Thursday, November 19, 2020

پیراگراف نمبر6 سبق مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ


سبق: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
پیراگراف نمبر6
اقتباس :
یا اللہ کیا وہ اس پر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو جاتا ہے مجھے نقصان۔
حوالۂ متن:
سبق کا عنوان: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
مصنف کا نام: سجاد حیدر یلدرم
صنف: مضمون
ماخذ: خیالستان
خط کشیدہ الفاظ کےمعانی:
نعمت ۔۔۔۔ انعام۔
بےہودہ ۔۔۔۔ فضول ، گھٹیا، نامقعول
دوبھر ۔۔۔۔ مشکل، کٹھن
خیر طلب ۔۔۔۔ عافیت چاہنے والے، بھلائی چاہنے والے۔
عملی نتیجہ ۔۔۔۔ انجام۔
احباب ۔۔۔۔ حبیب کی جمع، دوست۔

سیاق و سباق: 
         تشریح طلب اقتباس درسی سبق" مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ " کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف دلی کے چاندنی چوک میں موجود فقیر کے حوالے سے بتاتا ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اس کا کوئی دوست نہیں۔ کیا اس کا واقعی کوئی دوست نہیں؟ اور اسے اپنے دوستوں کے پاس نہیں جانا پڑتا اور اگر نہ جائے تو اسے کوئی شکایت نہیں کرتا۔ اگرایسا ہے تو وہ بہت خوش نصیب ہے کیونکہ میرے سامنے کوئی یہ ثابت نہیں کرسکا کہ احباب کا جم غفیر رکھنے کا کیا فائدہ ہے؟
تشریح: 
          سجاد حیدر یلدرم اردو ادب کے نامور مصنف اور افسانہ نگار تھے۔ان کے افسانوں میں رومانیت کا رنگ غالب ہوتا ہے اور یہ انشائے لطیف کا بھی عمدہ نمونہ ہیں۔ ایسا ہی ان کا افسانہ "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" ہے جس میں وہ اپنے مخلص دوستوں سے عاجز نظر آتے ہیں اور انھیں ہر صورت چھوڑ دینے کے درپے ہیں۔
          تشریح طلب اقتباس میں مصنف چاندنی چوک میں اپنی مدد کےلیے آواز لگانے والے فقیر کے متعلق بتاتا ہے کہ اگر فقیر کا کوئی دوست نہیں ہے تو اسے اس پر افسوس کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ دوستوں کے ساتھ رہ کر انسان کےلیے اپنی انفرادی زندگی اور زندگی کے لوازمات کو سرانجام دینامشکل ہو جاتا ہے اس لیے اس فقیر کا دوست نہ ہونا اس کےلیے ایک انعام سے کم نہیں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے اور کیا نعمت مانگتا ہے؟اللہ تعالیٰ نے اسے دوست سے نہ نواز کر  اس پر بڑا کرم کیا ہے۔
مصنف دوستوں سے بیزاری ظاہر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہوئے کہیں گے کہ یہ آدمی دوستوں کے متعلق فضول اور نامعقول قسم کے خیالات رکھتا ہے۔ دوستوں کے بغیر تو انسان زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا کیونکہ زندگی کے بیشتر مسائل دوستوں کے تعاون سے ہی حل ہوتے ہیں جبکہ یہ شخص دوستوں سے دور بھاگتا ہے اور ان سے بیزاری ظاہر کرتا ہے۔لوگ مجھے کچھ بھی کہیں مگر میں اپنے دوستوں سے عاجز ہونے کی وجہ ضرور بتاؤں گا۔
میں دوستوں کو برابھلا کہتا ہوں اور نہ ہی مجھے اپنے دوستوں سے کوئی عداوت ہے۔وہ میرے پاس آتے ہیں تو میری خوشی اور دل لگی کےلیے آتے ہیں اور ان کے دل میں میرے لیے کوئی کھوٹ بھی نہیں ہوتابلکہ وہ میرے خیرخواہ ہیں مگر ان دوستوں سے عملی طور پر میں یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ میرے دوست بظاہر تو مجھے فائدہ دینے اور میری خوشی کےلیے میرے پاس آتے ہیں مگر ان کے آنے سے مجھے اتنا فائدہ نہیں ملتا جتنا میرا نقصان ہو جاتا ہے۔ان کی آمد میرے لیے مفید ثابت ہونے کی بجائے نقصان دہ ثابت ہو جاتی ہے۔ بقول شاعر:
   ؎   دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں
         دوستوں کی  وفا سے ڈرتے ہیں

Wednesday, November 18, 2020

پیراگراف نمبر5سبق مجھے میرے دوستوں ےے بچاؤ


 

سبق: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
پیراگراف نمبر5
اقتباس: بھائی جان! دیکھو پرانی دوستی۔۔۔۔۔۔۔ میں نحیف و نزار ہوں۔
حوالہ متن: 
سبق کا عنوان: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
مصنف کا نام: سجاد حیدر یلدرم
صنف: مضمون
ماخذ: خیالستان
خط کشیدہ الفاظ کے معانی:
واسطہ ۔۔۔۔ تعلق، دہائی دینا۔
احباب ۔۔۔۔ حبیب کی جمع، دوست۔
قرض ۔۔۔۔ ادھار۔
بےوقت ۔۔۔۔ بے موقع محل کے۔
جھونکے ۔۔۔۔ لہریں
نیند کے جھونکے ۔۔۔۔ خماری آنا، نیند آنا۔
قصہ ۔۔۔۔ کہانی، واقعہ۔
لطیفہ ۔۔۔۔ پُرمزاح بات۔
تصنیف ۔۔۔۔  کتاب لکھنا۔
خواہ مخواہ ۔۔۔۔ بغیر وجہ کے، فضول میں۔
ریویو ۔۔۔۔ تبصرہ، رائے دینا۔
ہوحق کرنا ۔۔۔۔ شورغل کرنا۔
شکایت ۔۔۔۔ گلہ شکوہ۔
تعجب ۔۔۔۔ حیرانی۔
ہٹاکٹا ۔۔۔۔ صحت مند۔
نحیف و نزار ۔۔۔۔ دبلا پتلا، کمزور و ناتواں۔
سیاق و سباق:
       تشریح طلب اقتباس درسی سبق " مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" کے تقریباً ابتدائی حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف  دلی کے چاندنی چوک میں صدا لگاتے فقیر کے متعلق بیان کرتا ہے کہ اگر واقعی اس کا کوئی دوست نہیں تو یہ بہت خوش قسمت ہے اور یہیں وہ مجھ سے بڑھ گیا۔ کیا واقعی اس کا ایسا کوئی دوست نہیں جو اسے پانچ منٹ کی فرصت نہ دے۔ مجھے تو اپنے دوستوں کی وجہ سے اتنا بھی یقین نہیں آتا کہ تخلیے میں اپنے خیالات جمع کرکے اطمینان سے کچھ قلم بند کرسکوں گا یا نہیں۔ اگر اس کا سچ مچ کوئی دوست نہیں تو یہ اس کےلیے کسی نعمت سے کم نہیں اور اس پر اسے اللہ کا شکر ادا کرناچاہیے۔
تشریح:
          سجاد حیدر یلدرم اردو ادب کے نامور مصنف اور افسانہ نگار تھے۔ان کے افسانوں میں رومانیت کا رنگ غالب ہوتا ہے اور یہ انشائے لطیف کا بھی عمدہ نمونہ ہیں۔ ایسا ہی ان کا افسانہ "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" ہے جس میں وہ اپنے مخلص دوستوں سے عاجز نظر آتے ہیں اور انھیں ہر صورت چھوڑ دینے کے درپے ہیں۔
      تشریح طلب اقتباس میں مصنف چاندنی چوک میں موجود فقیر کے دوست نہ ہونے کے دعوے کو اس کی خوش قسمتی گردانتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا یہ فقیر دن دہاڑے اپنا روپیا پیسا اپنے دوستوں سے بچا کر لے جاسکتا ہے؟ کیا اس کا ایسا کوئی دوست نہیں جو اس سے رقم ادھار نہ مانگتے ہوئے یہ نہ کہے کہ بھائی تیری میری دوستی بہت پرانی ہے اور ہمارا باہم گہرا تعلق ہے تو میں اس دوستی اور تعلق کی بنیاد پر تم سے اپنی سخت ضرورت کے عوض کچھ رقم قرض کے طور پر مانگتا ہوں۔ گویا کہ:
" مال مفت دل بےرحم "۔
          ہمارے دوست جس طرح ہمیں بےموقع اور بےوقت کسی نہ کسی دعوت اور کسی تقریب میں زبردستی جانے پر مجبور کرتے ہیں کیا فقیر کو کوئی ایسے مجبور نہیں کرتا؟ کیا وہ ایسے دوستوں سے بچا ہوا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ اس کےلیے غنیمت ہے۔ہمارے دوست تو ایسے ہیں جو سخت تھکاوٹ کے عالم اورنیند کی سخت طلب کے باوجود دوستوں کی محفل سے اٹھنے نہیں دیتے اور قصے، کہانیاں اور لطیفے سناتے رہتے ہیں مگر آرام کرنے کےلیے نہیں اٹھتے اور نہ کسی کے آرام کا خیال رکھتے ہیں۔ بقول شاعر:
؎ دوستوں سے ملاقات کی شام ہے
یہ سزا کاٹ کے اپنے گھر جاؤں گا
اگر فقیر کے ایسے کوئی دوست نہیں تو وہ اس سے بڑھ کر اور کیا چاہتا ہے؟ ہمیں اپنے دوستوں کو خط لکھنے پڑتے ہیں اور ان کے خطوط کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ بعض اوقات اپنے کسی عزیز دوست کی لکھی ہوئی کتاب بھی طبیعت کے نہ چاہنے کے باوجود محض اس کی خواہش پر زبردستی پڑھنی پڑتی ہے اور اس پر تنقیدی جائزہ بھی اس کی تاکید کی وجہ سے لکھنا پڑتا ہے۔ ہمیں دوستوں کی محفل میں بلاوجہ اور صرف تفریح کےلیے شورغل بھی کرنا پڑتا ہے۔ اپنی مصروفیت سے وقت نکال کر دوستوں سے ملنے جانا ہماری مجبوری ہوتا ہے کیونکہ نہ جانے کی صورت میں ان کی طرف سے گلے شکوے ہوتے ہیں اور ان کی ناراضی مول لینی پڑتی ہے۔
            اگر فقیر ان تمام باتوں سے آزاد ہے تو وہ اس سے بڑھ کر اپنے لیے اور کون سی نعمت چاہتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اسے دوستوں کی جھنجھٹ سے آزاد کیا ہوا ہے اور قابلِ رشک صحت بھی عطا کی ہوئی ہے۔وہ جسمانی طور پر مضبوط اور توانا بھی ہے جبکہ میں کمزور اور ناتواں ہوں اور مجھے دوستوں کی وجہ سے مشکلات بھی درپیش ہیں جس سے فقیر یکسر آزاد ہے تو وہ اس سے بڑھ کر اور کیا  چاہتا ہے؟ اسے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے۔ بقول شاعر:
 ؎ دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں
      دوستوں کی مہربانی چاہیے





پیراگراف نمبر4 سبق مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ

 

سبق: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
پیراگراف نمبر4
اقتباس:
اس کی صحت

پر مجھے رشک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی اس کے حق میں نعمت ہے۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
مصنف کا نام: سجاد حیدر یلدرم
صنف: مضمون
ماخذ: خیالستان
خط کشیدہ الفاظ کے معانی:
رشک ۔۔۔۔ کسی اور جیسابننے کی خواہش۔
فکر ۔۔۔۔پریشانی، سوچ
اطمینان ۔۔۔۔ سکون،آرام
بسورنا ۔۔۔۔ روہانسا ہونا۔
بشاشت ۔۔۔۔ تروتازگی
قابل رشک ۔۔۔۔ رشک کے لائق۔
بظاہر ۔۔۔۔ ظاہری طور پر، دیکھنے میں۔
مصیبت ۔۔۔۔ تکلیف۔
نعمت ۔۔۔۔ انعام۔
حسرت ۔۔۔۔ ناامیدی، یاس۔
سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق"مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ"کے ابتدائی حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف دلی کے چاندنی چوک میں صدا لگاتے ہوئےفقیر سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگرچہ میں نے تعلیم پائی ہے، وہ جاہل ہے۔میں اچھے لباس میں ہوتا ہوں اور وہ پھٹے کپڑے پہنتا ہے۔یہاں تک تو میں اس سے بہتر ہوں مگر جب وہ یہ کہتا ہے کہ اس کا کوئی دوست نہیں تو میں حسرت سے کہتا ہوں کہ میرے اتنے دوست ہیں۔اگر اس کا واقعی کوئی دوست نہیں تو وہ خوش نصیب ہے اور یہیں سے وہ مجھ سے بڑھ گیا ہے۔
تشریح:

          سجاد حیدر یلدرم اردو ادب کے نامور مصنف اور افسانہ نگار تھے۔ان کے افسانوں میں رومانیت کا رنگ غالب ہوتا ہے اور یہ انشائے لطیف کا بھی عمدہ نمونہ ہیں۔ ایسا ہی ان کا افسانہ "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" ہے جس میں وہ اپنے مخلص دوستوں سے عاجز نظر آتے ہیں اور انھیں ہر صورت چھوڑ دینے کے درپے ہیں۔
         تشریح طلب اقتباس میں مصنف دلی کے چاندنی چوک میں صدا لگاتے ہوئے فقیر سے اپنا موازنہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ فقیر بہت صحت مند اور ہٹاکٹا تھا جبکہ میں نحیف اور کمزور، اس وجہ سے مجھے اس کی صحت پر رشک آتا تھا۔مجھے اپنی بسر اوقات  کےلیے کام کاج اور دیگر مسائل کی فکرمندی رہتی ہے کیونکہ اپنے ہاتھ سے کمانے والے کو ایسی فکرمندی کا ہر صورت سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ وہ فقیر اس طرح کی کسی فکرمندی سے بےنیاز ہوکر اطمینان اور سکون سے اپنی زندگی بسر کرنے میں مصروف تھا کیونکہ اسے کمانے کے حوالے سے کسی قسم کی فکر لاحق نہ تھی۔ وہ دوسروں کی مدد کے سہارے زندگی گزار رہا تھا تو اسے کوئی فکر کیونکر لاحق ہوتی۔ جیساکہ کہا جاتا ہے:
"  محنت کرے مرغی اور انڈا کھائے فقیر"۔
اس فقیر کا چہرہ پُررونق اور تروتازہ تھا۔ اس میں اگر کچھ خامی تھی تو یہ تھی کہ اس نے بھیک مانگنے کےلیے اپنی شکل بھی رونے دھونے والی بنا رکھی تھی کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرتا تو کوئی بھیک دینے کو تیار نہ ہوتا۔ جیسا کہ کہاوت ہے:
" فقیرکی صورت سوال ہوتی ہے"۔
       مصنف کہتا ہے کہ میں یہ جانچنے کی کوشش کرتا رہا کہ آخر اس کی بہترین صحت اور چہرے کی تروتازگی کے پیچھے کون سا راز ہے؟ تو میں اس عجیب و غریب نتیجے پر پہنچا کہ اس کا دوست نہ ہونا ہی اس کی بنیادی وجہ تھی۔ وہ دوست نہ ہونے کو خود کےلیے مصیبت تصور کرتا حالانکہ میرے نزدیک اس کا دوست نہ ہونا اس کےلیے کسی انعام اور نعمت سے کم نہیں بلکہ دوست نہ ہونا اس کے حق میں بہتر ہے کیونکہ دوست ہی ہوتے ہیں جو ہمارے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں ۔اس کا کوئی دوست نہیں اس لیے وہ ہر طرح کی مشکل اور مصیبت سے بےنیاز تھا ۔ بقول شاعر
؎ دشمنوں کی جفا کا خوف نہیں
     دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں




Sunday, November 8, 2020

پیراگراف نمبر3 تشریح نہم سبق آرام و سکون


                                             سبق: آرام و سکون

                                           پیراگراف نمبر3
                                                                            اقتباس:
                                     گھر میں بہرے بستے ہیں جو کم بخت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔
                                                                         حوالہ متن:
                                                      سبق کا عنوان:                  آرام و سکون
                                                       مصنف کا نام:                سید امتیاز علی تاج
                                                              صنف:                    ڈرامہ نگاری
                                                                 خط کشيدہ الفاظ کے معانی:
                    بہرے ۔۔۔۔۔ قوت سماعت سے محروم۔                                  کم بخت ۔۔۔۔۔ نامراد، بدنصیب۔
                    کھٹکھٹانا ۔۔۔۔۔ دستک دینا۔                                                    تاکید ۔۔۔۔۔ اصرار کرنا، کسی بات پر زور دینا۔
                 اللہ ماروں ۔۔۔۔۔ نگوڑوں، بدبختوں۔                                          شورغل ۔۔۔۔۔ شورشرابہ۔
                     نامراد ۔۔۔۔۔ بدبخت۔                                                بیسیوں مرتبہ ۔۔۔۔۔ متعدد بار، کئی بار۔
  کانوں پر جوں نہ رینگنا ۔۔۔۔۔ بالکل اثر نہ ہونا، رتی برابر اثر نہ ہونا۔
                       سیاق و سباق:
                                       تشریح طلب اقتباس درسی سبق " آرام و سکون" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب، اشفاق میاں کو تکان اور حرارت کی وجہ سے آرام و سکون کا مشورہ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ان کے کمرے میں شور بالکل نہ ہو۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد اشفاق میاں کی بیوی جب گھنٹی ڈھونڈ رہی ہوتی ہے تو باہر سے سقا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ اس پر اشفاق میاں کی بیوی سقے کو آڑے ہاتھوں لیتی ہے جبکہ اشفاق میاں اپنی بیگم سے کہتے ہیں کہ اب اس بے چارے کو بخش دو۔
                            تشریح:
                                      سید امتیاز علی تاج کا شمار اردو ادب کے نامور ڈرامہ نویسوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تحریر سادہ اور بےتکلف ہوتی ہے اور ان کے ڈراموں کے کردار جاندار اور متحرک ہوتے ہیں۔ چستی،برجستگی اور بےساختگی ان کے ڈراموں کا خاصا ہے۔" آرام و سکون" بھی ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں وہ اجاگر کرتے ہیں کہ آرام و سکون انسان کی زندگی میں بہت ضروری ہے۔
                           تشریح طلب اقتباس میں مصنف، اشفاق میاں کے گھر کے اندر کا منظر بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب اشفاق میاں کے گھر پانی پہنچانے کی غرض سے سقا زور سے  دروازے پر دستک دیتا ہے تو اشفاق میاں کی بیوی اس کے اس طرز عمل پر خفا ہو جاتی ہے اور سقے کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کر دیتی ہے۔ وہ سقے کو اونچی آواز میں باور کرانا شروع کر دیتی ہے کہ گھر میں کوئی بہرے نہیں رہتے جو اس قدر زور سے دروازے کی کنڈی کھٹکھٹاتا ہے۔ اس نامراد کو اتنا بھی احساس نہیں ہے کہ آرام سے دستک دے کہ گھر میں کوئی بیمار پڑا ہوا ہے اور ڈاکٹر نے شور شرابہ کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔ اسے اور کسی کا نہیں تو ایک بیمار کا ہی احساس کر لینا چاہیے۔ جیسا کہ قول ہے:
                                            " اگر تم کسی کو خوشی نہیں دے سکتے تو اُسے تکلیف بھی نہ دو"۔ 
                         اشفاق میاں کی بیوی سقے کو جلی کٹی سنانے کے بعد اپنے ملازم للو سے مخاطب ہو کر اسے آواز لگاتی ہے کہ سقے سے کہو کہ پانی لانے کا یہ کوئی وقت نہیں ہے۔ اب دوپہر کا وقت قریب آ چکا ہے اور یہ اب پانی لے کر آیا ہے۔ آئندہ اگر اس کی یہی روش رہی اور  اس نے اسی طرح غیر ذمہ داری کا مظاہرہ جاری رکھا اور اسی طرح بےوقت پانی پہنچانے آیا تو یہ اپنی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے گا کیونکہ ہم اسے نوکری سے نکال دیں گے۔ اسے متعدد بار باور کرایا جا چکا ہے کہ پانی وقت پر صبح سویرے دے جایا کرے مگر یہ  نہ تو کچھ سننے سمجھنے کو تیار ہے اور نہ ہی اس پر ہماری بات کا کوئی اثر ہوتا ہے۔


Tuesday, October 27, 2020

پیراگراف نمبر3 تشریح سبق مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ


 سبق: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ

پیراگراف نمبر3

اقتباس: 

فقیر تو یہ کہتا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے بدرجہا اچھی ہے۔

حوالہ متن:

سبق کا عنوان: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ

مصنف کا نام: سجاد حیدر یلدرم

صنف:              افسانہ

ماخذ:            خیالستان

خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛

قصہ ۔۔۔۔ کہانی، واقعہ، ماجرا۔

خیالات ۔۔۔۔ خیال کی جمع، تصورات۔

خیرات ۔۔۔۔ صدقہ۔

مقابلہ ۔۔۔۔ ہمسری۔

تعجب ۔۔۔۔ حیرانی۔

امور ۔۔۔۔ امر کی جمع، کام۔

صحیح ۔۔۔۔ درست، ٹھیک۔

مفت خوری ۔۔۔۔ نکمی کھانا، بغیر محنت کے کھانا۔

جاہل ۔۔۔۔ گنوار۔

بدرجہا ۔۔۔۔ بہت زیادہ، حد درجہ۔

سیاق و سباق؛

تشریح طلب اقتباس درسی سبق " مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ کے ابتدائی حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ دلی کے چاندنی چوک میں موجود فقیر کی صدا کے متعلق مصنف کہتا ہے کہ وہ لوگوں مخاطب کرکے صدا لگا رہا تھا کہ میں آفت کا مارا سات بچوں کا باپ ہوں۔اپنے وطن جانا چاہتا ہوں۔ میں غریب الوطن ہوں اور میرا کوئی دوست نہیں۔ مصنف سوچتا ہے کہ جب یہ کہتا ہے کہ میرا کوئی دوست نہیں تو اسے مبارک باد دینی چاہیے کیونکہ اگر واقعی اس کا کوئی دوست نہیں تو یہ بہت خوش قسمت ہے۔

تشریح: 

          سجاد حیدر یلدرم اردو ادب کے نامور مصنف اور افسانہ نگار تھے۔ان کے افسانوں میں رومانیت کا رنگ غالب ہوتا ہے اور یہ انشائے لطیف کا بھی عمدہ نمونہ ہیں۔ ایسا ہی ان کا افسانہ "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" ہے جس میں وہ اپنے مخلص دوستوں سے عاجز نظر آتے ہیں اور انھیں ہر صورت چھوڑ دینے کے درپے ہیں۔

           تشریح طلب اقتباس میں مصنف دلی کے چاندنی چوک میں موجود فقیر کے متعلق آگاہ کرتا ہے کہ اس نے جب لوگوں سے مدد کی غرض سے اپنی صدا بلند کی تو جن لوگوں پر فقیر کے بیان کردہ واقعے کا اثر ہوا تو انھوں نے اپنی استطاعت کے مطابق فقیر کی مدد کرنا شروع کر دی اور فقیر ان سے ملنے والی بھیک لے کر آگے بڑھتا چلا گیا۔

        مصنف کہتا ہے کہ اس موقع پر میرے دل میں کچھ تصورات نے جنم لیا اور میں نے اسی وقت اپنی حالت کا موازنہ فقیر کے ساتھ کرنا شروع کر دیا تو مجھے یہ جان کر بےحد حیرت ہوئی کہ کئی کاموں کے لحاظ سے فقیر مجھ سے بہتر تھا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اپنی محنت سے کماتا ہوں جبکہ وہ فقیر سارا دن دوسروں سے ملنے والی خیرات کےسہارے رہتا ہے اور محنت مشقت کیے بغیر مفت کا کھا پی کر اپنا دن گزارتا ہے۔ میں تعلیم یافتہ ہوں جبکہ وہ مکمل ان پڑھ گنوار ہے۔ میرا لباس اچھا اور صاف ستھرا ہوتا ہے جبکہ وہ فقیرانہ بھیس اپنائے ہوئے ہونے کی وجہ سے پٹھے پرانے کپڑوں میں تھا۔اس سب موازنے کو اگر مدِ نظر رکھا جائے تو میں خود کو اس سے کہیں بہتر پاتا ہوں مگر جب میں مزید اپنے اور فقیر کے متعلق غور کرتا ہوں تو فقیر کو خود سے کافی بہتر پاتا ہوں کیونکہ مجھ پر  یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس کی صحت قابلِ رشک ہے اور وہ بغیر محنت مشقت کے سب کچھ میسر آنے کی وجہ سے بےفکر رہتا ہے جبکہ میں دن بھر محنت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی گزر بسر کرنے کی فکر مندی میں اپنا دن رات گزارتا ہوں۔  جیسا کہ کہاوت ہے؛

" محنت کرے مرغی اور انڈا کھائے فقیر"۔

Sunday, October 11, 2020

پیراگراف نمبر2 تشریح سبق مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ


 سبق: مجھےمیرے دوستوں سے بچاؤ

پیراگراف 2
اقتباس:
    اے بھائی مسلمانو! خدا کےلیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری سنو، میں غریب الوطن ہوں۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
مصنف کا نام:  سجاد حیدر یلدرم
صنف:                     افسانہ
ماخذ:                 خیالستان
خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛
بدنصیب ۔۔۔۔۔بری قسمت والا، بدقسمت۔
آفت ۔۔۔۔۔ مصیبت، تکلیف۔
آفت کا مارا ۔۔۔۔۔ مصبیت زدہ۔
محتاج ۔۔۔۔۔ ضرورت مند۔
غریب الوطن ۔۔۔۔۔ پردیسی، وطن سے دُور۔
مصیبت ۔۔۔۔۔ تکلیف۔
سیاق و سباق: 
                   تشریح طلب اقتباس درسی سبق " مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" کے ابتدائی حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف دلی کے چاندنی چوک میں موجود فقیر کی حالت زار اور اس کی مدد کےلیے بلند کی گئی صدا کے متعلق کہتا ہے کہ وہ درد بھری آواز میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا اور جن پر اس کےبیان کردہ قصے کا اثر ہوتا، ان کی خیرات لیتا ہوا آگے بڑھ جاتا۔
تشریح: 
             سجاد حیدر یلدرم اردو ادب کے نامور مصنف اور افسانہ نگار تھے۔ان کے افسانوں میں رومانیت کا رنگ غالب ہوتا ہے اور یہ انشائے لطیف کا بھی عمدہ نمونہ ہیں۔ ایسا ہی ان کا افسانہ "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" ہے جس میں وہ اپنے مخلص دوستوں سے عاجز نظر آتے ہیں اور انھیں ہر صورت چھوڑ دینے کے درپے ہیں۔
                 تشریح طلب اقتباس میں مصنف چاندنی چوک میں موجود فقیر کی اس درد بھری صدا کو من و عن بیان کرتا ہے جسے وہ لوگوں کے سامنے دہرا رہا تھا۔ فقیر سب لوگوں کو مخاطب ہو کر کہتا کہ اے میرے مسلمان بھائیو ! آپ سب لوگ میری بات کو توجہ سے سنیں کیونکہ میں سخت مصیبت زدہ اور مفلوک الحال ہوں۔ میرے سات بچے ہیں جن کی ضرورت پوری کرنا مجھ غریب کی بس کی بات نہیں۔میں بےحد مفلس اور ضرورت مند ہوں حتیٰ کہ کھانے کو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر آتی ہے۔ بقول نظیر اکبر الہٰ آبادی؛
   ؎ جب   آدمی   کے  حال   پہ  آتی   ہے  مفلسی
        کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی
                    میں اپنی مجبوری اور اپنی حاجت مندی ہر ایک کے سامنے بیان کر رہا ہوں کیونکہ میں مجبور اور بےبس ہوں۔ میں آپ لوگوں سے بھیک نہیں مانگ رہا اور نہ کسی قسم کی خیرات مانگ رہا ہوں اور نہ ہی بھیک مانگنے کا مجھے شوق ہے۔ میں صرف اپنی مصیبت آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں کہ میں پردیسی ہوں۔ اپنے وطن اور اپنے گھر سے بچھڑا ہوا ہوں۔ وطن اور گھر سے دور یہاں مارا مارا پھر رہا ہوں۔ حضرت علیؓ کا فرمان ہے؛
" دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہوتو دیس میں بھی پردیس ہے"۔
میں غربت اور آفت کا مارا مسافر ہوں اور میرا یہاں کوئی دوست بھی نہیں جو میری مدد کرے۔جیسا کہ حضرت علیؓ کا فرمان ہے؛
" غریب وہ نہیں جس کے پاس دولت نہیں بلکہ غریب وہ ہے جس کا کوئی دوست نہیں"۔
             فقیر اپنی التجا کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہتا ہے کہ میں اپنے وطن جانا چاہتا ہوں مگر کوئی میری فریاد سننے اور  میری مدد کرنے کو تیار نہیں اور کوئی ایسا نہیں جو مجھ بےبس کی بےبسی پر ترس کھا کر مجھے اپنے وطن پہنچانے میں میری مدد کرے۔ میں بےبس اپنے وطن سے دور ہوں۔ بقول شاعر؛
    ؎ دشمن کو بھی اللہ چُھڑائے نہ وطن سے
        جانے وہی بلبل جو بچھڑ جائے چمن سے

Friday, October 2, 2020

پیراگراف نمبر1 تشریح سبق مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ


 سبق: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ

                   پیراگراف نمبر1

                                                  اقتباس:

                                            ایک دن دلی کے چاندنی چوک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لفظ بہ لفظ لکھی جائے۔

                                              حوالہ متن: 

                                                سبق کا عنوان:                      مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ

                                                 مصنف کا نام:                            سجاد حیدر یلدرم

                                                        صنف:                                  افسانہ

                                                          ماخذ:                                 خیالستان

                                        خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛

                                    مؤثر ۔۔۔۔۔ پُراثر، کارگر۔                                                 حالتِ زار ۔۔۔۔۔ بری حالت۔

                                    اسپیچ ۔۔۔۔۔ تقریر۔                                                             دہرانا ۔۔۔۔۔ بار بار کہنا۔

                                  پیرائے ۔۔۔۔۔ طرز ، ڈھنگ، طریقہ۔                                         بدمعاشی ۔۔۔۔۔ بدکرداری، لُچاپن۔

                                بےحیائی ۔۔۔۔۔ بےغیرتی، بےشرمی۔                                           مسخ کرنا ۔۔۔۔۔ بگاڑنا، تباہ کرنا۔

                                    صدا ۔۔۔۔۔ آواز۔                                                         قسیُّ القلب ۔۔۔۔۔ سنگ دل۔

                              لفظ بہ لفظ ۔۔۔۔۔ پوری کی پوری۔

                سیاق و سباق:

                                                تشریح طلب اقتباس درسی سبق " مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" کا ابتدائی پیراگراف ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف دلی کے چاندنی چوک میں موجود ایک فقیر کے حوالے سے بتاتا ہے کہ وہ اپنی رٹی رٹائی تقریر لوگوں کو سنا کر بھیک مانگ رہا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ میں بدنصیب ہوں اور آفت کا مارا سات بچوں کا باپ ہوں۔ اپنے وطن جانا چاہتا ہوں۔ کوئی میری مدد نہیں کرتا۔ میرا کوئی دوست نہیں۔ میں غریب الوطن ہوں۔

                     تشریح :

                                                سجاد حیدر یلدرم اردو ادب کے نامور مصنف اور افسانہ نگار تھے۔ان کے افسانوں میں رومانیت کا رنگ غالب ہوتا ہے اور یہ انشائے لطیف کا بھی عمدہ نمونہ ہیں۔ ایسا ہی ان کا افسانہ "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" ہے جس میں وہ اپنے مخلص دوستوں سے عاجز نظر آتے ہیں اور انھیں ہر صورت چھوڑ دینے کے درپے ہیں۔

                        تشریح طلب اقتباس میں مصنف  ایک فقیر کا حال بیان کرتا ہے کہ دلی کے چاندنی چوک سے گزرنے کے دوران میں نے ایک فقیر کو دیکھا جو بڑے پُر اثر انداز سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرکے انھیں اپنی خستہ حالی سے آگاہ کر رہا تھا۔ وہ پیشہ ور بھکاری کی طرح ایک متاثرکن اور درد بھری تقریر یاد کیے ہوئے تھا جسے وہ لوگوں کے سامنے بیان کرکے ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ہر دو تین منٹ کے بعد رٹے رٹائے الفاظ دہرا دیتا تھا۔مصنف کہتا ہے کہ اس کا اس طرح درد بھری آواز میں اپنی بات کو بار بار بیان کرکے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا انداز مجھے ایسا خاص محسوس ہوا کہ میں اس کی لگائی جانے والی صدا  دلچسپی لے کر سننے کےلیے ٹھہر گیا۔

                        مصنف اس فقیر کا حلیہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ بہت دراز قد تھا ۔اس کا  موٹاتازہ جسم  اس کی صحت مندی کو عیاں کر رہا تھا۔ وہ کسی لحاظ سے مجبور اور بےبس نظر نہ آتا تھا۔ اس کا چہرہ بھی کافی خوب صورت تھا لیکن  اس نے غربت کی آڑ لے کر اسے اپنے نکمے پن ، بےحیائی ، بےعزتی اور بدمعاشی سے بگاڑا ہوا تھا۔ جیسا کہ شاعر کہتا ہے؛

                                            ؎  عقل مند     کو    بےعقل    بنا   دیتی  ہے  غربت

                                              خوب صورت کو بدصورت بنا دیتی ہے غربت


اس کا خوب  صورت اور اچھا چہرہ بھیک مانگنے جیسی قبیح حالت میں انتہائی برا لگ رہا تھا اس وجہ سے بےغیرتی اور بےشرمی اس کے چہرے سے نمایاں ظاہر ہو رہی تھی۔ اس نے ایسا روپ اس لیے اختیار کیا ہوا تھا کہ لوگ اس پر ترس کھا کر اسے بھیک دینے کےلیے رضامند ہوں مگر بھیک مانگنے کا   یہ  طرز دنیا و آخرت دونوں کےلیے انسان کی خوب صورتی بگاڑنے کا سبب بنتا ہے اور  اس  نے  اپنے خوب صورت  چہرے کو بےحیائی سے بگاڑا ہوا بھی تھا ۔ حدیث مبارکہ ہے؛

 " لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا روز قیامت اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا نہ ہوگا"۔ (صحیح مسلم)۔

     آخر میں مصنف اس فقیر کی درد بھری آواز کے متعلق بیان کرتا ہے کہ میں اس قدر سنگ دل نہیں ہوں کہ اس کی صدا کو مختصر بیان کر دوں کیونکہ اس کی  لوگوں کو متوجہ کرانے کی غرض سے لگائی جانے والی اور بار بار دہرائی جانے والی صدا  اس لائق ہے کہ اسے پوری کی پوری آپ کے سامنے رکھی جائے اور اس میں معمولی سی بھی تحریف نہ کی جائے۔

اردو پڑھنے لکھنے میں درپیش مشکلات کا حل

  السلام علیکم! پیارے طالب علمو! اگر آپ اردو پڑھنے لکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں یا امتحان میں اردو پرچہ کے حل میں دقت محسوس کرتے ہیں تو ہمہ ...