Thursday, September 19, 2019

جماعت نہم اردو سبق پنچایت پیراگراف نمبر14


سبق : پنچایت
پیراگراف 14

اقتباس شیخ جمن کو اپنی عظیم الشان ذمہ داری.............غور سے سنا اور تب فیصلہ سنایا۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کانام :منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
عظیم الشان........ شاندار، بڑے مرتبے والی
احساس...... لحاظ
مسند......عہدہ،کرسی،تخت
مطلق.......... بالکل، قطعی
حق اور راستی.........سچ اور انصاف
جو بھر ٹلنا........ رتی برابر پھرنا، معمولی سا  پھرنا
سیاہ........تاریک

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" پنچایت" سے اخذ کیا گیا ہے۔اس  سبق میں مصنف بتاتے ہیں کہ الگو چودھری اور سمجھو سیٹھ کے درمیان بیل کی فروخت کا تنازعہ جب پنچایت میں لایا گیا تو پنچایت کے سرپنچ جمن شیخ کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ انصاف کا حکم اللہ کا حکم ہے اس لیے اس نے مکمل عدل و انصاف سے ذمہ داری نبھانی ہے۔چناں چہ اس نے انصاف کے مطابق فیصلہ الگوکے حق میں کردیا۔

تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب ہوتی ہے۔" پنچایت " اس کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی اہمیت بھی اجاگر کرتا ہے۔
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف جمن شیخ کے الگوچودھری اور سمجھو سیٹھ کے درمیان ثالثی کے فیصلے کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب الگو اور سمجھو سیٹھ کے درمیان بیل کی فروخت کا معاملہ جمن کے سامنے آیا تو جمن کے دل میں اس بات کا احساس جاگ اٹھا کہ اس کو انصاف کی جو اعلی ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کا مقام بہت بلند ہے کیونکہ  انصاف کرنے کا حکم اوپر والے رب کا حکم ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے

" جب تم دو گروہوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو انصاف کے ساتھ کیا کرو".

چناں چہ حکم خداوندی میں میری نیت اور خواہش کو بالکل بھی دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اگر میں نے حق اور انصاف کے راستے کوذرا بھر بھی پس پشت ڈال دیا تو دین اور دنیا دونوں میں رسوائی کے علاؤہ کچھ حاصل نہ ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
"اپنی خواہش کے پیچھے نہ چلوبلکہ عدل کرو، اگر تم نے ہیر پھیر کی یا منھ پھیرا تو اللہ تمھارے کاموں سے باخبر ہے"

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر 13


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر13

اقتباس:
ایک بار وہ بھی بگڑے اور سیٹھ جی..............آپس میں سرپھٹول سے کام نہ چلے گا

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی۔
بگڑے....... خفا ہوئے
گرم ہونا.......تپنا، غصے ہونا
جذبے کے مارے....... جوش میں آکر
مباحثہ......... بحث و تکرار
مجادلہ......... لڑائی جھگڑا
نوبت........مرحلہ، وقت، حالت
کواڑ....... دروازے
معزز.......عزت دار،قابل احترام
فریق........جزو، حصہ دار
دلاسا.......حوصلہ
صلاح.......مشورہ
سرپھٹول........سر پھاڑنا، لڑائی جھگڑا کرنا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔اس میں مصنف کہتے ہیں کہ الگو چودھری نے اپنا بیل سمجھو سیٹھ کو ایک ماہ کے ادھار پر دیا۔ سمجھو سیٹھ نے بیل کو دوڑا دوڑا کر مار ڈالا۔جب الگو چودھری نے سمجھو سیٹھ سے رقم کا تقاضا کیا تو وہ بگڑ گیا اور رقم دینے سے انکار کردیا۔ اس دوران الگو اور سمجھو میں ہاتھا پائی ہوگئی۔ گاؤں کے معززین نے ان کو سمجھاتے ہوئے پنچایت میں اپنا تصفیہ کرانے کا مشورہ دیا۔جسے دونوں نے تسلیم کرلیا۔
 
تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب نظر آتی ہے۔ " پنچایت "ان کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عدل وانصاف کی ضرورت اور اہمیت بھی بیان کرتے ہیں۔
          تشریح طلب اقتباس میں مصنف الگو چودھری اور سمجھو سیٹھ کے تنازعہ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ الگو چودھری نے سمجھو سیٹھ کو اپنا بیل ایک ماہ کے ادھار پر بیچ دیا۔ سمجھو سیٹھ نے بیل کو دوڑا دوڑا کر مار ڈالا۔الگو چودھری کی طرف سے بیل کی رقم ڈیڑھ سو روپے رقم طلب کیے جانے پر سمجھو سیٹھ نے رقم دینے سے انکار کر دیا اس پر الگو غصے ہوگیا اور سمجھو سیٹھ سے تلخ کلامی کرنے لگا جس پر سمجھو سیٹھ بھی تپ اٹھا اور دونوں ایک دوسرے پر خوب بگڑے۔ سیٹھانی جی یعنی سمجھو سیٹھ کی بیوی  جوش اور جذبات میں آکر گھر سے باہر نکل آئی ۔الگو اور سمجھو کے درمیان خوب بحث و تکرار ہوئی اور آپس میں خوب سوال و جواب بھی ہوئے۔ جب معاملہ حد سے بڑھ کر لڑائی جھگڑے تک پہنچ گیا تو سیٹھ جی غصے میں آکر کر اپنے گھر میں گھس گئے اور گھر کے دروازے بند کردیے۔
حدیث مبارکہ ہے۔
"  جب دوبھائیوں میں جھگڑا ہو تو ان میں صلح کرا دیا کرو."
اسی صلح کےلیے گاؤں کے بہت سے معزز اور قابل احترام لوگ وہاں اکٹھے ہوگئے اور انھوں نے الگو چودھری کو سمجھایا اور سمجھو سیٹھ کو گھر سے نکال کر تسلی دی کہ اس طرح بحث و تکرار اور لڑائی جھگڑے سے کام بننے کی بجائے مزید بگڑے گا اور دلی نفرت بڑھ جائے گی جس سے سب کےلیے مشکلات میں اضافی ہوگا۔
 بقول شاعر

بگڑنے سے تمھارے کیا کہوں کیا بگڑتا ہے
کلیجا منھ کو آجاتاہے ہے،دل ایسا بگڑتا ہے۔

جماعت نہم اردو سبق پنچایت پیراگراف نمبر12


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر12

اقتباس:
اس فیصلے نے الگو اور جمن کی دوستی کی جڑیں ہلا دیں................ انتقام کی خواہش چین نہ لینے دیتی تھی۔

حوالہ متن:
 سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
جڑیں ہلانا........ بنیادیں ختم کرنا
تناور......... توانا، مضبوط
حق........سچ
جھونکا....... لہر
سہنا....... برداشت کرنا
تیر و سپر.......... تیر اور ڈھال
 غداری....... بغاوت

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت " کے درمیان میں سے اخذ کیا گیا ہے۔اس میں مصنف شیخ جمن اور اس کی خالہ کے درمیان نان نفقے کے حوالے سے پنچایت کے فیصلے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ الگو چودھری نے خالہ کے حق میں فیصلہ سنایا تو جمن فیصلہ سن کر الگوچودھری کا دشمن ہوگیا اور اسے نقصان پہنچانے کی سوچنے لگا۔اس دوران الگو کا بیل مرا تو اس نے جمن پر ہی شک کیا۔

تشریح:
منشی پریم چند اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں نیکی اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب نظر آتی ہے۔ " پنچایت بھی ان کا ایسا افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی ضرورت اور اہمیت کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہیں۔
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف جمن اور اس کی خالہ کے نان نفقے کے حوالے سے ہونے والی پنچایت کے فیصلے کے بارے میں بتاتا ہے کہ جمن کے دوست الگو چودھری نے جمن اور اس کی خالہ کی تمام تر گفتگو سننے کے بعد انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر خالہ کے حق میں فیصلہ سنایا کہ جمن کےلیے ضروری ہے کہ وہ خالہ کے نان نفقے کو پورا کرے یا  خالہ کی جائیداد واپس کرے۔
              پنچایت کے اس فیصلے نے الگو چودھری اور جمن شیخ کی دوستی کی بنیادیں ہلا دیں۔ اپنے خلاف فیصلہ سن کر جمن الگو چودھری کا مخالف بن گیا۔

" تنازعات اور ان کے فیصلے نہ صرف انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں بلکہ دوستی کی بنیادیں تک ہلا دیتے ہیں".

اس لیے جمن اور الگو کے درمیان گہری دوستی کا مضبوط درخت بھی سچ اور انصاف کا ایک جھونکا بھی برداشت نہ کرسکا۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے ملتے ضرور تھے لیکن ان کی آپس میں بنتی نہیں تھی۔ جس طرح میدان جنگ میں تیر اور ڈھال ایک دوسرے کی مخالفت میں کام آتے ہیں  اسی طرح وہ بھی ایک دوسرے کے مخالف ہوگئے اور ایک دوسرے سے دشمنوں کی طرح ملتے تھے۔
          جمن سمجھتا تھا کہ الگو نے اس کے خلاف فیصلہ دے کر اس کے ساتھ غداری کی ہے۔ وہ ہرصورت الگو سے اس کا بدلہ لینا چاہتا تھا کیونکہ بدلے کی آگ اسے آرام سے نہیں بیٹھنے دیتی تھی اور وہ الگو کو ہرصورت نقصان پہنچانے کے درپے ہوچکا تھا۔
بقول شاعر
عجب جنون ہے یہ انتقام کا جذبہ
شکست کھاکے وہ پانی میں زہر ڈال آیا۔

جماعت نہم اردو سبق پنچایت پیراگراف نمبر11


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر11

اقتباس:
جرح ختم ہونے کے بعد الگو نے فیصلہ سنایا..............ہبہ نامہ منسوخ ہو جائے گا۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
 جرح........ زخم،گھاؤ، سچائی معلوم کرنے کےلیے پوچھے گئےسخت سوالات
لہجہ.......طرز گفتگو
سنگین.......سخت
تحکمانہ........ حکم دینے کے انداز میں
معاملہ.......مسئلہ
زیادتی....... قصور،ناجائزی
سراسر....... مکمل،ساری کی ساری
معقول....... مناسب
نفع........فائدہ
بندوبست........ انتظام
ماہوار... .... مہینے بھر کا۔
ہبہ نامہ........وہ دستاویز جس پر کوئی چیز عطا کرنے کا اقرار لکھا جائے۔
منسوخ ........ملتوی، ختم ہونا
سناٹے میں آنا.........دنگ رہ جانا، حیرت زدہ ہونا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت" کے درمیان میں سے لیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ جب جمن کی خالہ نے اپنے مسئلے کے حل کےلیے جمن کے خلاف پنچایت بلائی تو اس کا سرپنچ الگو چودھری کو بنایا گیا جو جمن کا گہرا دوست تھا۔اس نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کےلیے جمن سے حقائق معلوم کرنے کےلیے سوالات کیے اور آخر میں انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے فیصلہ سنایا جس میں جمن کےلیے دو راستے رکھے گئے کہ یا تو وہ خالہ کی وعدے کے مطابق دیکھ بھال کرے یا ہبہ نامہ منسوخ کرائے۔

تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔اس کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب نظر آتی ہے۔ " پنچایت " اس کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی ضرورت اور اہمیت بھی واضح کرتا ہے۔
     تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ پنچایت کے سرپنچ الگو چودھری نے اپنے دوست جمن سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور حقائق پرکھنے کےلیے تیز و تند سوالات کیے۔ جس سے شیخ جمن پریشان ہوگیا۔تمام تر صورتحال کو سمجھنے کے بعد الگو چودھری نے جمن اور اس کی خالہ کے درمیان تنازعہ کا فیصلہ سنایا۔ فیصلہ سنانے کے دوران  الگو چودھری کا لب و لہجہ اور انداز گفتگو بہت سخت تھا اور ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ فیصلہ نہیں سنا رہا  ہو بلکہ حکم جاری کر رہا ہو۔
       الگوچودھری نے جمن کو مخاطب کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیا کہ ہم پنچایت والوں نے سارے معاملے پر مکمل غور و فکر سے کام لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ساری کی ساری غلطی تمھاری ہے۔ تم نے خالہ جان سے ناجائزی کی ہے۔تمھیں کھیتوں سے اچھا خاصا منافع حاصل ہوتا ہے اس لیے تمھارے اوپر لازم ہے کہ تم خالہ جان کے ماہانہ اخراجات کا انتظام کرو۔ اس کے علاؤہ تمھارے پاس کوئی دوسری راہ نہیں۔اگر تم ہمارے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اور خالہ کے ماہوار اخراجات پورے کرنے سے انکار کرتے ہو تو وہ اقرار نامہ جس کے تحت خالہ جان کی  ملکیت تمھارے نام ہوگئی تھی منسوخ کر دیا جائے گا اور خالہ کی ملکیت اسے واپس  دلا دی جائے گی۔
         جمن یہ فیصلہ سن کر ہکابکا رہ گیا۔ وہ مایوسی کے عالم میں ٹوٹے دل کے ساتھ کہنے لگا کہ آج کل زمانے میں یہی دوستی ہے کہ جو آپ پر بھروسا کرے اس کی مخالفت پر اتر آؤ اور اس کی گردن پر بھری پھیر کراسے تباہ و برباد کر دو۔
 بقول شاعر
 دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں
دوستوں کی مہربانی چاہیے

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر10


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر10

اقتباس:
الگو کو آئے دن عدالت سے واسطہ رہتا تھا............اچھی دوستی نباہی۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف : افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی۔
واسطہ........تعلق
قانونی.......قانون کا علم جاننے والا۔
جرح......... حقائق معلوم کرنے کےلیے سوال جواب کرنا۔
ضرب.......ٹھوکر
حیرت........حیرانی
کایا پلٹ ہونا....... تبدیلی آنا، قسمت بدلنا
جڑ کھودنا....... بنیادیں ہلانا
آمادہ......تیار
نباہنا........تعلق جوڑے رکھنا

سیاق و سباق:
 تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت" کے درمیان سے لیا گیا ہے۔اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ جب جمن کی خالہ نے اپنے مسئلے کے حل کے لیے پنچایت بلائی تو پنچایت کا سرپنچ جمن کے گہرے دوست الگو چودھری کو بنایا گیا۔الگو نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کےلیے جمن سے سوال جواب کیے اور انصاف کے تمام تر اصولوں کو مدنظر رکھ کر جمن کے خلاف فیصلہ سنایا جس پر جمن خفا ہوگیا۔
 تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب رہتی ہے۔" پنچایت" ان کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں۔
         تشریح طلب اقتباس میں مصنف خالہ کی طرف سے جمن کے خلاف بلائی گئی پنچایت کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب پنچایت کا سرپنچ جمن کے دوست الگو چودھری کو بنایا گیا تو اس نے ہرصورت انصاف کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
         الگو چودھری قانونی تقاضوں سے اچھی طرح واقف تھا کیونکہ اسے آئے روز مختلف معاملات کے سلسلے میں عدالت جانا پڑتا تھا اس لیے وہ اچھی طرح سمجھتا تھا کہ عدالتی معاملات کیسے ہوتے ہیں اور انصاف کے تقاضےکیا ہوتے ہیں۔ اس لیے اس نے جمن سے حقائق معلوم کرنے کےلیے سوال جواب شروع کر دیے جن کا سامنا کرنےکےلیے جمن بالکل بھی تیار نہ تھا اور نہ ہی اسے الگو سے اس طرح کی امید تھی بلکہ اسے یقین تھا کہ کوئی اس کی مخالفت مول لے کر انصاف کرنے کی کوشش نہ کرے گا۔مگر معاملہ اس کے برعکس ہوا۔
           الگو چودھری کے پوچھے گئے تمام تر سوالات جمن پر کاری ضرب لگانے لگے اور وہ بالکل حیران تھا کہ الگو پنچایت سے پہلے تو اس کے ساتھ بیٹھا اچھی اچھی اور خوش گوار باتیں کر رہا تھا اور کہیں سے ایسا دکھائی نہ دیتا تھا کہ وہ جلد اس کی مخالفت پر اتر آئے گا۔
       جمن کے بقول  الگو کے رویے میں اچانک تبدیلی آئی اور وہ اس کی بنیادیں تک ہلانے پر تیار ہوگیا تھا اور گہری دوستی کی لاج نہ رکھتے ہوئے مخالفت پر اتر آیا تھا۔ کیا اچھی دوستی کے یہی تقاضے ہوتے ہیں اور دوستی ایسے نباہی جاتی ہے کہ دوست دشمن سے بھی گیا گزرا ثابت ہو۔

بقول شاعر

تیرے قریب آکر بڑی الجھنوں میں ہوں
میں دشمنوں میں ہوں کہ دوستوں میں ہوں۔

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر9


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر9

اقتباس:
پنچو، آج تین سال ہوئے..............کس سے اپنا دکھ درد روؤں۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
جائیداد......ملکیت، مال اسباب
تاحین حیات........ زندگی بھر، عمر بھر
وعدہ.........عہد و پیمان
رو دھو کر........روپیٹ کر، مشکل کے ساتھ
سہنا....... برداشت کرنا
بےکس......... لاچار،مجبور
آہ لینا......... بددعا لینا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس منشی پریم چند کے لکھے گئے افسانے " پنچایت" سے لیا گیا ہے۔ اس میں مصنف جہاں شیخ جمن اور الگو چودھری کے یارانے کے بارے میں بتاتے ہیں وہیں جمن اور اس کی خالہ کے درمیان جائیداد اور نان نفقے کے حوالے سے ہونے والے تنازعہ کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہیں جس کے حل کےلیے خالہ نے پنچایت بلا لی اور جمن کے دوست الگو چودھری کو پنچایت کا سرپنچ بنا کر اپنے حالات اس کے سامنے بیان کیے۔

تشریح:
 منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب نظر آتی ہے۔ " پنچایت ان کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ گاؤں کی زندگی کے مسائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
      تشریح طلب اقتباس میں مصنف شیخ جمن اور اس کی بوڑھی خالہ کی باہمی تلخیاں اجاگر کرتا ہے جو ہبہ نامہ پر رجسٹری کے بعد سامنے آئی تھیں۔خالہ نے جمن سے اپنے الگ نان نفقے کا مطالبہ کیا جسے جمن نے پورا کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر بوڑھی خالہ نے پنچایت بلالی اور اپنا سارا مدعا پنچایت والوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اے برادری والو! آپ سب جانتے ہیں کہ آج سے تین سال پہلے میں نے اپنی ملکیت اپنے بھانجے جمن پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے نام لکھ دی تھی جس کے بدلے میں جمن نے مجھے تمام عمر روٹی کپڑا دینے کا عہد کیا تھا۔ مگر ہبہ نامہ پر رجسٹری کے بعد اس نے میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہوئے مجھے یکسر نظرانداز کرنا شروع کر دیا۔
             میں نے کچھ عرصہ تو اس کے ساتھ دکھ، تکلیف اور مشکل میں گزارا مگر اب مجھ میں اتنی ہمت اور طاقت نہیں کہ مزید دن رات مصیبت میں گزاروں۔انصاف کےلیے جمن پر مقدمہ کرکے تھانے کچہری کے  چکر لگانا میرے بس کی بات نہیں ہے کہ بڑھاپے میں دھکے نہیں کھائے جاتے اس لیے اب تم لوگوں کے سوا کون ہے جس کے سامنے میں اپنا دکھ درد بیان کروں اور انصاف کی امید رکھوں۔
بقول شاعر

بنے ہیں اہل ہوس مدعی بھی منصف بھی
کسے وکیل کریں،کس سے منصفی چاہیں

مجھے آپ کے پاس آنے کے علاؤہ اور کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی اس لیے مجبور ہوکر آپ سب کو زحمت دی ہے۔ آپ میرے ساتھ انصاف کریں۔ آپ جو فیصلہ کردیں گے وہ مجھے منظور ہوگا۔

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر8


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر8

اقتباس:
بوڑھی خالہ نے اپنی دانست میں.........لاٹھی پٹک دی۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
دانست...... سمجھ،آگاہی،خیال
گریہ و زاری........رونا پیٹنا، آہ و بکا
کسر اٹھا نہ رکھنا........ کوئی کمی باقی نہ رکھنا۔
خوبی تقدیر........ خوش قسمتی،قسمت کی اچھائی
مائل....... راغب، متوجہ
ٹال دینا....... ٹرخانا
زخم پر نمک چھڑکنا.......زخم تازہ کرنا، تکلیف بڑھانا۔
گھوم گھوم کر........ چل پھر کر۔
پٹکنا....... پھینکنا، اچھالنا


سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت" کے درمیان سے لیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف جہاں جمن شیخ اور الگو چودھری کی دوستی کے بارے میں بتاتے ہیں وہیں جمن اور اس کی بوڑھی بیوہ خالہ کے درمیان ملکیت اور نان نفقے کے متعلق ہونے والے تنازعہ کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہیں کہ جب جمن نے جائیداد ہتھیا لینے کے بعد خالہ کی خاطر داری کم کر دی تو خالہ نے پنچایت بلانے کا اعلان کر دیا اور اس مقصد کےلیے اس نے پورے گاؤں کے چکر لگانا شروع کر دیے اور جمن کے دوست الگو سے بھی پنچایت میں آنے کی درخواست کی۔

تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات ک باوجود برائی پر غالب ہوتی نظر آتی ہے۔ " پنچایت " بھی ان کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی اہمیت بھی واضح کرتے ہیں۔
     تشریح طلب اقتباس میں مصنف جمن کی خالہ کی زبوں حالی کا احوال بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب جمن نے اپنی خالہ سے جائیداد ہتھیا لی اور اس کی خاطر تواضع میں بھی کمی کردی تو خالہ نے اپنے مسئلے کے حل کےلیے پنچایت بلانے کی دھمکی دی تو جمن خالہ کی اس دھمکی سے بالکل بھی مرعوب نہ ہوا کیونکہ اسے یقین تھا کہ اس سے بگاڑ کے ڈر سے کوئی  بھی خالہ کی بات نہیں سنے گا۔مگر خالہ نے گاؤں کے چکر لگانا شروع کر دیے اور اس نے اپنی سمجھ بوجھ اور فہم و فراست کے مطابق ہر کسی کے آگے گڑگڑا کر اپنا موقف پیش کیا اور پنچایت میں آکر اس کا معاملہ حل کرانے کی درخواست کی مگر جمن کی خوش قسمتی اور خالہ کی بدقسمتی دیکھیے کہ کوئی بھی خالہ کی باتوں کو سننے پر آمادہ نہ تھا۔سب خالہ کی باتوں کو عدم دلچسپی سے سنتے اور اسے ہاں ناں کرکے ٹالنے کی کوشش کرتے کیونکہ جمن سے کوئی شخص بگاڑنا نہیں چاہتا تھا۔ان لوگوں میں سے چند ایک تو خالہ کے زخم مزید ہرے کر دیتے اور اسے طعنے دے کر مزید تکلیف پہنچاتے کہ جب سب کچھ جمن کے نام کیا تھا تب انھیں بلایا تھا جو اب مدد کو پکارتی ہو۔
بقول شاعر
 یہ مطلب کی دنیا ہے، جہاں سنتا نہیں فریاد کوئی
ہنستے ہیں تب لوگ،جب ہوتا ہے برباد کوئی

       غرض ہر طرف سے پھر پھرا کر اور لوگوں کی جلی کٹی اور ٹال مٹول سن کر بڑھیا خالہ جمن کے گہرے دوست الگو چودھری کے پاس آئی اور اپنی لاٹھی نیچے پھینک کر کچھ لمحے سستانے کے بعد اسے بھی پنچایت میں آنے اور حق سچ کی بات کا ساتھ  دینے کا کہا۔چونکہ بڑھیا خالہ اپنے دکھ درد کا مداوا سب لوگوں کو اکٹھا کرکے پنچایت کے ذریعے چاہتی تھی اس لیے وہ اس مقصد کےلیے پورے گاؤں میں ہر ایک کے پاس گئی اور آخر میں اس حوالے سے الگو چودھری سے بھی مدد مانگی۔
 بقول شاعر

آخر کوئی کنارہ اس سیل بےکراں کا
آخر کوئی مداوا اس درد زندگی کا۔

اردو پڑھنے لکھنے میں درپیش مشکلات کا حل

  السلام علیکم! پیارے طالب علمو! اگر آپ اردو پڑھنے لکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں یا امتحان میں اردو پرچہ کے حل میں دقت محسوس کرتے ہیں تو ہمہ ...