سبق: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
ہماری تعلیم ۔۔۔ پنجاب بورڈ کے مطابق جماعت نہم، دہم اور انٹر کی اردو کے نثرپاروں کی تشریح ،اہم نوٹس اور گیس پیپر میسر ہوں گے۔
Thursday, November 19, 2020
پیراگراف نمبر6 سبق مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
سبق: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
Wednesday, November 18, 2020
پیراگراف نمبر5سبق مجھے میرے دوستوں ےے بچاؤ
پیراگراف نمبر4 سبق مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
سجاد حیدر یلدرم اردو ادب کے نامور مصنف اور افسانہ نگار تھے۔ان کے افسانوں میں رومانیت کا رنگ غالب ہوتا ہے اور یہ انشائے لطیف کا بھی عمدہ نمونہ ہیں۔ ایسا ہی ان کا افسانہ "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" ہے جس میں وہ اپنے مخلص دوستوں سے عاجز نظر آتے ہیں اور انھیں ہر صورت چھوڑ دینے کے درپے ہیں۔
Sunday, November 8, 2020
پیراگراف نمبر3 تشریح نہم سبق آرام و سکون
سبق: آرام و سکون
Tuesday, October 27, 2020
پیراگراف نمبر3 تشریح سبق مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
سبق: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
پیراگراف نمبر3
اقتباس:
فقیر تو یہ کہتا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھ سے بدرجہا اچھی ہے۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
مصنف کا نام: سجاد حیدر یلدرم
صنف: افسانہ
ماخذ: خیالستان
خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛
قصہ ۔۔۔۔ کہانی، واقعہ، ماجرا۔
خیالات ۔۔۔۔ خیال کی جمع، تصورات۔
خیرات ۔۔۔۔ صدقہ۔
مقابلہ ۔۔۔۔ ہمسری۔
تعجب ۔۔۔۔ حیرانی۔
امور ۔۔۔۔ امر کی جمع، کام۔
صحیح ۔۔۔۔ درست، ٹھیک۔
مفت خوری ۔۔۔۔ نکمی کھانا، بغیر محنت کے کھانا۔
جاہل ۔۔۔۔ گنوار۔
بدرجہا ۔۔۔۔ بہت زیادہ، حد درجہ۔
سیاق و سباق؛
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ کے ابتدائی حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ دلی کے چاندنی چوک میں موجود فقیر کی صدا کے متعلق مصنف کہتا ہے کہ وہ لوگوں مخاطب کرکے صدا لگا رہا تھا کہ میں آفت کا مارا سات بچوں کا باپ ہوں۔اپنے وطن جانا چاہتا ہوں۔ میں غریب الوطن ہوں اور میرا کوئی دوست نہیں۔ مصنف سوچتا ہے کہ جب یہ کہتا ہے کہ میرا کوئی دوست نہیں تو اسے مبارک باد دینی چاہیے کیونکہ اگر واقعی اس کا کوئی دوست نہیں تو یہ بہت خوش قسمت ہے۔
تشریح:
سجاد حیدر یلدرم اردو ادب کے نامور مصنف اور افسانہ نگار تھے۔ان کے افسانوں میں رومانیت کا رنگ غالب ہوتا ہے اور یہ انشائے لطیف کا بھی عمدہ نمونہ ہیں۔ ایسا ہی ان کا افسانہ "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" ہے جس میں وہ اپنے مخلص دوستوں سے عاجز نظر آتے ہیں اور انھیں ہر صورت چھوڑ دینے کے درپے ہیں۔
تشریح طلب اقتباس میں مصنف دلی کے چاندنی چوک میں موجود فقیر کے متعلق آگاہ کرتا ہے کہ اس نے جب لوگوں سے مدد کی غرض سے اپنی صدا بلند کی تو جن لوگوں پر فقیر کے بیان کردہ واقعے کا اثر ہوا تو انھوں نے اپنی استطاعت کے مطابق فقیر کی مدد کرنا شروع کر دی اور فقیر ان سے ملنے والی بھیک لے کر آگے بڑھتا چلا گیا۔
مصنف کہتا ہے کہ اس موقع پر میرے دل میں کچھ تصورات نے جنم لیا اور میں نے اسی وقت اپنی حالت کا موازنہ فقیر کے ساتھ کرنا شروع کر دیا تو مجھے یہ جان کر بےحد حیرت ہوئی کہ کئی کاموں کے لحاظ سے فقیر مجھ سے بہتر تھا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں اپنی محنت سے کماتا ہوں جبکہ وہ فقیر سارا دن دوسروں سے ملنے والی خیرات کےسہارے رہتا ہے اور محنت مشقت کیے بغیر مفت کا کھا پی کر اپنا دن گزارتا ہے۔ میں تعلیم یافتہ ہوں جبکہ وہ مکمل ان پڑھ گنوار ہے۔ میرا لباس اچھا اور صاف ستھرا ہوتا ہے جبکہ وہ فقیرانہ بھیس اپنائے ہوئے ہونے کی وجہ سے پٹھے پرانے کپڑوں میں تھا۔اس سب موازنے کو اگر مدِ نظر رکھا جائے تو میں خود کو اس سے کہیں بہتر پاتا ہوں مگر جب میں مزید اپنے اور فقیر کے متعلق غور کرتا ہوں تو فقیر کو خود سے کافی بہتر پاتا ہوں کیونکہ مجھ پر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اس کی صحت قابلِ رشک ہے اور وہ بغیر محنت مشقت کے سب کچھ میسر آنے کی وجہ سے بےفکر رہتا ہے جبکہ میں دن بھر محنت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی گزر بسر کرنے کی فکر مندی میں اپنا دن رات گزارتا ہوں۔ جیسا کہ کہاوت ہے؛
" محنت کرے مرغی اور انڈا کھائے فقیر"۔
Sunday, October 11, 2020
پیراگراف نمبر2 تشریح سبق مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
سبق: مجھےمیرے دوستوں سے بچاؤ
Friday, October 2, 2020
پیراگراف نمبر1 تشریح سبق مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
سبق: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
پیراگراف نمبر1
اقتباس:
ایک دن دلی کے چاندنی چوک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لفظ بہ لفظ لکھی جائے۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ
مصنف کا نام: سجاد حیدر یلدرم
صنف: افسانہ
ماخذ: خیالستان
خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛
مؤثر ۔۔۔۔۔ پُراثر، کارگر۔ حالتِ زار ۔۔۔۔۔ بری حالت۔
اسپیچ ۔۔۔۔۔ تقریر۔ دہرانا ۔۔۔۔۔ بار بار کہنا۔
پیرائے ۔۔۔۔۔ طرز ، ڈھنگ، طریقہ۔ بدمعاشی ۔۔۔۔۔ بدکرداری، لُچاپن۔
بےحیائی ۔۔۔۔۔ بےغیرتی، بےشرمی۔ مسخ کرنا ۔۔۔۔۔ بگاڑنا، تباہ کرنا۔
صدا ۔۔۔۔۔ آواز۔ قسیُّ القلب ۔۔۔۔۔ سنگ دل۔
لفظ بہ لفظ ۔۔۔۔۔ پوری کی پوری۔
سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" کا ابتدائی پیراگراف ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف دلی کے چاندنی چوک میں موجود ایک فقیر کے حوالے سے بتاتا ہے کہ وہ اپنی رٹی رٹائی تقریر لوگوں کو سنا کر بھیک مانگ رہا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ میں بدنصیب ہوں اور آفت کا مارا سات بچوں کا باپ ہوں۔ اپنے وطن جانا چاہتا ہوں۔ کوئی میری مدد نہیں کرتا۔ میرا کوئی دوست نہیں۔ میں غریب الوطن ہوں۔
تشریح :
سجاد حیدر یلدرم اردو ادب کے نامور مصنف اور افسانہ نگار تھے۔ان کے افسانوں میں رومانیت کا رنگ غالب ہوتا ہے اور یہ انشائے لطیف کا بھی عمدہ نمونہ ہیں۔ ایسا ہی ان کا افسانہ "مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ" ہے جس میں وہ اپنے مخلص دوستوں سے عاجز نظر آتے ہیں اور انھیں ہر صورت چھوڑ دینے کے درپے ہیں۔
تشریح طلب اقتباس میں مصنف ایک فقیر کا حال بیان کرتا ہے کہ دلی کے چاندنی چوک سے گزرنے کے دوران میں نے ایک فقیر کو دیکھا جو بڑے پُر اثر انداز سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرکے انھیں اپنی خستہ حالی سے آگاہ کر رہا تھا۔ وہ پیشہ ور بھکاری کی طرح ایک متاثرکن اور درد بھری تقریر یاد کیے ہوئے تھا جسے وہ لوگوں کے سامنے بیان کرکے ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ ہر دو تین منٹ کے بعد رٹے رٹائے الفاظ دہرا دیتا تھا۔مصنف کہتا ہے کہ اس کا اس طرح درد بھری آواز میں اپنی بات کو بار بار بیان کرکے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا انداز مجھے ایسا خاص محسوس ہوا کہ میں اس کی لگائی جانے والی صدا دلچسپی لے کر سننے کےلیے ٹھہر گیا۔
مصنف اس فقیر کا حلیہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ بہت دراز قد تھا ۔اس کا موٹاتازہ جسم اس کی صحت مندی کو عیاں کر رہا تھا۔ وہ کسی لحاظ سے مجبور اور بےبس نظر نہ آتا تھا۔ اس کا چہرہ بھی کافی خوب صورت تھا لیکن اس نے غربت کی آڑ لے کر اسے اپنے نکمے پن ، بےحیائی ، بےعزتی اور بدمعاشی سے بگاڑا ہوا تھا۔ جیسا کہ شاعر کہتا ہے؛
؎ عقل مند کو بےعقل بنا دیتی ہے غربت
خوب صورت کو بدصورت بنا دیتی ہے غربت
اس کا خوب صورت اور اچھا چہرہ بھیک مانگنے جیسی قبیح حالت میں انتہائی برا لگ رہا تھا اس وجہ سے بےغیرتی اور بےشرمی اس کے چہرے سے نمایاں ظاہر ہو رہی تھی۔ اس نے ایسا روپ اس لیے اختیار کیا ہوا تھا کہ لوگ اس پر ترس کھا کر اسے بھیک دینے کےلیے رضامند ہوں مگر بھیک مانگنے کا یہ طرز دنیا و آخرت دونوں کےلیے انسان کی خوب صورتی بگاڑنے کا سبب بنتا ہے اور اس نے اپنے خوب صورت چہرے کو بےحیائی سے بگاڑا ہوا بھی تھا ۔ حدیث مبارکہ ہے؛
" لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا روز قیامت اس حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا نہ ہوگا"۔ (صحیح مسلم)۔
آخر میں مصنف اس فقیر کی درد بھری آواز کے متعلق بیان کرتا ہے کہ میں اس قدر سنگ دل نہیں ہوں کہ اس کی صدا کو مختصر بیان کر دوں کیونکہ اس کی لوگوں کو متوجہ کرانے کی غرض سے لگائی جانے والی اور بار بار دہرائی جانے والی صدا اس لائق ہے کہ اسے پوری کی پوری آپ کے سامنے رکھی جائے اور اس میں معمولی سی بھی تحریف نہ کی جائے۔
اردو پڑھنے لکھنے میں درپیش مشکلات کا حل
السلام علیکم! پیارے طالب علمو! اگر آپ اردو پڑھنے لکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں یا امتحان میں اردو پرچہ کے حل میں دقت محسوس کرتے ہیں تو ہمہ ...
-
بخدمت جناب ہیڈماسٹر،گورنمنٹ ہائی سکول الف۔ب۔ج عنوان: درخواستِ رخصت برائ...
