Wednesday, September 30, 2020

پیراگراف نمبر 9 تشریح سبق نظریۂ پاکستان


 سبق: نظریۂ پاکستان

پیراگراف نمبر9
اقتباس:
اگر ہم نے نظریہ پاکستان کو پیش نظر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پُر عظمت بنانے میں پوری طرح کامیاب ہوں گے۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: نظریۂ پاکستان
مصنف کا نام: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان
          صنف:  مضمون
خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛
پیشِ نظر ۔۔۔۔۔ مدِنظر، آنکھوں کے سامنے۔
سیرت ۔۔۔۔۔ زندگی۔
کردار ۔۔۔۔۔ عمل، خصائل۔
ڈھالنا ۔۔۔۔۔ ہیت تبدیل کرنا، مائل کرنا۔
توانا ۔۔۔۔۔ طاقت ور۔
مستحکم ۔۔۔۔۔ مضبوط۔
شان دار ۔۔۔۔۔ شان و شوکت والا۔
امتیاز ۔۔۔۔۔ فرق، پہچان، برتری۔
پُرعظمت ۔۔۔۔۔ شان و شوکت والا۔
 سیاق و سباق:
                    تشریح طلب اقتباس درسی سبق " نظریۂ پاکستان" کا آخری پیراگراف ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ نظریۂ پاکستان کا مقصد ملک کو اسلامی اور فلاحی مملکت بنانا ہے۔ ہم نے  تمام تر گروہ بندی سے بالاتر ہو کر ملک اور پاکستان کی فلاح کےلیے کوشش کرنی ہے اور نظریۂ پاکستان کو فروغ دینا ہے۔
تشریح:
                ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان اردو ادب کے نامور مضمون نگار ہیں۔تنقید و تحقیق میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عام قارئین کےلیے  ان کا طرز تحریر انتہائی سادہ اور عام فہم ہوتا ہے۔ درسی سبق" نظریۂ پاکستان"  ان کا ایک ایسا مضمون ہے جس میں وہ بڑے سیدھے سادھے الفاظ میں برصغیر میں مسلمانوں کے ابتدائی حالات اور ان کی پاکستان بننے تک کی جدوجہد کو اجاگر کرتے ہیں۔
                       تشریح طلب اقتباس میں مصنف ہمیں نظریۂ پاکستان کے حوالےسے  اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر ہم سب پاکستانیوں نے اپنی زندگی اور اپنے اعمال کو نظریۂ پاکستان کے عین مطابق ڈھالنے کی کوشش کی تو ہم نہ صرف کامیابی کی طرف چل پڑیں گے بلکہ دوسری ترقی یافتہ قوموں کے ہم پلہ بھی ہو جائیں گے۔ ترقی اور کامیابی میں ان پر برتری حاصل کرکے امتیازی مقام بھی پالیں گے۔
                 ہمیں چاہیے کہ اسلامی اصولوں کو اپنا کر اور انھیں اپنے لیے مشعل راہ بنا کر آگے بڑھیں اور ملک و قوم کی ترقی اور خوش حالی کےلیے کام کریں۔ اگر ہم اپنے عمل سے ایسا کریں گے تو بہت جلد ہم وطنِ عزیز پاکستان کو ترقی یافتہ، خوش حال بنانے کے ساتھ ساتھ اس کےمستقبل کو بھی عظیم سے عظیم تر بنانے میں کامیاب ہوں گے۔ جیساکہ شاعر کہتا ہے؛
   ؎  وطن کی خاک  ذرا ایڑیاں رگڑنے دے 
        مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا

پیراگراف نمبر8 تشریح سبق نظریہ پاکستان


 سبق: نظریۂ پاکستان

پیراگراف نمبر8
اقتباس: 
نظریۂ پاکستان کا مقصد پاکستان کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نظریۂ پاکستان کو فروغ دینا ہے۔
حوالہ متن: 
سبق کا عنوان: نظریۂ پاکستان
مصنف کا نام: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان
          صنف:       مضمون
خط کشیدہ الفاظ کےمعانی؛
فلاحی ۔۔۔۔۔ خوشحال، کامیابی والی۔
فلاحی مملکت ۔۔۔۔۔۔ کامیاب و خو شحال ریاست۔
شرمندہ ۔۔۔۔۔ شرمسار ہونا۔
گروہ بندی ۔۔۔۔۔ فرقہ واریت۔ 
فلاح و بہبود ۔۔۔۔۔ ترقی و خوشحالی۔
مفاد ۔۔۔۔۔ فائدہ۔
بالاتر ۔۔۔۔۔ بلند، اونچا۔
فروغ ۔۔۔۔۔ بڑھوتری، ترقی۔
سیاق و سباق:
                  تشریح طلب اقتباس درسی سبق " نظریۂ پاکستان کا اختتامی حصہ ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ ہندوؤں کی رکاوٹ کے باوجود پاکستان کا وجود عمل میں آگیا اور اس کا شمار دنیا کے اہم ممالک میں بھی ہونے لگا۔ اب ہم نظریۂ پاکستان کو پیشِ نظر رکھ کر پاکستان کو مستحکم بنا سکتے ہیں ۔ اگر ہم اپنی عملی زندگی کو نظریۂ پاکستان کے مطابق ڈھال لیں تو ہمیں دنیا کی دوسری قوموں میں امتیاز حاصل ہوگا اور ہم پاکستان کو پُرعظمت بنانے میں کامیاب ہوں گے۔
     تشریح:
                   ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان اردو ادب کے نامور مضمون نگار ہیں۔تنقید و تحقیق میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عام قارئین کےلیے  ان کا طرز تحریر انتہائی سادہ اور عام فہم ہوتا ہے۔ درسی سبق" نظریۂ پاکستان"  ان کا ایک ایسا مضمون ہے جس میں وہ بڑے سیدھے سادھے الفاظ میں برصغیر میں مسلمانوں کے ابتدائی حالات اور ان کی پاکستان بننے تک کی جدوجہد کو اجاگر کرتے ہیں۔
                  تشریح طلب اقتباس میں مصنف ہمیں نظریۂ پاکستان اور اس کے مقاصد کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نظریۂ پاکستان دراصل نظریۂ اسلام ہی ہے۔ اس لیے نظریۂ پاکستان کا بنیادی مقصد بھی پاکستان میں  اسلامی اصولوں کو رواج  دے کر اسے  کامیابی اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ جیسا کہ قائداعظمؒ نے فرمایا؛
 " پاکستان کا مطالبہ صرف اس لیے نہیں کہ ہم صرف زمین کا ٹکڑا چاہتے ہیں بلکہ ہم ایسی تجربہ گاہ چاہتے ہیں جہاں اسلامی اصولوں کو اپنایا جاسکے"۔
                         چناں چہ نظریۂ پاکستان کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اسلامی اصولوں کی مکمل پاسداری کریں اور دیانت داری سے اپنے فرائض سرانجام دیں اور ایسے کاموں سےمکمل اجتناب کریں جن کی وجہ سے روز محشر ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ  کے سامنے  شرمسار ہونا پڑے۔ ہماری تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں وطن عزیز پاکستان کی ترقی اور اس کی بقا کےلیے صرف ہونی چاہئیں۔ ہماری زندگی موت ملکِ پاکستان کےلیے ہونی چاہیے اور ہمیں ملک کی ترقی اور خوشحالی کےلیے کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ بقول شاعر؛
    ؎ اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اٹھا
         تیرے بیٹے تیرے جاں باز چلے آتے ہیں 
          ہمارے پیارے وطن اور نظریۂ پاکستان کا تقاضا یہ ہے کہ ملک کو جب بھی ہماری ضرورت ہو تو ہمیں اپنے انفرادی اور ذاتی فائدوں کو بالائے طاق رکھ کر ملک کے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے اور ملک کی حفاظت کےلیےہمہ وقت تیار رہنا چاہیے۔ اپنے ملک میں ہر طرح کی تقسیم اور فرقہ واریت کی مکمل حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ تمام تر تعصبات سے بالاتر ہو کر تمام پاکستانی بھائیوں کی سلامتی ،ترقی اور بھلائی کےلیے خلوص نیت سے کام کرنا چاہیے کیونکہ اسی طرح ہی اسلامی نظریے اور نظریۂ پاکستان کو عروج  حاصل ہوگا اور یہی اسلامی تعلیمات اور اخلاق کا تقاضا بھی ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے؛
" اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور تفرقہ میں مت پڑو"۔
اسی طرح حدیث مبارکہ ہے؛
" مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں جس کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم کرب میں رہتا ہے"۔
 

Saturday, September 26, 2020

پیراگراف نمبر7 تشریح سبق نظریہ پاکستان


 سبق: نظریۂ پاکستان

پیراگراف نمبر7
اقتباس
پاکستان نے قیام سے اب تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مستحکم اور شان دار بنا سکتے ہیں۔
حوالہ متن: 
سبق کا عنوان:  نظریۂ پاکستان
مصنف کا نام:  ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان
          صنف:        مضمون
خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛
ترقی ۔۔۔۔۔ عروج۔
پیشِ نظر ۔۔۔۔۔ نظر کے سامنے۔ مدِنظر۔
بدولت ۔۔۔۔۔ سبب، وجہ۔
مستحکم ۔۔۔۔۔ مضبوط۔
شان دار ۔۔۔۔۔ شان و شوکت والا۔
سیاق و سباق:
                  تشریح طلب اقتباس درسی سبق " نظریۂ پاکستان " کے آخری حصے سے لیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مسلمانوں نے قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت میں یقین، اتحاد اور عملِ پیہم کی وجہ سے الگ وطن حاصل کیا۔ نظریۂ پاکستان کا اصل مقصد پاکستان کو اسلامی اور فلاحی مملکت بنانا تھا۔ اس وجہ سے ہمیں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جس کی وجہ سے ہمیں  اللہ اور اس کے رسولﷺ  کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے ۔ ہمیں اپنے ملک کو زیادہ سے زیادہ مستحکم بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
    تشریح:
               ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان اردو ادب کے نامور مضمون نگار ہیں۔تنقید و تحقیق میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عام قارئین کےلیے  ان کا طرز تحریر انتہائی سادہ اور عام فہم ہوتا ہے۔ درسی سبق" نظریۂ پاکستان  ان کا ایک ایسا مضمون ہے جس میں وہ بڑے سیدھے سادھے الفاظ میں برصغیر میں مسلمانوں کے ابتدائی حالات اور ان کی پاکستان بننے تک کی جدوجہد کو اجاگر کرتے ہیں۔
                                  تشریح طلب اقتباس میں مصنف پاکستان کے قیام کے بعد کی صورت حال بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد ہمارے ملک نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کافی ترقی کی ہے۔ اس ترقی کے بل بوتے پر دنیا کے اہم ممالک میں اس کا شمار ہوتا ہے مگر ترقی کا سفر جتنا بھی طے کیا جائے وہ کم ہوتا ہے اس لیے ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم پاکستان کو مزید آگے بڑھائیں اور نظریۂ پاکستان کو سامنے رکھتے ہوئے قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھیں  اور ہمہ قسمی تعصب سے بالاتر ہوکر صرف اور صرف وطنِ عزیز کی ترقی اور بہتری کےلیے کام کریں کیونکہ اپنی محنت ، جدوجہد اور پُر خلوص کوشش سے ہی ہم اپنے وطن پاکستان کو مضبوط اور توانا بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل کو بھی تابناک بنا سکتے ہیں۔ جیسا کہ شاعر کہتا ہے؛
   ؎ وطن کی خاک ذرا ایڑیاں رگڑنے دے 
      مجھے یقیں ہے پانی یہیں سے نکلے گا 

      

پیراگراف نمبر6 تشریح سبق نظریہ پاکستان


 پیراگراف نمبر6

اقتباس:
پاکستان قائم کرنے کا فیصلہ ہندوؤں کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان معرضِ وجود میں آگیا۔
حوالہ متن:
 سبق کا عنوان: نظریۂ پاکستان
مصنف کا نام: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان
           صنف:  مضمون
خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛
ناگوار ۔۔۔۔۔ ناپسند۔
پُر خلوص ۔۔۔۔۔ مخلص۔
عمل پیہم ۔۔۔۔۔ مسلسل عمل۔
شان دار ۔۔۔۔۔ شان و شوکت والا۔
اکثریت ۔۔۔۔۔ کثیر تعداد میں، تعداد میں زیادہ ہونا۔
معرض وجود ۔۔۔۔۔ قائم ہونا،بننا۔
قیام ۔۔۔۔۔ وجود میں آنا۔ قائم ہونا۔
پیش نظر۔۔۔۔۔ نظر کے سامنے۔
کوشش ۔۔۔۔۔ جدوجہد، سعی۔
حق ۔۔۔۔۔ سچ۔
مبنی ۔۔۔۔۔ مشتمل
سیاق و سباق:
                تشریح طلب اقتباس درسی سبق " نظریہ پاکستان " کے آخری حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ مسلمانوں نے جس نظریۂ پاکستان کے تحت الگ وطن حاصل کرنے کا فیصلہ کیا وہ اصل میں نظریۂ اسلام ہی تھا۔ہندوؤں کو مسلمانوں کا یہ فیصلہ ناگوار گزرا اور انھوں مسلمانوں کو ناکام کرنے کی پوری کوشش کی۔ چونکہ نظریۂ پاکستان کا مقصد ایک اسلامی، فلاحی اور مثالی مملکت قائم کرنا تھا۔ اس لیے اب ہمیں اپنے اس مقصد کو یاد رکھتے ہوئے پاکستان کے استحکام کےلیے کام کرنا ہے۔
         تشریح:
             ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان اردو ادب کے نامور مضمون نگار ہیں۔تنقید و تحقیق میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عام قارئین کےلیے  ان کا طرز تحریر انتہائی سادہ اور عام فہم ہوتا ہے۔ درسی سبق" نظریۂ پاکستان  ان کا ایک ایسا مضمون ہے جس میں وہ بڑے سیدھے سادھے الفاظ میں برصغیر میں مسلمانوں کے ابتدائی حالات اور ان کی پاکستان بننے تک کی جدوجہد کو اجاگر کرتے ہیں۔
            تشریح طلب اقتباس میں مصنف پاکستان کے قیام کے حوالے سے مسلمانوں کی جدوجہد اور ہندوؤں کے تعصب اور تنگ نظری کو اجاگر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب برصغیر کے مسلمانوں نے رنگ و نسل اور چھوت چھات کے تعصبات سے پاک ایک الگ ملک پاکستان کے قیام کا فیصلہ کیا اور اس کےلیے اپنی جدوجہد بھی تیز کردی تو مسلمانوں کا یہ فیصلہ متعصب اور تنگ نظر ہندوؤں کو بالکل بھی پسند نہ آیا اور انھوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زرور لگانا شروع کر دیا۔ وہ دولت اور افرادی قوت کے بل بوتے پر مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی کوشش میں مصروف ہوگئے۔ جیساکہ مہاتما گاندھی کہتا تھا؛
" ہندوستان ہماری ماتا ہے اور ہم اپنی ماتا کے ٹکڑے نہیں ہونے دیں گے"۔
                 قیامِ پاکستان کا مطالبہ برصغیر کے مسلمانوں کا حق  اور انصاف پر مبنی مطالبہ تھا کیونکہ وہ کسی طور انگریزوں اور ان  ہندوؤں کی غلامی برداشت نہیں کرسکتے تھے جن کا رویہ اپنے سے نیچ ہندوؤں کے ساتھ بھی مناسب نہیں تھا۔ فتح ہمیشہ حق اور سچ کی ہوتی ہے اور باطل نے ایک نہ ایک دن مٹنا ہی ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ فرماتے ہیں؛
" اور کہ دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل نے تو مٹنا ہی تھا"۔( اِلاسراء) ۔
یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے قائداعظمؒ کی سیاسی بصیرت اور ولولہ انگیز قیادت میں ہندوؤں کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ قائد اعظمؒ  نے اپنی بےلوث خدمات کے ذریعے منتشر مسلمانوں کی قیادت سنبھالی، انھیں ہمت دی اور انھیں اتحاد و یکجہتی ، یقین اور جہد مسلسل کے ذریعے آگے بڑھایا۔ مجدد الف ثانیؒ کا قول ہے ؛
" جدوجہد کے بغیر غلامی سے چھٹکارا پانا ناممکن ہوتا ہے"۔
اور بقول اقبال؛
   ؎  یقیں   محکم،   عمل پیہم،   محبت فاتحِ عالم
      جہاد زندگانی میں ہیں یہ مَردوں کی شمشیریں
                   چناں چہ مسلمانوں کی قائداعظمؒ کی قیادت میں شبانہ روز جدوجہد کا نتیجہ یہ ہوا کہ برطانوی حکومت نے 23 جون 1947ء کو برصغیرکی تقسیم کا اعلان کیا اور بالآخر مسلمانوں کی جدوجہد رنگ لائی اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان کا قیام عمل میں آگیااور ہندو اپنی مسلم دشمنی میں تو آگے رہے مگر مسلمانوں کو اپنے مشن میں کامیابی سےنہ روک سکے۔ بقول اقبالؒ
     ؎    نشاں یہی ہے  زمانے  میں زندہ قوموں کا 
           کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں



پیراگراف نمبر 5 تشریح سبق نظریۂ پاکستان


 سبق: نظریۂ پاکستان

پیراگراف نمبر5
اقتباس:
ہمیں اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثالی مملکت کا نمونہ فراہم کرنا ہے۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: نظریۂ پاکستان
مصنف کا نام: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان
          صنف:         مضمون
خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛
ذہن نشین ۔۔۔۔۔ یاد کرنا۔
اخوت ۔۔۔۔۔ بھائی چارہ۔
خدا ترسی ۔۔۔۔۔ رحم دلی۔
فروغ ۔۔۔۔۔ بڑھوتری، پھیلاؤ۔
ترویج ۔۔۔۔۔ رواج دینا، پھیلانا۔
اشاعت ۔۔۔۔۔ شائع کرنا۔
ترویج و اشاعت ۔۔۔۔۔۔ پھیلانا ، آگے پہنچانا۔
نمونہ ۔۔۔۔۔ مثال۔
تصور ۔۔۔۔۔ خیال۔
مساوات ۔۔۔۔۔ برابری ، یکسانیت۔
عظمت ۔۔۔۔۔ بڑائی، بلندی۔
عظمتِ کردار ۔۔۔۔۔ کردار کی بلندی۔
محض ۔۔۔۔۔ صرف۔
اہلِ عالَم ۔۔۔۔۔ دنیا والے۔
سیاق و سباق:
                     تشریح طلب اقتباس درسی سبق " نظریہ پاکستان" کے درمیان سے اخذ کیاگیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے نظریۂ اسلام اور اپنے آزاد تشخص کی بقا کےلیے ذات پات ، چھوت چھات اور بت پرستی میں جکڑے عناصر کی غلامی قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ایک آزاد اور خودمختار مملکت پاکستان قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا۔یہ فیصلہ ہندوؤں کو ناگوار گزرا اور انھوں نے پوری کوشش کی کہ یہ مملکت قائم نہ ہونے پائے۔
      تشریح:
                  ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان  اردو ادب کے نامور مضمون نگار ہیں۔تنقید و تحقیق میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عام قارئین کےلیے  ان کا طرز تحریر انتہائی سادہ اور عام فہم ہوتا ہے۔ درسی سبق" نظریۂ پاکستان " ان کا ایک ایسا مضمون ہے جس میں وہ بڑے سیدھے سادھے الفاظ میں برصغیر میں مسلمانوں کے ابتدائی حالات اور ان کی پاکستان بننے تک کی جدوجہد کو اجاگر کرتے ہیں۔
                               تشریح طلب اقتباس میں مصنف ہمیں نظریۂ پاکستان کے متعلق باور کراتا ہے کہ نظریۂ پاکستان دراصل  نظریۂ اسلام ہی سے وابستہ ہے اور اسی کی بنیاد پر ہی پاکستان کا وجود عمل میں آیا۔ جیسا کہ قائداعظم نے فرمایا؛
" نظریہ پاکستان اصل میں نظریۂ اسلام  ہی ہے"۔
نظریۂ پاکستان میں اسلامی زندگی اور اسلامی قدروں کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام ہمیں بھائی چارے، باہم برابری و مساوات ، ایمان داری، رحم دلی، انسانیت سے ہمدردی اور کردار کی بلندی جیسی سنہری تعلیمات دیتا ہے اور ان پر عمل کرنے کا درس دیتا ہے۔ ان سنہری تعلیمات کو سامنے رکھ کر ہی نظریۂ پاکستان کو فروغ دیا گیا۔ اس لیے نظریۂ پاکستان کامقصد صرف یہ نہیں تھا کہ مسلمان ایک الگ حکومت بنانے میں کامیاب ہوں کیونکہ مسلمان تو پہلے ہی براعظم ایشیا اور براعظم افریقہ میں حکومتیں بنائے ہوئے تھے بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ برصغیر کے مسلمان ایک ایسی مملکت کا قیام عمل میں لائیں جہاں اسلامی اصولوں اور اسلامی تعلیمات کو اپنایا جائے اور ان تعلیمات کو آگے بھی پھیلایا جائے اور اسلامی طرز معاشرت کو اپنا کر ایک ایسی اسلامی اور فلاحی حکومت قائم کی جائے جو پوری دنیا کےلیے ایک مثال ہو۔ جیسا کہ قائداعظمؒ نے فرمایا تھا؛
" پاکستان کا مطالبہ صرف اس لیے نہیں کہ ہم زمین کا ٹکڑا حاصل کرلیں بلکہ ہم ایسی تجربہ گاہ چاہتے ہیں جہاں اسلامی اصولوں کو اپنایا جاسکے"۔
           

 

Thursday, September 24, 2020

پیراگراف4 تشریح سبق نظریۂ پاکستان


 پیراگراف نمبر4

اقتباس:
مسلمانوں کی قومیت ایک نظریاتی قومیت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بت پرستی کے بندھنوں میں جکڑی ہوئی تھی۔
حوالہ متن:
 سبق کا عنوان: نظریۂ پاکستان
مصنف کا نام: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان
          صنف:   مضمون
خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛
قومیت ۔۔۔۔۔ قوم کا بننا۔
نظریاتی ۔۔۔۔۔ نظریہ رکھنے والا۔
نمایاں ۔۔۔۔۔ واضح۔
ماتحت ۔۔۔۔۔ زیرنگیں۔
ملت ۔۔۔۔۔ قوم۔
جکڑا ہونا ۔۔۔۔۔ بندھا ہونا۔
پہلو ۔۔۔۔۔ گوشہ، کونا۔
حقیقت ۔۔۔۔۔ سچائی۔
بندھن ۔۔۔۔۔ رشتہ، تعلق۔
سیاق و سباق:
              تشریح طلب اقتباس درسی سبق " نظریہ پاکستان" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق وسباق یہ ہے کہ قومیت کی دو بڑی بنیادیں ہیں۔ ایک وہ بنیاد جو مغربی مفکرین نے قائم کی اور یہ رنگ و نسل اور وطنی قومیت پر مشتمل ہے جبکہ دوسری بنیاد مسلمانوں کی ہے جو کلمہ طیبہ پر قائم ہے۔اسی وجہ سے نظریۂ پاکستان میں اسلامی زندگی اور قدروں کا تصور بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور اخوت، مساوات ، عدل ، انسانی ہمدردی اور عظمتِ کردار کے بغیر نظریۂ پاکستان کو فروغ نہیں ہوسکتا۔
تشریح:
             ڈاکٹر غلام مصطفی اردو ادب کے نامور مضمون نگار ہیں۔تنقید و تحقیق میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عام قارئین کےلیے  ان کا طرز تحریر انتہائی سادہ اور عام فہم ہوتا ہے۔ درسی سبق" نظریۂ پاکستان " ان کا ایک ایسا مضمون ہے جس میں وہ بڑے سیدھے سادھے الفاظ میں برصغیر میں مسلمانوں کے ابتدائی حالات اور ان کی پاکستان بننے تک کی جدوجہد کو اجاگر کرتے ہیں۔ 
                     تشریح طلب اقتباس میں مصنف، مسلمانوں کی قومیت کی بنیاد کے حوالے سے وضاحت کرتا ہے کہ مسلمان قوم ایک نظریے کے تحت وجود میں آئی ہے اور وہ نظریہ اسلام ہے جس کی بنیاد کلمہ طیبہ ہے۔مسلمان قوم کسی طور پر بھی مغربی قوموں کی طرح رنگ و نسل اور وطن کی بنیاد پر وجود میں نہیں آئی بلکہ اس کا خاص نظریہ اور عقیدہ ہے جو دین اسلام سے جڑا ہوا ہے۔ اسی وجہ سے اسے ملت کہا گیا اور علامہ اقبالؒ اسے یوں بیان کرتے ہیں؛
؎   دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیت کہاں؟
   اور جمعیت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
ملت عربی میں شریعت یا دین کو کہتے ہیں  جبکہ قوم کے معنیٰ عورتوں اور مردوں کی جماعت کے ہیں۔اس لیے ملت ایک ایسی امت کا نام ہے جو ایک عقیدے اور ایک نظریے سے منسلک ہے جس میں  رنگ و نسل، ثقافتی اور قبائلی امتیاز نہیں پایا جاتا۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے؛
  " کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر اور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے"۔
اور بقول اقبال؛
؎   بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
   نہ   تورانی  رہے   باقی   نہ  ایرانی   نہ  افغانی
چناں چہ برصغیر کے مسلمانوں میں ہر نسل، رنگ اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مختلف ثقافت کے حامل لوگ شامل تھے مگر ان کا نظریہ اور عقیدہ ایک تھا جو ان کی وحدت کو برقرار رکھے ہوئے تھا۔ اس وجہ یہ یہ مسلمان کسی طور پر بھی بت پرست ،رنگ و نسل ، ذات پات اور چھوت چھات میں بٹی ہوئی قوموں کے زیرنگیں اقلیت کے طور پر رہنا قبول نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے  جداگانہ نظریے کے تحت اپنی الگ شناخت چاہتے تھے۔ جیسا کہ اقبالؒ نے فرمایا؛
؎  اپنی ملت پہ قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
 خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیﷺ

Saturday, September 19, 2020

پیراگراف نمبر3 تشریح سبق نظریۂ پاکستان


 سبق: نظریۂ پاکستان

پیراگراف نمبر3

اقتباس:

یہاں یہ سمجھ لینا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجبور اقلیت بن جاتے۔

حوالہ متن: 

سبق کا عنوان: نظریۂ پاکستان

مصنف کا نام: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان

           صنف:          مضمون

خط کشیدہ الفاظ کے معانی؛

قومیت ۔۔۔۔۔ شہریت۔

تشکیل ۔۔۔۔۔ بناوٹ، قائم ہونا۔

وسعت ۔۔۔۔۔ پھیلاؤ۔

استوار کرنا ۔۔۔۔۔ قائم کرنا، بنانا۔

وطنی قومیت ۔۔۔۔۔وطن کی بنیاد پر بننے والی قوم۔

اقلیت ۔۔۔۔۔ تعداد میں کم ہونا۔

مفکرین ۔۔۔۔۔مفکر کی جمع، دانش ور، غوروفکر کرنےوالے۔

جغرافیائی حدود ۔۔۔۔۔ زمینی حد تک۔

بخوبی ۔۔۔۔۔ اچھی طرح۔

تحفظ ۔۔۔۔۔ حفاظت۔

سیاق و سباق:

                    تشریح طلب اقتباس درسی سبق " نظریہ پاکستان" کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔ اس کا سیاق و سباق یہ ہے کہ برصغیر میں انگریزوں کے تسلط کے بعد مسلمانوں نے ان سے آزادی حاصل کرنے کےلیے جدوجہد شروع کر دی۔ 1930ء میں علامہ اقبالؒ نے الگ ملک کا تصور پیش کیا اور 1940ء میں قراردادِ پاکستان میں مسلمانوں نے آزاد اور خود مختار حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسلمانوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ مسلمان مغرب کے رنگ و نسل اور وطنی قومیت کی بنیاد والے تصور کو قبول نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی قومیت کی بنیاد کلمہ طیبہ پر تھی۔

   تشریح:

                  ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان اردو ادب کے نامور مضمون نگار ہیں۔تنقید و تحقیق میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عام قارئین کےلیے  ان کا طرز تحریر انتہائی سادہ اور عام فہم ہوتا ہے۔ درسی سبق" نظریۂ پاکستان  ان کا ایک ایسا مضمون ہے جس میں وہ بڑے سیدھے سادھے الفاظ میں برصغیر میں مسلمانوں کے ابتدائی حالات اور ان کی پاکستان بننے تک کی جدوجہد کو اجاگر کرتے ہیں۔

                           تشریح طلب اقتباس میں مصنف قوموں کے وجود کی بنیادیں اجاگر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہمیں یہ بات اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ دنیا میں کسی بھی قوم کے وجود میں آنے کےلیے دو بنیادیں قائم ہیں۔ایک بنیاد وہ ہے جو مغربی دانش وروں اور مفکرین نے قائم کی ہوئی ہے جوکہ خاندانی، نسلی اور قبائلی بنیادوں کو تھوڑا وسیع کرکے علاقائی حد بندیاں قائم کرکے بنائی گئی اور کہا گیا کہ قوم وطن سے بنتی ہے۔ اگر وطن ہے تو اس کی اپنی قوم بھی ہے جیسے جاپان سے جاپانی قوم اور چین سے چینی قوم۔ اقبالؒ نے اسے یوں بیان کیا؛

؏  ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار

 قوم کے وجود کے حوالے سے مغرب کے غلط نظریے کی وجہ سے دنیا میں دو عالمی جنگیں وقوع پذیر ہوئیں کیونکہ یہ وطن پرستی اور وطنی قومیت کا جذبہ ہی تھا جس کی بنا پر جرمنی، جاپان ، امریکہ اور فرانس وغیرہ کے درمیان دو بڑی جنگیں ہوئیں۔

اسی نظریے کے تحت ہی برصغیر میں انگریزوں نے قدم جمائے ۔ان کی وطنی قومیت کا تصور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام رہا کیونکہ مسلمان اس نظریے کے تحت اقلیت بنا دیئے گئے۔ اس لیے برصغیر کے مسلمانوں نے اس نظریے کو قبول نہ کیا۔اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان کی قومیت کی بنیاد کا تصور وہ تھا جو حضوراکرمﷺ نےدیا جس کا رنگ و نسل یا علاقے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر قائم ہے کہ مسلمان دنیا کے جس کونے میں بھی ہیں وہ ایک قوم ہیں اور جسد واحد ہیں۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے؛

" مسلمان ایک جسم کی مانند ہے جس کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا جسم کرب محسوس کرتا ہے"۔

اور بقول اقبالؒ؛

  ؎   اپنی ملت پہ  قیاس اقومِ مغرب  سے نہ کر

        خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمیﷺ

پیراگراف نمبر8 خطوط غالب

                     03065976174            سبق:    خطوط غاؔلب               aufsurani.blogspot.com                                         ...