Tuesday, March 26, 2019

اردو نہم.. نصوح اور سلیم کی گفتگو..پیراگراف2 تشریح


 نہم اردو سبق نصوح اور سلیم کی گفتگو پیراگراف نمبر2 تشریح ۔
 اقتباس :
منجھلا لڑکا میرا ہم جماعت ہے.....انھوں نے مجھ کو اندر بلا لیا..

حوالہ متن.
سبق کا عنوان: نصوح اور سلیم کی گفتگو
مصنف کا نام: ڈپٹی نذیر احمد
صنف: ناول
ماخذ: توبتہ النصوح.
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
منجھلا..... درمیانہ..بیچ والا
آموختہ..... پڑھا ہوا سبق
ناخوش.... ناراض
بہ سروچشم...سرآنکھوں پر

سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس ڈپٹی نذیر احمد کے تحریر کردہ ناول "نصوح اور سلیم کی گفتگو" کے آخری حصے سے لیا گیا ہے..اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ نصوح نے خواب میں دل دہلا دینے والے آخرت کے مناظر دیکھے. بیداری پر اس نے اپنے گھر والوں کی اصلاح کی ٹھانی..اس نے اپنے بیٹے سلیم کو بلا کر اس سے مدرسے کے بارے اور کھیلوں سے عدم دلچسپی کے بارے میں پوچھا تو سلیم نے اس کی وجہ محلے میں رہنے والے ان چار لڑکوں کو قرار دیا جن کے اخلاق سے متاثر ہو کر اس کا دل کھیلوں سے کھٹا ہوگیا..

تشریح:

ڈپٹی نذیر احمد کا شمار اردو کے ابتدائی ناول نگاروں میں ہوتا ہے..انھوں نے ہمیشہ اصلاحی ناول لکھے.." نصوح اور سلیم کی گفتگو" ان کا ایسا ہی اصلاحی ناول ہے جس میں وہ ایسے خاندان کے متعلق بتاتے ہیں جس کا سربراہ نصوح ہے جو اپنے گھر والوں کی دنیاوی اور اخروی لحاظ سے اصلاح کرنا چاہتا ہے..
             تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ سلیم اپنے والد کو محلے کے چار لڑکوں کے بارے میں بتاتا ہے جوکہ نہایت عمدہ اوصاف کے مالک ہیں..ان کے اخلاق اور شریفانہ مزاج سے ہر کوئی متاثر ہے.
سلیم اپنے والد کو بتاتا ہے کہ ان چاروں لڑکوں میں سے بیچ والا میرا ہم جماعت ہے..ایک دن ایسا ہوا کہ استاد صاحب کا پڑھایا ہوا سبق مجھے یاد نہیں تھا..جب انھوں نے مجھ سے سبق سنا تو میں سنا نہ سکا جس کی وجہ سے وہ بہت ناراض ہوئے اور اس لڑکے کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ بھی تیری طرح کا ہی لڑکا ہے.. بہت محنتی اور لائق ہے اور روزانہ سبق یاد کرکے آتا ہے..تمھارے گھر کے ساتھ ہی رہتا ہے..تم میں اور اس میں کتنا فرق ہے..اگر تمھیں کھیلنے سے فرصت ملے تو اس کے پاس جاکر سبق پڑھ لیا کرو..
            استادمحترم
کی باتیں سن کر مجھے بڑی ندامت ہوئی..تب میں نے اس لڑکے سے عرض کیا کہ کیا وہ مجھے سبق یاد کرا دیا کرے گا تو اس نے فورا رضامندی کا اظہار کیا اور کہا آپ کی بات سرآنکھوں پر ..جس سے واضح ہوا کہ وہ خوشی سے اس کام کےلیے تیار تھا..چناں چہ اگلے دن میں اس کے گھر گیا اور اسے آواز دی تو اس نے مجھے اندر بلا کر اپنے پاس بٹھایا..

یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمعیل کو آداب فرزندی


جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی..
......................................
دونوں میں سے کوئی ایک شعر لکھ سکتے ہیں جو آسانی سے یاد ہو..

جماعت نہم اردو سبق" قدرایاز" تشریح پیراگراف نمبر5


سبق : قدر ایاز
پیراگراف نمبر5
 ہم نے سکون سے یہ قصہ سنا..... دیہاتی سمجھا ہوگا

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: قدرایاز
مصنف کانام: کرنل محمد خان

خط کشیدہ الفاظ کے معنی
 قصہ.... کہانی , ماجرا
طرفین: طرف کی جمع  دونوں طرف کے
واضح.... نمایاں
تنازع..... جھگڑا
خفیف..... معمولی, ہلکا سا
دو طرفہ...... دونوں طرف سے
حدود اربعہ.... مکمل رقبہ, چاروں اطراف سے
ناخوش.... ناراض
ناقابل برداشت.... جو ضبط کے قابل نہ ہو
 قباحت.... برائی
بلاغت ..... فصاحت, دلیل سے

سیاق و سباق:تشریح طلب اقتباس سبق " قدر ایاز" کے درمیان سے لیا گیا ہے..اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ ایک دن سلیم کی غیر موجودگی میں اس کا دوست امجد آیا تو ملازم علی بخش نے اس کی ٹھیک طرح سے خدمت نہ کی تو سلیم نے اسے برابھلا کہ کر ڈانٹا..مصنف نے سلیم اور علی بخش دونوں کے بیانات سن کر انھیں ایک دیہاتی لڑکے کی کہانی سنائی جس سے دونوں کے درمیان ناراضی ختم ہوگئی اور دیہاتی پن سے محبت بھی جاگ اٹھی..
 تشریح:

کرنل محمد خان اردو ادب کے بہترین مضمون نگار اور ادیب تھے.انھوں نے سبق " قدر ایاز " میں دیہاتیوں کے سادہ مگر پرخلوص رویوں کو اجاگر کیا جس سے دیہاتی زندگی کی اصل خوب صورتی عیاں ہوتی ہے.
            تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ ایک دن میں اپنے کمرے میں بیٹھا مطالعہ کر رہا تھا کہ ملازم علی بخش نہایت افسردہ چہرہ لیے آگیا اور سلیم کے ڈانٹنے کی شکایت کی کہ وہ اسے بدتمیز اور گنوار دیہاتی سمجھتا ہے..اس کی وجہ پوچھنے پر پتا چلا کہ علی بخش  سلیم کے دوست امجد کی درست خاطر تواضع نہ کرسکا جس پر سلیم ناراض ہوگیا اور اسے ڈانٹ دیا..
مصنف کہتے ہیں کہ جب علی بخش اپنی دکھ بھری کہانی سنا چکا تھا تو سلیم میاں بھی آگئے اور انھوں نے تمام معاملا جان لیا اور اپنی صفائی پیش کی..مصنف کہتے ہیں کہ میں نے دونوں کے بیانات اطمینان سے سنے جس سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ جھگڑا معمولی سا ہے جسے دونوں کو ساتھ بٹھا کر اور چائے کی پیالی پلا کر افہام و تفہیم سے اسے نمٹایا جاسکتا ہے اور ان کی صلح کرائی جاسکتی ہے کیونکہ صلح ہی سے بھلائی اور بہتری ہوتی ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ بھی ہے :
" کسی مسلمان پر دوسرے مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی جائز نہیں".
:قرآن مجید میں بھی اللہ تعالی فرماتے ہیں

" سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں .پس اپنے
 بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے".
         

دراصل علی بخش سلیم میاں سے اس لیے نالاں اور ناراض تھا کہ انھوں نے اسے دیہاتی ہونے کا طنعہ دیا تھا جبکہ سلیم میاں اس بات پر خفا اور ناراض تھے کہ علی بخش کی تھوڑی سی غفلت اور لاپروائی سے امجد نے اسے دیہاتی سمجھا ہوگا.. گویا دونوں کے نزدیک دیہاتی ہونے کا طعنہ ناقابل برداشت تھا اور میرے نزدیک دیہاتی ہونا کوئی عیب والی بات نہ تھی اس لیے میں نے دونوں کی غلط فہمی دور کرنے کےلیے ہنسی ہنسی میں دیہاتی زندگی کی خوبیاں بیان کر دیں جس سے دونوں میں صلح اور رضامندی ہوگئی...


بقول شاعر

 جھگڑا تھا جو دل پہ اس کو چھوڑا

کچھ سوچ کے صلح کر گئے ہم..

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر 8


سبق پنچایت پیراگراف نمبر8
اقتباس:
 بوڑھی خالہ نے اپنی دانست.......... لاٹھی پٹک دی ۔
حوالہ متن:
 سبق کا عنوان:
 پنچایت
مصنف کانام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ
 خط کشیدہ الفاظ کے معانی
 دانست.... سمجھ, فہم
 گریہ و زاری.... رونا پیٹنا, آہ و بکا
خوبی تقدیر.... خوش قسمتی
 مائل......راغب, متوجہ
زخم پر نمک چھڑکنا....... زخم ہرے کرنا,تکلیف دینا
گھوم گھام.... پھر پھرا کر
 پٹکنا..... نیچے پھینکنا
 سیاق و سباق:
 تشریح طلب اقتباس منشی پریم چند کے لکھے افسانے " پنچایت" کے تقریبا ابتدائی حصے سے لیا گیا ہے۔اس افسانے میں مصنف بتاتے ہیں کہ الگو چودھری اور جمن کی گہری دوستی تھی۔جمن کی ایک خالہ تھی جس کی کچھ جائیداد تھی۔جمن نے وعدے وعید کرکے جائیداد اپنے نام کرالی اور بعد میں خالہ کی دیکھ بھال سے غفلت اختیار کرلی جس پر خالہ نے پنچایت بلانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کےلیے وہ سارا گاؤں پھری اور اس نے الگو چودھری سے بھی پنچایت میں آنے اور حق سچ کی بات کہنے کی درخواست کی..
 تشریح:
 منشی پریم چند نامور ادیب تھے۔اصل نام دھنپت رائے ہے اور اردو کے ابتدائی افسانہ نگاروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔انھوں نے اپنے افسانے "پنچایت" کے ذریعے دیہاتی زندگی کے مختلف پہلو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ جب جمن نے وعدے وعیدے کرکے اپنی خالہ جان سے جائیداد اپنے نام کرالی تو اس نے اپنے وعدے کی پاسداری نہ کرتے ہوئے خالہ جان کی مناسب دیکھ بھال کرنا چھوڑ دی ۔جس سے تنگ آ کر خالہ جان نے گاؤں میں پنچایت بلانے کا فیصلہ کرلیا مگر جمن کو اپنے اثر رسوخ پر اتنا یقین تھا کہ اس سے بگاڑ کے ڈر سے خالہ کی کوئی نہیں سنے گا۔ خالہ جان نے گاؤں کے چکر لگانے شروع کر دیے اور اپنی سمجھ اور فہم و فراست کے مطابق ہر کسی کے آگے گڑگڑا کر اپنا موقف پیش کیا اور پنچایت میں آکر اس کا معاملہ حل کرانے کی درخواست کی مگر جمن کی خوش قسمتی اور خالہ کی بدقسمتی دیکھیے کہ کوئی بھی خالہ جان کی بات سننے کو آمادہ اور تیار نہ تھا۔سب خالہ کی باتوں کو عدم دلچسپی سے سنتے اور اسے ہاں ناں کرکے ٹالنے کی کوشش کرتے کیونکہ جمن سے کوئی شخص بھی بگاڑنا نہیں چاہتا تھا۔ان لوگوں میں سے چند ایک تو خالہ کے زخم مزید ہرے کر دیتے اور اسے طعنے دے کر اس کو مزید تکلیف پہنچاتے کہ جب سب کچھ جمن کے نام کیا تھا تب انھیں بلایا تھا جو اب مدد کو پکارتی ہو۔غرض ہر طرف سے پھر پھرا کر اور لوگوں کی جلی کٹی اور ٹال مٹول سن کر بڑھیا خالہ جمن کے گہرے دوست الگو چودھری کے پاس آئی اور اسے بھی پنچایت میں آنے کا کہا اور اسے حق اور سچ کی بات کا ساتھ دینے کا بھی کہا کیونکہ بڑھیا خالہ اپنے دکھ اور درد کا مداوا سب لوگوں کو اکٹھا کرکے پنچایت کے ذریعے چاہتی تھی اس لیے وہ پورےطگاؤں میں ہر ایک کے پاس گئی اور مدد کی درخواست کی۔بقول شاعر
 آخر کوئی کنارا اس سیل بے کراں کا
آخر کوئی مداوا اس درد زندگی کا

Tuesday, March 12, 2019

جماعت نہم اردو سبق "ملکی پرندے اور دوسرے جانور" تشریح پیراگراف نمبر4




سبق : ملکی پرندے اور دوسرے جانور ۔پیراگراف نمبر4 ۔
اقتباس: 
عام طور پر بلبل کو آہ و زاری...................... نالہ و شیون کرتے دیکھا تھا.
 حوالہ متن:
 سبق کا عنوان: ملکی پرندے اور دوسرے جانور.
مصنف کانام: شفیق الرحمن
 ماخذ: مزید حماقتیں
 صنف: مضمون
 خط کشیدہ الفاظ کے معانی.
 آہ وزاری .......گریہ زاری , رونا پیٹنا
 اکسانا......ابھارنا, جوش دلانا
مضحکہ خیز .......عجیب و غریب, مزاق کے قابل
 افواہ ..........بےپرکی
 نالہ و شیون.......... گلہ شکوہ , آہ و زاری

: سیاق و سباق
 تشریح طلب اقتباس "شفیق الرحمن" کے لکھے ہوئے مضمون " ملکی پرندے اور دوسرے جانور" کے درمیان سے اخذ کیاگیا.اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مصنف بلبل کے بارے میں بتاتا ہے کہ یہ ایک روایتی پرندہ ہے جو ہرجگہ موجود ہے۔ہرخوش گلو پرندہ بلبل نہیں ہوتا اور اصلی بلبل ہمارے ملک میں نہیں پائی جاتی۔بلبل کو رات کے وقت عینک کے بغیر کچھ کا کچھ دکھائی دیتا ہے۔بلبل پروں سمیت چند انچ لمبی ہوتی ہے۔ 

 تشریح:
 اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور مزاح نگار " شفیق الرحمان" کے مضامین بہت ہلکے پھلکے اور نہایت شائستہ ہوتے ہیں. وہ الفاظ کی بازی گری سے کام لینے کی بجائے سادہ مگر موثر انداز میں مضامین لکھتے ہوئے اپنا اصلاحی مدعا بیان کر جاتے ہیں جو قارئین کے دل موہ لیتا ہے.. " ملکی پرندے اور دوسرے جانور " ان کی مزاح نگاری کا عمدہ مرقع ہے جو ان کی کتاب " مزید حماقتیں" سے اخذ کیاگیا ہے.تشریح طلب اقتباس میں مصنف بلبل کی اہمیت اور خصوصیت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ بلبل غمگین نغمے گاتا ہے اور اس کی وجہ اس کی غم زدہ گھریلو زندگی ہے.اپنے ان غمزدہ نغموں کی وجہ سے اسے آہ و زاری اور گریہ زاری کی دعوت دی جاتی ہے اور اسے پرغم نغمے گانے کے ساتھ ساتھ رونے پیٹنے پر اکسایا جاتا ہے.. رونا پیٹنا فطرتا کسی کو پسند نہیں ہوتا کیونکہ یہ دکھ اور درد کی علامت ہوتا ہے اور دکھ درد اور تکالیف کسی کےلیے کسی طور پسندیدہ نہیں ہوسکتے اس لیے بلبل بھی اسی قدرتی امر کے تحت رونے پیٹنے اور گریہ زاری کرنے کو کسی طور پسند نہیں کرتا..مصنف کے نزدیک بلبل ہونا کافی عجیب و غریب، مضحکہ خیز  اور قابل تمسخر ہے کیونکہ اس کی درست حقیقت سے بڑے بڑے محروم ہیں اور اس کے بارے میں بہت کچھ ابھی واضح نہیں.. یہ ایسا عجیب پرندہ ہے کہ بہت سے مصنف اور شعرا اسے مذکر بھی ظاہر کرتے ہیں اور مونث بھی گردانتے ہیں ..بہت سے شعرا کرام نے اپنی شاعری میں بلبل کا باغ کے ساتھ ساتھ وہاں موجود گلاب کے پھولوں کے ساتھ بھی گہرا تعلق جوڑا ہے اور اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انھوں نے رات کے کسی پہر بلبل کو گلاب کی کسی شاخ پر آہ و زاری اور گریہ زاری کرتے دیکھ لیا تھا اور  کم از کم  ان کا خیال یہ تھا کہ گلاب کے پودے پر بیٹھا وہ پرندہ ہی بلبل ہے اور اس کی وہ خوب صورت آواز اس کا دکھ بھرا گیت اور نالہ تھا۔  جیسا کہ اقبال کہتے ہیں :

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا

 بلبل  تھا کوئی  اداس  بیٹھا

Sunday, March 10, 2019

استنبول پیراگراف کی تشریح


اقتباس کی تشریح
 اقتباس: ذرا اعلان ہوتے ہی.........................ان کا ڈسپلن ان کو دنیا کی بڑی قوم بنا رہا ہے. حوالہ متن:
 سبق کا عنوان: استنبول
 مصنف: حکیم محمد سعید
ماخذ: سعید سیاح ترکی میں
 صنف: مضمون
 خط کشیدہ الفاظ کے معانی
رویہ: راہ , راستہ
 اطمینان: تسلی' آرام وسکون
 تنظیم: نظم و ضبط
 شائستہ: سلیقہ مند, باتمیز,سلجھا ہوا
 منظم: نظم و ضبط والا, ضابطہ کے ساتھ سیاق و سباق:
 تشریح طلب اقتباس حکیم محمد سعید کے تحریر کردہ سبق " استنبول کے درمیان سے لیا گیا ہے..اس سبق میں حکیم محمد سعید ترکی کے شہر استنبول کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں..لکھتے ہیں کہ ایاصوفیہ کو سلطان محمد فاتح نے فتح کیا جن کا اصل نام محمد ثانی ہے..تین سال پہلے حکیم محمد سعید اپنے دوستوں کے ہمراہ ترکی گئے تو ایاصوفیہ کی سیر کرنے کے ساتھ ساتھ سلیمانیہ مسجد نماز جمعہ کی ادائیگی کےلیے گئے اور پھر باسفورس, گولڈن ہارن سے ہوتے ہوئے توپ کاپی سرائے میوزیم میں گئے جو ترکی کا تاریخی میوزیم ہے اور اپنے پاس نوادرات رکھتا ہے..توپ کاپی کی سیر کراتے ہوئے حکیم صاحب اپنے دوستوں کو مسجد سلطان احمد لے گئے اور آخر میں حضرت ابو ایوب انصاری کے مزار پر حاضری دی اور پھر ادنا سے واپسی کےلیے کمرکس لی..
 تشریح:
 حکیم محمد سعید حکمت کے شعبے کے ساتھ ساتھ علم و ادب سے بڑا گہرا شغف رکھتے تھے..انھیں حکمت اور علم و ادب کے حوالے سے کئی ممالک کا سفر کرنے کا موقع ملا اور انھوں نے اس حوالے سے اپنے متعدد سفرنامے بھی لکھے..ان کے سفرنامے پڑھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہم بھی ان کے ساتھ شریک سفر ہوں اور یہی ان کی تحریر کی خوبی ہے.انھوں نے اپنے ایک سفرنامے "سعید سیاح ترکی میں" کے اندر ترکی کے دارالحکومت اور عظیم شہر استنبول کی تاریخی اہمیت اجاگر کی ..
 تشریح طلب اقتباس بھی ان کے تحریر کردہ مضمون" استنبول" سے اخذ کیا گیا ہے. حکیم محمد سعید لکھتے جب تین سال پہلے کویت کی مرکز طب اسلامی کے اجلاس میں شرکت کےلیے استنبول گئے تو وہ دن جمعہ کا تھا.ان کے ہمراہ چار اور دوست بھی تھے جن میں محترمہ خانم ڈسلوا, محترم ڈاکٹر شعیب اختر, ڈاکٹر ظفراقبال اور ڈاکٹر عطاالرحمن شامل تھے...ان سب کا استقبال وہاں حکیم صاحب کے دوست ڈوگواباچی اور ترکی کے وزیراعظم ترگت اوزال نے کیا. حکیم محمد سعید نماز جمعہ کی ادائیگی کےلیے سلیمانیہ مسجد گئے جسے سلطان سلیمان نے سنان کے ہاتھوں تعمیر کرائی..جو اپنی نفاست اور نقش نگاری میں اپنی مثال آپ ہے..نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد میں موجود تمام مندوبینوں کو عزت و احترام سے باہر لے جانا مقصود تھا اس لیے مہمانوں کی عزت اور قدر افزائی کےلیے اعلان کیا گیا کہ مندوبینوں کو مسجد سے باہر جانے کا راستہ دیا جائے..اعلان سنتے ہی لوگوں نے فورا اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے راستہ دے دیا..سب لوگ مسجد سلیمانیہ کے اندر دوطرف کھڑے ہوگئے اور درمیان میں چار فیٹ کا راستہ چھوڑ دیا تاکہ مہمان مندوبینوں کو تکلیف نہ پہنچے..اس عمل کے دوران کوئی بھی شخص اپنی جگہ سے نہ ہلا جب تک کہ تمام مندوبین مکمل آسانی اور عزت و احترام سے روانہ نہ ہوگئے.. یہ سب تعظیم, تنظیم اور ادب کی بات ہے اور ادب واحترام کے حوالے سے ترکی کا شمار اب بڑی قوموں میں ہوتا ہے اور کسی قوم کی اخلاقی ترقی کا انحصار بھی ادب و احترام اور ان کے منظم طور طریقوں میں پنہاں ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ تو کوئی قوم اپنا اخلاقی حسن برقرار رکھ سکتی ہے اور نہ ہی مہذب معاشرے کی مثال بن سکتی ہے..ترکی کی قوم مہذب قوم بن چکی ہے کیونکہ انھوں نے نظم و ضبط , تنظیم اور ادب و احترام کے وہ تمام نمایاں اوصاف اپنے اندر سمو لیے ہیں جو ایک سلجھی ہوئی قوم کا ہمیشہ خاصا ہوتے ہیں اور انھیں اوصاف کو مدنظر رکھتے
ہوئے شاعر نے خوب کہا ہے.

 حسن کردار  سے  نور  مجسم   ہو جا
 ابلیس بھی دیکھے تو مسلماں ہو جائے

مرزا محمد سعید ..پیراگراف نمبر 8 کی تشریح


 اقتباس: اگر اپنی خیر چاہتےہوتو.............نکالے جانے کا پیش خیمہ ہوگیا.
حوالہ متن:
 سبق کا عنوان: مرزا محمد سعید
 مصنف کا نام: شاہد احمد دہلوی
 ماخذ: گنجینہ گوہر
صنف : خاکہ نگاری
 خط کشیدہ الفاظ کے معانی:
 خیر: سلامتی,بھلائی,اچھائی
 حسب دستور: معمول کے مطابق, روایت کے مطابق
مسودہ: ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر
پیش خیمہ: ابتدائی وجہ, سبب
 سیاق و سباق:
 تشریح طلب اقتباس شاہد احمد دہلوی کے تحریر کردہ خاکہ " مرزا محمد سعید " سے لیاگیا ہے جو ان کی کتاب گنجینہ گوہر سے ماخوذ ہے.. مصنف مرزا محمد سعید کے متعلق لکھتے ہیں کہ وہ خوش طبع انسان تھے مگر کم گو تھے اور بحث و مباحثہ سے پرہیز کرتے تھے..شہرت سے دور بھاگتے تھے اور کبھی فرمائشی کام نہیں کرتے تھے..ان کی موت بہت بڑا سانحہ ہے اور ہماری غفلت کی سزا ہے کہ ہم مرزا صاحب جیسے اہل کمال سے غافل رہے...پطرس ان کے شاگرد تھے اور آل انڈیا ریڈیو کے ڈائریکٹر جنرل تھے..ان کے کہنے پر مرزا صاحب نے ریڈیو پر کچھ تقاریر کیں مگر پھر تقریروں کے انچارج کی من مانی سے تنگ آکر ریڈیو پر تقریر نشر کرنے سے انکار کر دیا..پطرس نے غلط کام کرنے پر اپنے سٹاف کی سرزنش کی اور مرزا صاحب کو منانے کا حکم دیا..مرزا صاحب بہت ہی بھلے آدمی تھے..موت برحق ہے مگر مرزا صاحب جیسی جامع العلوم ہستی سے محروم ہونے کا غم کسی طور کم نہیں..
 تشریح:
شاہد احمد دہلوی ایک نامور مصنف اور خاکہ نگار تھے..وہ اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور خاکہ نگاری کے حوالے سے اپنا منفرد مقام رکھتے ہیں.تشریح طلب اقتباس بھی ان کے تحریر کردہ خاکہ " مرزا محمد سعید " سے لیاگیا ہے جس میں مصنف لکھتے ہیں پطرس بخاری مرزا صاحب کے شاگرد تھے..وہ ان کے بڑے قدردان تھے اس لیے انھیں آل انڈیا ریڈیو پر تقریر کرنے پر آمادہ کیا...چند ایک تقریروں کے بعد مرزا صاحب نے معاہدہ ختم کردیا..اس کی خاص وجہ ریڈیو کے تقریروں کے انچارج کی طرف سے مرزا صاحب کے ہاتھ سے لکھی تقریر میں ردوبدل تھا.. اس نے حسب روایت اپنی کارکردگی دکھانے کےلیے مرزا صاحب کی تقریر سے دو ایک فقرے نکال دیے ..جب اس بات کی اطلاع پطرس تک پہنچی تو انھوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور تقریروں کے انچارج پر واضح کر دیا کہ اگر وہ اپنی بھلائی اور اچھائی چاہتا ہے تو اسے ہرصورت مرزا صاحب کو منانا ہوگا کیونکہ پطرس اپنے استاد محترم کی کسی طور بے ادبی برداشت نہیں کرسکتے تھے اس لیے تقریروں کے انچارج کی کوتاہی انھیں ناگوار گزری..وہ ہر صورت مرزا صاحب کو منانا چاہتے تھے اور تقریروں کے انچارج کو ہرصورت مرزا صاحب کو منا لانے کا حکم دیا.
بقول شاعر
  ٹھہر جائے یوں ہی ان کا تبسم
  ٹھہر  جائے  زمانہ   چاہتا   ہوں
وہ پیہم  روٹھ جانا چاہتے ہیں
میں ہر صورت منانا چاہتا ہوں

 ریڈیو کے تقریروں کے انچارج کو مرزا صاحب کے بارے میں علم نہیں تھا کہ وہ پطرس کے استاد ہیں.اس لیے اس کا مرزا صاحب کے مسودے سے فقرے نکالنے کا کام اس کےلیے درد سر بن گیا اور اس کےلیے مرزا صاحب کو منانا بہت ضروری ہوگیا اور وہ بھاگ کر مرزا صاحب سے اپنے کیے پر معافی مانگنے لگا کیونکہ اس کا کام اسے نوکری سے نکالے جانے کا ہراول دستہ بن گیا تھا اور اس کی نوکری بچنا مرزا صاحب کے مان جانے سے مشروط ہو چکا تھا...

الف: ایسا معلوم ہوا کہ جیسے کوئی پالکی کے پاس بول رہا ہو...................... آنکھیں بند کرلیں اور کلمہ پڑھنے لگی. حوالہ متن: سبق کا نام: پرستان کی شہزادی مصنف کانام: اشرف صبوحی ماخذ: دلی کی چند عجیب ہستیاں صنف: داستان. خط کشیدہ الفاظ کے معانی پالکی: ڈولی, فینس بےچاکی: بےڈھنگی, بدصورت کہار: پالکی اٹھانے والے دم گھٹنا: سانس رکنا. سیاق و سباق: تشریح طلب اقتباس اشرف صبوحی کی تحریر کردہ داستان "پرستان کی شہزادی" کے درمیان میں سے لیا گیا ہے جس میں ایک سیدانی بی کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ مغلانی تھیں جو نوابوں اور امیروں کے کپڑے سیتی تھیں اور اپنے فن میں اپنی مثال آپ تھیں..خاندان مرہٹہ گردی کا شکار ہوگیا..جوانی اچھے طریقے سے گزر گئی مگر بڑھاپے میں کوئی ان سے نہ پوچھتا تھا اس لیے در در کی ٹھوکریں کھانی پڑیں..یہ تو بھلا ہو میر صاحب کی بیوی کا جو ترس کھا کر سیدانی بی کو اپنے پاس رکھ لیا جہاں وہ میر صاحب کی بیوی بچوں کو پرستان کے سفر کی داستان بیان کر رہی تھیں کہ پہلی مرتبہ اسے دھوکے سے پرستان لے جایا گیا تاکہ بادشاہ کی بیٹی کا جہیز ٹانک سکے..وہ بے حد خوف زدہ تھی مگر پرستان جا کر اس کا خوف ختم ہوگیا اور وہ عمدگی سے جہیز ٹانک کر واپس آگئی.. تشریح: اشرف صبوحی اردو ادب کے نامور شاعر اور ادیب ہیں..انھوں نے اردو ادب کے حوالے سے گراں قدر خدمات سرانجام دیں..انھوں "دلی کی چند عجیب ہستیاں" کے نام سے اپنی پہلی کتاب شائع کی اور اسی کتاب سے ان کی تخیلی داستان "پرستان کی شہزادی" اخذ کی گئی..یہ داستان ایک سیدانی بی کے گرد گھومتی ہے جس کا خاندان مرہٹہ گردی کا شکار ہوگیا..وہ میر صاحب کی بیوی کے پاس رہ رہی تھیں اور اسے اور اس کے بچوں کو پرستان کے سفر کا حال بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں جب میں نے قاضی واڑے اور خانم کے بازار سے گزرتے ہوئے ہٹو بچو کی آواز نہ سنی تو پوچھا کہ اسے کہاں لے جایا جا رہا ہے تو اسے بتایا گیا کہ اسے پرستان کے بادشاہ نے اپنی بیٹی کے جہیز ٹانکنے کےلیے بلایا ہے.. سیدانی بی کہتی ہیں یہ آواز سن کر مجھےیوں لگا جیسے کوئی میری ڈولی کے پاس سے بول رہا ہے جس میں میں سفر کر رہی تھی.میں نے اپنا منھ باہر نکال کر دیکھا تو بیگم وہ سماں میں کیسے بیان کروں..مجھے ایک بےڈھنگی شکل کا اور بدصورت آدمی نظر آیا جس کا منھ بکرے کی طرح اور ٹانگیں گھوڑے جیسی تھیں جبکہ پالکی کو اٹھانے والے کہار تھے نہ کہاریاں بلکہ وہ بغیر کسی سہارے کے خود بخود چلی جا رہی تھی..یہ سب دیکھ کر خوف آنا فطری بات ہے اس لیے میرا بھی ڈر کے مارے سانس بند ہونے لگا اور میں نے خوف کے مارے آنکھیں بند کرلیں اور کلمہ پڑھنے لگی ..بقول منیر نیازی. بس اتنا ہوش ہے مجھ کو کہ اجنبی ہیں سب رکا ہوا ہوں سفر میں, کسی دیار میں ہوں..

پیراگراف نمبر8 خطوط غالب

                     03065976174            سبق:    خطوط غاؔلب               aufsurani.blogspot.com                                         ...