامہ اقبال..الطاف حسین حالی...سرسید احمد خان اور مرزا غالب کی دو دو تصانیف لکھیں..

خط..  چچا نے نام چچی کی بیمار پرسی..
اس کے علاوہ باقی نمبر وائز پہلے بتا چکا ہوں...
اہم مکالمے...استاد اور شاگرد.
دو دوستوں کا مکالمہ
سب سے اہم گاہک اور دکاندار کے درمیان ہے..

جماعت نہم اردو سبق" نصوح اور سلیم کی گفتگو" تشریح پیراگراف نمبر1


پیرا گراف نمبر1
 جناب کچھ عجب عادت ان لڑکوں کی ہے.........نہ کسی پر آوازہ کستے ہیں..

حوالہ متن:

سبق کا عنوان:  نصوح اور سلیم کی گفتگو
مصنف کانام: ڈپٹی نذیر احمد
صنف: ناول
ماخد: توبہ النصوح

خط کشیدہ الفاظ کے معانی

 عجب.... انوکھی.عجیب
جان پہچان.... واقفیت
برس.... سال
کانوں کان خبر نہ ہونا..
معمولی سا پتا نہ لگنا
کوڑیوں.....بے وقعت پھرنے والے...
واسطہ.... تعلق
اوپر تلے... چھوٹے بڑے..یکے بعد دیگرے
آوازہ کسنا.... تنگ کرنا..مذاق اڑانا

سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس ڈپٹی نذیر احمد کے تحریر کردہ ناول نصوح اور سلیم کی گفتگو  کے آخری حصے سے لیا گیا ہے. اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ نصوح نے خواب میں دل دہلا دینے والے آخرت کے مناظر دیکھے..بیداری پر اس نے گھر والوں کی اصلاح کی ٹھانی.اس نے اپنے بیٹے سلیم کو بلا کر اس سے مدرسے کے بارے اور کھیلوں سے عدم دلچسپی کے بارے میں پوچھا تو سلیم نے محلے میں رہنے والے چار لڑکوں کو کھیلوں سے عدم دلچسپی کی وجہ قرار دیا کہ ان کے اخلاق سے متاثر ہو کر اس کا دل کھیلوں سے اچاٹ ہوگیا تھا...
 تشریح

:
ڈپٹی نذیر احمد کا شمار اردو کے ابتدائی ناول نگاروں میں ہوتا ہے.انھوں نے ہمیشہ اصلاحی ناول لکھے.." نصوح اور سلیم کی گفتگو" ان کا ایسا ہی اصلاحی ناول ہے جس میں وہ ایسے خاندان کے متعلق بتاتے ہیں جس کا سربراہ نصوح ہے جو اپنے گھر والوں کی دنیاوی اور اخروی لحاظ سے اصلاح کرنا چاہتا ہے.
              تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ سلیم اپنے والد نصوح کو محلے کے چار لڑکوں کے بارے میں بتاتا ہے جو نہایت عمدہ اوصاف کےمالک ہیں..یہ لڑکے کچھ عجیب عادات کے مالک ہیں.میں ان کے حسن اخلاق اور شریفانہ مزاج سے بےحد متاثر ہوا ہوں..میں حیران ہوں کہ جب وہ راستے میں سے گزرتے ہیں تو نہایت عاجزی اور انکساری سے گردنیں جھکا کر گزرتے ہیں اور اپنی نظریں بھی جھکا کر رکھتے ہیں..حیا اور اخلاق کا حسین مرقع ہیں .جیسا کہ قرآن مجید میں ہے
" اے ایمان والو ! اپنی گردنیں نیچی رکھا کرو".
انھیں راستے میں کوئی اپنے سے بڑا مل جاتا چاہے اس سے واقفیت ہو یا نہ ہو سلام ضرور کرتے ہیں..آپ تو جانتے ہیں یہ چاروں بھائی پچھلے کئی سالوں سے ہمارے محلے میں رہتے ہیں لیکن اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور دیگر شرارتی اور آوارہ لڑکوں سے دور رہتے ہیں..کسی سے دوستی نہیں ہے..یہ چاروں لڑکے آپس میں سگے بھائی ہیں اور چھوٹے بڑے ہیں..ان کی عمروں میں زیادہ فرق نہیں ..ان کا آپس میں بہت پیار اور انس ہے اور ایک دوسرے کا بےحد احترام کرتے ہیں..یہ سب سے اتفاق اور اتحاد سے رہتے ہیں.کبھی کسی سے لڑتے جھگڑتے نہیں , کبھی کسی کو گالی نہیں دیتے,کبھی قسم نہیں کھاتے, جھوٹ سے نفرت کرتے ہیں, دوسروں کو بلا وجہ تنگ کرنا , کسی پر آوازہ کسنا اور ان کا مذاق اڑانا بےحد ناپسند کرتے ہیں بلکہ اخلاق اور شرم و حیا کا پیکر اور مجسمہ ہیں..
بقول شاعر

حیا سے حسن کی قیمت دوچند ہوتی ہے
نہ ہوں جو آب تو موتی کی آبرو کیا ہے..

جماعت نہم اردو سبق "مرزا غالب کے عادات و خصائل " تشریح پیراگراف نمبر3


سبق:مرزا غالب کے عادات و خصاٸل
پیراگراف نمبر3
اگرچہ مرزا کی آمدنی قلیل......اکثر تنگ رہتے تھے..
 حوالہ متن
سبق کا عنوان: مرزا غالب کے عادات و خصائل
مصنف کا نام: مولانا الطاف حسین حالی
صنف: سوانح نگاری یا خاکہ نگاری
ماخذ : یادگار غالب

 خط کشیدہ الفاظ کے معانی
قلیل..... کم ,تھوڑا
فراخ.... کشادہ , کھلا ,وسیع
سائل....سوالی, مانگنے والا ,فقیر, گداگر
اپاہج...معذور
غدر... فساد, ہنگامہ
بساط ..... طاقت, حیثیت

سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس سبق " مرزا غالب کے عادات و خصائل" کے ابتدائی حصے سے لیا گیا ہے جو کہ مولانا الطاف حسین حالی کا تحریر کردہ ہے..اس سبق میں مصنف بتاتے ہیں کہ مرزا غالب اخلاق کے وسیع تھے.دوستوں اور سائلوں سے اچھے طریقے سے پیش آتے. ضرورت مندوں کی حاجت روائی کرتے اور کم آمدنی کے باوجود فراخ دل تھے اور گردش روزگار سے بگڑے دوستوں سے شریفانہ سلوک کرتے اور ان کی مدد کرتے .مرزا غالب آموں کے دلدادہ تھے اور کہا کرتے تھے کہ آم میٹھا اور بہت ہونا چاہیے..

تشریح:

مولانا الطاف حسین حالی اردو ادب کے نامور شاعر اور مصنف تھے..انھیں مرزا غالب سے مصطفی خان شیفتہ نے متعارف کرایا اور مولانا نے مرزا غالب کی سوانح عمری پر  " یادگار غالب " کے نام سے کتاب لکھی..سبق مرزا غالب کے عادات وخصائل اسی کتاب سے اخذ کیا گیا ہے.
              تشریح طلب اقتباس میں مصنف مرزا غالب کی مالی حالت اور ان کے حوصلے کے بارے میں لکھتے ہیں کہ مرزا غالب کی مالی حالت کچھ زیادہ بہتر نہ تھی..اس کے باوجود بھی وہ کھلے دل کے مالک اور حوصلہ مند تھے..کھلے دل والے کی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ مال و دولت جمع کرنے کے قائل نہیں ہوتا اور نہ ہی مال و دولت کے حوالے سے حریص ہوتا ہے..مرزا غالب بھی انھیں خصوصیات کے حامل تھے..انھوں نے کبھی مال و دولت جمع کیا اور نہ اس بارے کبھی کچھ سوچا..جس کام کا دل میں خیال پیدا ہوتا اس کےلیے بےدریغ روپیہ خرچ کرتے تھے اور اپنی شاہ خرچیوں کی وجہ سے تنگ دست رہتے تھے مگر یہ مرزا غالب کی دریا دلی ہی تھی کہ تنگ دستی اور مشکل حالات میں بھی کسی سوالی اور مانگنے والے کو اپنے دروازے سے خالی ہاتھ نہ جانے دیتے تھے..یہی وجہ تھی کہ ان کے گھر کے باہر اندھے , ہاتھ پاؤں سے معذور مرد و عورت جمع رہتے تھے کیونکہ انھیں مرزا غالب سے مدد کی پوری توقع ہوتی تھی..مرزا غالب بھی ان کی توقع پر پورا اترنے کی کوشش کرتے اور ہر ممکن طور پر ان کی ضرورت پوری کرتے تھے۔جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے

" جو تنگ دستی اور خوش حالی دونوں حالتوں میں خدا
کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ متقی اور پرہیزگار ہیں."

             مصنف مزید بتاتے ہیں کہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جس میں مسلمانوں کو شکست ہوئی اور انگریز برصغیر پر قابض ہوئے تو ان کی حکومت نے ان کی تنخواہ ایک سو پچاس روپے سے کچھ زائد مقرر کر دی تھی..ان دنوں مرزا غالب کے کھانے پینے  کے اخراجات بھی کچھ زیادہ نہ تھے اور نہ ہی رہائش کا مسئلہ تھا اس لیے وہ اپنی زیادہ تر تنخواہ غریبوں اور محتاجوں کی ضروت پوری کرنے میں خرچ کرتے تھے..وہ اپنے ذاتی اخراجات میں کمی تو کرتے تھے مگر ضرورت مندوں کی اپنی حیثیت سے بڑھ کر مدد کرتے تھے کیونکہ وہ اصل زندگی دوسروں کی خدمت کو سمجھتے تھے..جیسا کہ مقولہ ہے:
" اپنے لیے تو سبھی جیتے ہیں مزا تو تب ہے کہ دوسروں کےلیے جیا جائے".
غالب کی مکمل زندگی دوسروں کی حاجت روائی میں گزری.یہی وجہ تھی کہ وہ اکثر مالی طور پر پریشان رہتے تھے اور ان کا گزارہ مشکل سے ہوتا تھا..پھر بھی خدمت خلق کو ہمیشہ اولیت دیتے تھے۔
بقول شاعر

درد  دل  کے  واسطے  پیدا  کیا   انسان  کو

ورنہ طاعت کےلیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

اردو نہم.. نصوح اور سلیم کی گفتگو..پیراگراف2 تشریح


 نہم اردو سبق نصوح اور سلیم کی گفتگو پیراگراف نمبر2 تشریح ۔
 اقتباس :
منجھلا لڑکا میرا ہم جماعت ہے.....انھوں نے مجھ کو اندر بلا لیا..

حوالہ متن.
سبق کا عنوان: نصوح اور سلیم کی گفتگو
مصنف کا نام: ڈپٹی نذیر احمد
صنف: ناول
ماخذ: توبتہ النصوح.
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
منجھلا..... درمیانہ..بیچ والا
آموختہ..... پڑھا ہوا سبق
ناخوش.... ناراض
بہ سروچشم...سرآنکھوں پر

سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس ڈپٹی نذیر احمد کے تحریر کردہ ناول "نصوح اور سلیم کی گفتگو" کے آخری حصے سے لیا گیا ہے..اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ نصوح نے خواب میں دل دہلا دینے والے آخرت کے مناظر دیکھے. بیداری پر اس نے اپنے گھر والوں کی اصلاح کی ٹھانی..اس نے اپنے بیٹے سلیم کو بلا کر اس سے مدرسے کے بارے اور کھیلوں سے عدم دلچسپی کے بارے میں پوچھا تو سلیم نے اس کی وجہ محلے میں رہنے والے ان چار لڑکوں کو قرار دیا جن کے اخلاق سے متاثر ہو کر اس کا دل کھیلوں سے کھٹا ہوگیا..

تشریح:

ڈپٹی نذیر احمد کا شمار اردو کے ابتدائی ناول نگاروں میں ہوتا ہے..انھوں نے ہمیشہ اصلاحی ناول لکھے.." نصوح اور سلیم کی گفتگو" ان کا ایسا ہی اصلاحی ناول ہے جس میں وہ ایسے خاندان کے متعلق بتاتے ہیں جس کا سربراہ نصوح ہے جو اپنے گھر والوں کی دنیاوی اور اخروی لحاظ سے اصلاح کرنا چاہتا ہے..
             تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ سلیم اپنے والد کو محلے کے چار لڑکوں کے بارے میں بتاتا ہے جوکہ نہایت عمدہ اوصاف کے مالک ہیں..ان کے اخلاق اور شریفانہ مزاج سے ہر کوئی متاثر ہے.
سلیم اپنے والد کو بتاتا ہے کہ ان چاروں لڑکوں میں سے بیچ والا میرا ہم جماعت ہے..ایک دن ایسا ہوا کہ استاد صاحب کا پڑھایا ہوا سبق مجھے یاد نہیں تھا..جب انھوں نے مجھ سے سبق سنا تو میں سنا نہ سکا جس کی وجہ سے وہ بہت ناراض ہوئے اور اس لڑکے کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ بھی تیری طرح کا ہی لڑکا ہے.. بہت محنتی اور لائق ہے اور روزانہ سبق یاد کرکے آتا ہے..تمھارے گھر کے ساتھ ہی رہتا ہے..تم میں اور اس میں کتنا فرق ہے..اگر تمھیں کھیلنے سے فرصت ملے تو اس کے پاس جاکر سبق پڑھ لیا کرو..
            استادمحترم
کی باتیں سن کر مجھے بڑی ندامت ہوئی..تب میں نے اس لڑکے سے عرض کیا کہ کیا وہ مجھے سبق یاد کرا دیا کرے گا تو اس نے فورا رضامندی کا اظہار کیا اور کہا آپ کی بات سرآنکھوں پر ..جس سے واضح ہوا کہ وہ خوشی سے اس کام کےلیے تیار تھا..چناں چہ اگلے دن میں اس کے گھر گیا اور اسے آواز دی تو اس نے مجھے اندر بلا کر اپنے پاس بٹھایا..

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی


جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی..
......................................
دونوں میں سے کوئی ایک شعر لکھ سکتے ہیں جو آسانی سے یاد ہو..

جماعت نہم اردو سبق" قدرایاز" تشریح پیراگراف نمبر5


سبق : قدر ایاز
پیراگراف نمبر5
 ہم نے سکون سے یہ قصہ سنا..... دیہاتی سمجھا ہوگا

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: قدرایاز
مصنف کانام: کرنل محمد خان

خط کشیدہ الفاظ کے معنی
 قصہ.... کہانی , ماجرا
طرفین: طرف کی جمع  دونوں طرف کے
واضح.... نمایاں
تنازع..... جھگڑا
خفیف..... معمولی, ہلکا سا
دو طرفہ...... دونوں طرف سے
حدود اربعہ.... مکمل رقبہ, چاروں اطراف سے
ناخوش.... ناراض
ناقابل برداشت.... جو ضبط کے قابل نہ ہو
 قباحت.... برائی
بلاغت ..... فصاحت, دلیل سے

سیاق و سباق:تشریح طلب اقتباس سبق " قدر ایاز" کے درمیان سے لیا گیا ہے..اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ ایک دن سلیم کی غیر موجودگی میں اس کا دوست امجد آیا تو ملازم علی بخش نے اس کی ٹھیک طرح سے خدمت نہ کی تو سلیم نے اسے برابھلا کہ کر ڈانٹا..مصنف نے سلیم اور علی بخش دونوں کے بیانات سن کر انھیں ایک دیہاتی لڑکے کی کہانی سنائی جس سے دونوں کے درمیان ناراضی ختم ہوگئی اور دیہاتی پن سے محبت بھی جاگ اٹھی..
 تشریح:

کرنل محمد خان اردو ادب کے بہترین مضمون نگار اور ادیب تھے.انھوں نے سبق " قدر ایاز " میں دیہاتیوں کے سادہ مگر پرخلوص رویوں کو اجاگر کیا جس سے دیہاتی زندگی کی اصل خوب صورتی عیاں ہوتی ہے.
            تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے کمرے میں بیٹھا مطالعہ کر رہا تھا کہ ملازم علی بخش نہایت افسردہ چہرہ لیے آگیا اور سلیم کے ڈانٹنے کی شکایت کی کہ وہ اسے بدتمیز اور گنوار دیہاتی سمجھتا ہے..اس کی وجہ پوچھنے پر پتا چلا کہ علی بخش  سلیم کے دوست امجد کی درست خاطر تواضع نہ کرسکا جس پر سلیم ناراض ہوگیا اور اسے ڈانٹ دیا..
مصنف کہتے ہیں کہ جب علی بخش اپنی دکھ بھری کہانی سنا چکا تھا تو سلیم میاں بھی آگئے اور انھوں نے تمام معاملا جان لیا اور اپنی صفائی پیش کی..مصنف کہتے ہیں کہ میں نے دونوں کے بیانات اطمینان سے سنے جس سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ جھگڑا معمولی سا ہے جسے دونوں کو ساتھ بٹھا کر اور چائے کی پیالی پلا کر افہام و تفہیم سے اسے نمٹایا جاسکتا ہے اور ان کی صلح کرائی جاسکتی ہے کیونکہ صلح ہی سے بھلائی اور بہتری ہوتی ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ بھی ہے :
" کسی مسلمان پر دوسرے مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی جائز نہیں".
:قرآن مجید میں بھی اللہ تعالی فرماتے ہیں

" سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں .پس اپنے
 بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے".
         

دراصل علی بخش سلیم میاں سے اس لیے نالاں اور ناراض تھا کہ انھوں نے اسے دیہاتی ہونے کا طنعہ دیا تھا جبکہ سلیم میاں اس بات پر خفا اور ناراض تھے کہ علی بخش کی تھوڑی سی غفلت اور لاپروائی سے امجد نے اسے دیہاتی سمجھا ہوگا.. گویا دونوں کے نزدیک دیہاتی ہونے کا طعنہ ناقابل برداشت تھا اور میرے نزدیک دیہاتی ہونا کوئی عیب والی بات نہ تھی اس لیے میں نے دونوں کی غلط فہمی دور کرنے کےلیے ہنسی ہنسی میں دیہاتی زندگی کی خوبیاں بیان کر دیں جس سے دونوں میں صلح اور رضامندی ہوگئی...


بقول شاعر

 جھگڑا تھا جو دل پہ اس کو چھوڑا

کچھ سوچ کے صلح کر گئے ہم..

پیراگراف نمبر8 خطوط غالب

                     03065976174            سبق:    خطوط غاؔلب               aufsurani.blogspot.com                                         ...