Wednesday, September 18, 2019

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر7


سبق : پنچایت
پیراگراف نمبر7

اقتباس:
اس کے بعد کئی دن تک بوڑھی خالہ لکڑی لیے...............وہ کسی کے سامنے فریاد کرنے نہیں گئے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان:پنچایت
مصنف کانام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
کمان......... تیر چلانے کا مڑا ہوا آلہ۔
تصفیہ....... حل، فیصلہ
طاقت......زور، قوت
رسوخ.....رسائی، پہنچ
منطق.....عقلی دلیل، جواز
کامل..... مکمل،پورا
اعتماد....... بھروسا
فریاد..... شکوہ شکایت

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت کے ابتدائی حصے سے لیا گیا ہے۔اس سبق میں مصنف جہاں جمن شیخ اور الگو چودھری کی گہری دوستی کے بارے میں بتاتے ہیں وہیں جمن شیخ اور اس کی بوڑھی بیوہ خالہ کے تنازعہ کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہیں کہ جمن نے سبز باغ دکھا کر خالہ کی ملکیت ہتھیا لی اور خالہ کی دیکھ بھال بھی بند کر دی جس پر خالہ نے پنچایت بلانے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں وہ لکڑی کے سہارے چل کر ہر ایک کے پاس گئی اور آخر میں الگو چودھری کے پاس پہنچی جو جمن کا گہرا دوست تھا۔

تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب رہتی ہے۔ " پنچایت" ان کا ایک ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی اور عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
    تشریح طلب اقتباس میں  مصنف شیخ جمن اور اس کی بوڑھی بیوہ خالہ کی باہمی تلخیاں اجاگر کرتا ہے جو ہبہ نامہ پر رجسٹری کے بعد سامنے آئی تھیں۔خالہ نے جب جمن سے اپنے الگ نان نفقے کا مطالبہ کیا تو جمن نے اسے بالکل نظرانداز کردیا جس پر بوڑھی خالہ نے پنچایت بلا کر اپنے مسئلے کا تصفیہ کرانے کی کوشش شروع کر دی اور وہ اس مقصد کےلیے  لاٹھی کے سہارے چلتے ہوئے کئی کئی دن  گاؤں کے ارد گرد چکر لگاتی رہی۔بڑھاپے کی وجہ سے اس کی کمر مکمل جھک گئی تھی اور اس کےلیے جھکی کمر کے ساتھ چلنا دوبھر ہوچکا تھا مگر وہ کیا کرتی کہ اس پر مصیبت آ پڑی تھی جس کا فیصلہ ہونا بےحد ضروری ہوچکا تھا۔
        اس کے برعکس شیخ جمن کو بوڑھی خالہ اور اس کی طرف سے بلائی جانے والی پنچایت کی کوئی فکر نہ تھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ وہ اپنی قوت،لوگوں کے ساتھ تعلقات اور اپنی حکمت عملی کو بروئے کار لا کر سب کو اپنا ہم نوا بنا لے گا۔اسے اپنے پختہ دلائل پر بھی مکمل بھروسا تھا۔

"انسان کی قوت،اس کا اثرورسوخ اور منطقی دلائل ایسی چیزیں ہیں جو اسے دوسروں کے آگے جھکنے اور شکست تسلیم نہیں کرنے دیتی".

اس لیے جمن نے بھی اپنی ان قوتوں پر بھروسا  رکھتے ہوئے کسی کے سامنے التجا کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی کیونکہ اسے یقین تھا کہ وہ لوگوں کو قائل کرلے گا اور کوئی اس معاملے میں اس کی مخالفت نہیں کرے گا۔

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر6


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر6

اقتباس:
پنچایت کی صدا کس کے حق میں اٹھے گی............ آسمان سے فرشتے تو پنچایت کرنے آئیں گے نہیں۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت کے ابتدائی حصے سے لیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف جہاں شیخ جمن اور الگو چودھری کی دوستی کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں وہیں جمن اور اس کی خالہ کی جائیداد کے حوالے سے تنازع کے متعلق آگاہ کرتے ہیں کہ جب خالہ نے جمن کو پنچایت کی دھمکی دی تو اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ کرلو پنچایت، گاؤں میں کون ہے جو میرے خلاف فیصلہ دے گا۔ جمن کے اس بیان کے باوجود خالہ نے پنچایت کےلیے گاؤں کے چکر لگانا شروع کر دیے اور ہر ایک سے ملنے لگی۔

تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب نظر آتی ہے۔ " پنچایت" ان کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل کے ساتھ ساتھ  عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
    تشریح طلب اقتباس میں مصنف شیخ جمن اور اس کی بیوی خالہ کی باہمی تلخیاں اجاگر کرتا ہے جو ہبہ نامہ پر رجسٹری کے بعد سامنے آئی تھیں۔ خالہ نے جمن سے اپنے الگ نان نفقے کا مطالبہ کیا جسے جمن نے مکمل طور پر نظرانداز کردیا۔اس پر خالہ نے جمن کو پنچایت کی دھمکی دی تو جمن نے بھی خالہ پر واضح کردیا کہ وہ بھی دن رات کے وبال اور پریشانی سے تنگ آچکا ہے اس لیے پنچایت میں فیصلہ ہو جانا چاہیے۔
      جمن خالہ کے پنچایت بلانے کے فیصلے پر بہت خوش تھا اور اسے پنچایت کے فیصلے کے حوالے سے کوئی خوف اور فکر لاحق نہ تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ گردونواح میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس پر جمن کا کوئی نہ کوئی احسان نہ ہو اور وہ جمن کا احسان مند نہ ہو۔

" احسان مندی اور ممنونیت ایک ایسا جذبہ ہے جو انسان کو اپنے محسن کے آگے جھکائے رکھتی ہے."

اس وجہ سے جمن کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ اس کے احسان تلے دبا کوئی بھی شخص اس کے خلاف فیصلہ دے سکتا ہے اور نہ ہی اس کے مدمقابل کھڑا ہونے کی ہمت اور جرات کرسکتا ہے باقی آسمان سے فرشتے اتر کر اور برادری میں آ کر فیصلہ تو نہیں کریں گے۔
  چناں چہ جمن کو مکمل بھروسا تھا کہ گاؤں کے لوگ اس کی مخالفت کی بجائے اس کا ساتھ دیں گے اور بڑھیا خالہ کی فریاد کوئی نہیں سنے گا۔

بقول شاعر

یہ مطلب کی دنیاہے،یہاں سنتا نہیں فریاد کوئی
ہنستے  ہیں  تب لوگ،جب  ہوتا  ہے  برباد  کوئی

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر5


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر5

اقتباس:
خالہ جان اپنے مرنے کی بات نہیں سن سکتی تھی.............دن رات کا وبال پسند نہیں۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کانام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
 جامے سے باہر ہونا....... آپے سے باہر ہونا، سخت غصے ہونا

پنچایت......ثالثوں کی مجلس
فاتحانہ.........فتح کے ساتھ، جیت والی
لب...........ہونٹ
وبال.......عذاب، مصیبت،تکلیف
دھمکی.......دھونس دینا، ڈرانا
 سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت کے ابتدائی حصے سے لیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف جہاں جمن شیخ اور الگو چودھری کی گہری دوستی کے بارے آگاہ کرتا ہے تو وہیں جمن اور اس کی خالہ کے باہمی تنازع سے بھی روشناس کراتا ہے کہ جب جمن نے سبز باغ دکھا کر اپنی خالہ سے جائیداد ہتھیا لی اور اس کی خاطر داری بھی کرنا چھوڑ دی تو خالہ نے اسے پنچایت بلانے کی دھمکی دی تو اس نے اس کی پروا نہ کرتے ہوئے کہا کہ کرلو پنچایت کہ فیصلہ ہو جائے۔ جمن کو پتا تھا کہ گاؤں میں سب اس کے مرہون منت ہیں اور کوئی خالہ کی بات نہ سنے گا مگر خالہ نے پنچایت کےلیے ہر ایک کے پاس جانا شروع کر دیا۔
 تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ  نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانے اصلاحی ہوتے ہیں جن میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب ہوتی نظر آتی ہے۔ " پنچایت بھی ان کا ایسا افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل کے بارے میں اور عدل و انصاف کی اہمیت کے بارے میں بتاتے ہیں۔
         تشریح طلب اقتباس میں مصنف جمن شیخ ، اس کی بیوی اور خالہ کی باہمی تلخیاں اجاگر کرتا ہے جو ہبہ نامہ پر رجسٹری کے بعد سامنے آئی تھیں۔خالہ نے جب جمن سے اپنے الگ نان نفقے کا مطالبہ  کیا تو جمن نے خفا ہوکر کہا کہ ہمیں تھوڑی پتا تھا کہ تم خواجہ خضر کی حیات لے کر آئی ہو اور مرنے کا نام نہیں لیتی۔
              خالہ جان اپنے مرنے کی بات سن کر خفا ہوگئی اور غصے میں آکر پنچایت کی دھمکی دے دی اور کہا اب برادری ہی فیصلہ کرے گی۔ خالہ جان کی دھمکی کا جمن پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا اس لیے وہ  ہنسنے لگا۔اس کی ہنسی سے واضح دکھائی دے رہا تھا کہ پنچایت میں اس کی جیت ہوگی اور بوڑھی خالہ کی فریاد کوئی نہیں سنے گا۔

بقول شاعر

یہ مطلب کی دنیا ہے، یہاں سنتا نہیں فریاد کوئی
ہنستے ہیں تب لوگ،جب ہوتا ہے برباد کوئی۔

جمن کی پنچایت کے معاملے میں خوشی دیدنی تھی اور وہ ایسے خوش تھا جیسے ہرن کو جال کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر شکاری کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔
              اسی خوشی اور مسرت کے احساس کے ساتھ جمن نے خالہ پر واضح کردیا کہ تم ضرور برادری کے پاس جاؤ اور پنچایت بلاؤ کہ اب فیصلہ ہو جانا چاہیے کیونکہ میں بھی دن رات کی تمھاری پیدا کردا پریشانی اور مصیبت سے تنگ آگیا ہوں۔ فیصلہ ہو جائے گا تو میری بھی جان چھوٹے گی۔

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر4


سبق:پنچایت
پیراگراف نمبر4

اقتباس:
کچھ دنوں تک خالہ جان نے اور دیکھا...........میں الگ پکالوں گی۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
برداشت........ ضبط
شکایت.........گلہ شکوہ
صلح پسند.........امن پسند، مصلحت پسند
مداخلت.........دخل اندازی، رکاوٹ
معاملہ........ مسئلہ
مناسب.......اچھا،بہتر
رو دھو کر........ واویلاکرکے، رو پیٹ کر
نباہ......... گزارا، گزران، بسراوقات

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت" کے ابتدائی حصے سے لیا گیا ہے۔اس سبق میں مصنف جمن شیخ اور الگو چودھری کی گہری دوستی کے بارے میں بتاتا ہے اور ساتھ میں شیخ جمن اور اس کی بوڑھی بیوہ خالہ کے بارے میں بھی بتاتا ہے کہ جمن نے خالہ سے وعدے وعید کرکے جائیداد ہتھیا لی اور پھر خالہ سے بے اعتنائی برتنا شروع کردی۔جس سے تنگ آکر خالہ نے انصاف کےلیے پنچایت بلا لی۔

تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں میں نیکی ہمیشہ برائی پر غالب رہی ہے۔" پنچایت " بھی ان کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی اور عدل وانصاف کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔
         تشریح طلب اقتباس میں مصنف جمن اور اس کی خالہ کے درمیان ان تلخ حالات کو بیان کر رہا ہے جو خالہ کی ملکیت جمن کے نام منتقل ہونے کے بعد پیش آئے کہ جمن نے جائیداد اپنے نام کراتے ہی خالہ کی طرف سے منھ پھیر لیا اور خالہ کی خاطر داری کرنا بھی چھوڑ دی اور اس کی بیوی خالہ کو روٹیوں کے مقابلے میں کم سالن دیتی تھی۔ان تمام تر ناگوار حالات کو خالہ نے کچھ دن تو برداشت کیا مگر پھر اس سے رہا نہ گیا اور اس نے دل برداشتہ ہوکر جمن سے اس کی بے اعتنائی کی شکایت کی۔
       جمن فطری طور پر امن پسند آدمی تھا اور وہ لڑائی جھگڑے سے گریز کرتا تھا اس لیے اس نے اس معاملے کی طرف توجہ نہ دی کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اس کی دخل اندازی سے اس کی بیوی اور خالہ کے درمیان جھگڑا ہوگا۔
               خالہ جی نے مزید کچھ دن اسی طرح شکوے شکایت کرتے گزار لیے مگر جب سب کچھ خالہ کی برداشت سے باہر ہوا تو اس نے جمن پر واضح کر دیا کہ بیٹا اب میرا تمھارے ساتھ گزارا نہیں ہوسکتا۔ تم مجھے الگ رقم دے دیا کرو تاکہ میں اپنا الگ کھانے پینے کا بندوبست کرلیا کروں۔
مگر جمن اپنا مطلب نکالنے کے بعد خالہ کی کوئی بات ماننے کو تیار نہ تھا۔

بقول شاعر

یہ مطلب کی دنیا ہے، یہاں سنتا نہیں فریاد کوئی
ہنستے ہیں تب لوگ، جب ہوتا ہے برباد کوئی

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر3


سبق : پنچایت
پیراگراف نمبر3

اقتباس:
شیخ جمن کی ایک بوڑھی بیوہ خالہ تھیں................. سالن کی مقدار روٹیوں سے کم کردی۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کانام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
 بیوہ............جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو، رانڈ
ملکیت.........جائیداد، مال اسباب
وارث....... مالک
وعدے وعید........ عہد معاہدے
سبز باغ دکھانا......... دھوکا دینا
ہبہ نامہ ......... اقرار نامہ، وہ دستاویز جس پر کوئی چیز عطا کرنے کا اقرار لکھا ہوتا ہے۔
رجسٹری........ قانونی اندراج،
خاطر داریاں.......... خاطر تواضع، خدمت گزاری۔
لقمے..... نوالے
چٹ پٹے........ مزے دار
پگڑی کی مہر ہونا........ وراثت منتقل ہونا،
مہر ہونا....... ٹھپا لگنا، بند ہو جانا
رفتہ رفتہ...... آہستہ آہستہ۔
سیاق و سباق:
 تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت " کے ابتدائی حصے سے لیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف جمن شیخ اور الگو چودھری کی دوستی اور جمن شیخ کے اپنی خالہ کے ساتھ جائیداد کے تنازعے کے متعلق بتاتے ہیں کہ جب جمن نے اپنی خالہ سے جائیداد ہتھیانے کے بعد اس کی خاطر داری کرنا بند کر دی تو خالہ نے اپنے مسئلے کے حل کےلیے پنچایت بلا لی۔

تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ اپنے افسانے " پنچایت میں انھوں نے دیہاتی زندگی کے مسائل ،وہاں کی دوستیوں کے رنگ ڈھنگ اور عدل و انصاف کے بارے میں آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
              تشریح طلب اقتباس میں مصنف شیخ جمن اور اس کی بوڑھی بیوہ خالہ کے باہمی تعلقات اور ان کے باہمی رویوں کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ شیخ جمن کی ایک بوڑھی خالہ تھی جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا اور اس کی کوئی اولاد بھی نہ تھی جس کی وجہ سے اب اس کا کوئی ولی وارث نہ تھا۔اس کے پاس کچھ جائیدادتھی۔ جمن کی نیت میں فتور آیا تو اس نے خالہ سے عہد معاہدے کرکے، اسے  سنہرے خواب دکھا کر اور دھوکا دہی سے وہ جائیداد اپنے نام کرالی۔
          خالہ نے اقرار نامہ تو لکھ دیا مگر جب تک اس اقرار نامہ کی قانونی طور پر رجسٹری نہ ہوئی تھی تب تک جمن شیخ خالہ جی کی خوب خاطر مدارت کرتا رہا اور اسے میٹھے میٹھے، چٹ پٹے اور ذائقے دار کھانے کھلائے مگر جوں ہی  ہبہ نامہ پر رجسٹری ہوئی اور جائیداد جمن کی خالہ سے جمن کی طرف منتقل ہوگئی اور جمن کا مطلب پوراہوگیا تو خالہ جی کی ہونے والی خدمت اورخاطرمدارت بھی ختم ہوگئ۔

"مطلب پرستی انسان کی انسانیت کو اس طرح کھاتی ہے جیسے دیمک لکڑی کو کھا جاتی ہے."
چناں چہ مطلب پورا ہونے کے بعد جمن کی بیوی بی فہیمن نے خالہ کی دیکھ بھال کرنا چھوڑ دی اور اس نے روٹیوں کے مقابلے میں بہت کم سالن خالہ کو دینا شروع کر دیا اور خالہ کی پروا کرنا بالکل چھوڑ دی۔

بقول شاعر

یہ مطلب کی دنیا ہے،یہاں سنتا نہیں فریاد کوئی
ہنستے ہیں تب لوگ،جب ہوتا ہے برباد کوئی۔

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر2


سبق : پنچایت
پیراگراف نمبر2

اقتباس:
وہ کہا کرتے تھے کہ استاد کی دعا چاہیے...................
بےدریغ استعمال کرتے تھے۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی۔
 
فیض..........فائدہ، بھلائی
تسکین......... راحت،تسلی
تحصیل علم........ علم حاصل کرنا
دقیقہ........ معمولی بات
فروگزاشت........ بھول چوک، کمی بیشی
دقیقہ فروگزاشت کرنا۔............ معمولی سی کمی چھوٹا۔
تقدیر۔........ قسمت، نصیب
تازیانہ.........کوڑا، چابک
قائل...........ماننا، تسلیم کرنا
بےدریغ.......... کثرت سے، بہت زیادہ۔

 سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس منشی پریم چند کے لکھے گئے سبق " پنچایت" کے ابتدائی حصے سے لیا گیا ہے۔
اس سبق میں مصنف شیخ جمن اور الگو چودھری کی دوستی کے متعلق بتاتے ہیں کہ ان کی دوستی اس وقت سے تھی جب وہ شیخ جمعراتی سے علم حاصل کرتے تھے۔ان کی دوستی انصاف کی ہوا کا ایک جھونکا نہ سہ سکی اور دشمنی میں بدل گئی مگر آخر میں جمن کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو ان کی دشمنی دوبارہ دوستی میں بدل گئی۔

تشریح:
منشی پریم
چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ سبق" پنچایت" ان کا ایسا افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل،وہاں کی دوستی اور عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ جمن شیخ اور الگو چودھری کی دوستی اس زمانے سے تھی جب وہ جمن کے والد محترم شیخ جمعراتی کے پاس ادب و احترام کے ساتھ بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔الگو کے والد کہا کرتے تھے کہ تعلیم کا حصول اور اس میں کامیابی استاد کی دعا کے بغیر ناممکن ہوتی ہے اس لیے استاد کی خدمت کرکے دعا لینی چاہیے کیونکہ جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ استاد کی خدمت اور ان کی دعا اور برکت سے حاصل ہوتا ہے۔

 بقول شاعر

ادب تعلیم کا جوہر ہے،زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
اس لیے تعلیم کے حصول کےلیے محنت کے ساتھ ساتھ استاد کی خدمت اور ان کی دعاؤں کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔
        اس کے برعکس بدقسمتی سے الگو چودھری پر استاد کی محبت اور اس کے فیض یا دعاؤں کا کچھ بھی اثر نہ ہوا مگر وہ پھر بھی اس پر افسردہ نہ تھا بلکہ اسے تسلی تھی کہ اس نے علم کے حصول کےلیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔

" انسان اپنی تدبیر سے اپنا کام بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر ہوتا وہ ہے جو مشیت الٰہی چاہتی ہے"۔

اس لیے الگو کا بھی یہی خیال تھا کہ اس نے حصول علم کےلیے اپنی طرف سے کوئی کسر نہ چھوڑی مگر تعلیم اس کے مقدر میں ہی نہ لکھی تھی۔
               ان سب باتوں کے برعکس شیخ جمن اور الگو چودھری کے استاد محترم شیخ جمعراتی ایک روایتی استاد کی طرح دعا اور فیض کی بجائے سزا پر یقین رکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے

" لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے"

اس لیے وہ جمن پر کوڑوں کا استعمال کرتے اور اسے شدید مارتے تھے اور اس سے باز پرس کرتے تھے جس کا فائدہ یہ ہوا کہ گردونواح کے علاقوں میں آج بھی جمن سے اس حوالے سے پوچھ گچھ ہوتی تھی۔

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر1

سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر1:
اقتباس:
جمن شیخ اور الگو چودھری میں بڑا یارانہ تھا..................
زانوئے ادب تہ کرتے تھے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کانام: منشی پریم چند


صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
یارانہ..........دوستی
ساجھا........ مشترک
لین دین.......کاروباری معاملات، حساب کتاب
کامل......... مکمل
سونپنا........ ذمہ لگانا، حوالے کرنا
پدر بزرگوار........ والد محترم
روبرو......... سامنے
زانوئے ادب تہ کرنا.........گھٹنوں کے بل ادب سے بیٹھنا

سیاق وسباق:
تشریح طلب اقتباس منشی پریم چند کے لکھے گئے سبق " پنچایت" کا ابتدائی نثرپارہ ہے۔اس سبق میں مصنف جمن شیخ اور الگو چودھری کی دوستی کے متعلق بتاتے ہیں جو انصاف کی ہوا کا ایک جھونکا نہ سہہ سکا اور ان کی دوستی دشمنی میں بدل گئی مگر آخرکار جمن کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور کی دشمنی دوستی میں بدل گئی۔

تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو ادب کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ " پنچایت" ان کا تحریر کردہ ایسا افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی، وہاں کی دوستی اور عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
          تشریح طلب اقتباس میں مصنف جمن شیخ اور الگو چودھری کے تعلقات کے بارے میں بتاتے ہیں کہ ان کی آپس میں گہری اور قابل رشک دوستی تھی۔اس وجہ سے ان کا لین دین اور حساب کتاب بھی مشترکہ تھا اور وہ ایک دوسرے پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔

" زندگی میں رشتے تو ملا ہی کرتے ہیں مگر ایک انسانی رشتہ ایسا ہے جس میں زندگی ملا کرتی ہے،وہ رشتہ دوستی کا رشتہ ہے".
اگر اس رشتے میں اعتماد نہ ٹوٹے تو زندگی آسان ہو جاتی ہے اور اسی اعتماد کا ہی نتیجہ ہے کہ جمن شیخ اور الگو چودھری ایک دوسرے پر وارے جاتے تھے اور اسی بھروسے اور گہری دوستی کی بدولت ہی جمن نے حج پر جاتے وقت اپنا گھر الگو چودھری کے حوالے کر دیا کہ وہ اس کا خیال رکھیں گے ۔اسی طرح اسی اعتماد کی بدولت الگو جب باہر جاتے تو جمن  کو اپنے گھر کی ذمہ داری  سونپ دیتے تھے۔اس طرح دونوں اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے سرانجام دے رہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی دوستی کو چار چاند لگے ہوئے تھے اور گاؤں میں لوگ ان کی سچی اور گہری دوستی کی مثالیں دیتے تھے۔ان کی خلوص بھری دوستی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب دونوں بچپن میں  جمن کے والد محترم شیخ جمعراتی کے پاس پڑھتے تھے اور ان کے آگے وہ عزت اور احترام سے پیش آتے تھے اور باادب شاگرد ہونے کا ثبوت دیتے تھے کیونکہ بقول شاعر

ادب تعلیم کا جوہر ہے،زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
چناں چہ انھیں دنوں سے ان کی دوستی پروان چڑھی اور وہ مسلسل اسے نبھا رہے تھے۔

پیراگراف نمبر8 خطوط غالب

                     03065976174            سبق:    خطوط غاؔلب               aufsurani.blogspot.com                                         ...