Thursday, September 19, 2019

جماعت نہم اردو سبق لہو اور قالین تشریح پیراگراف نمبر1


سبق " لہو اور قالین"
پیراگراف نمبر1

اقتباس:
سردار تجمل حسین کی کوٹھی"النشاط".............. مصوری کا دوسرا سامان ۔

حوالہ متن:
 سبق کا عنوان: لہو اور قالین
مصنف کانام: میرزا ادیب
صنف: ڈرامہ
ماخذ: لہو اور قالین

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
 کوٹھی......بنگلہ
نشاط........خوشی،
مسرت
وسیع........کشادہ
اسٹوڈیو......وہ کمرہ جہاں فلم یا تصویر سازی ہو۔
اعلی.......عمدہ، شاندار
آراستہ......مزین، سجا ہوا
شاہکار....... عمدہ کارنامے
مجلد........ جلد کیاگیا
کارنیس.........منڈیر،طاق
تپائی......... چھوٹی میز
مزین.......سجا ہوا، آراستہ
گل دان......وہ گملا جس میں پھول رکھے ہوں۔
وسط.....درمیان، مرکز
ایزل...... سٹینڈ، فریم
کینوس....... وہ کپڑا یا کاغذ جس پر تصاویر بنائی جاتی ہیں۔

سیاق و سباق:

تشریح طلب اقتباس درسی سبق " لہو اور قالین" کا ابتدائی پیراگراف ہے۔اس سبق میں مصنف تجمل حسین کی کوٹھی " النشاط" کے ایک کمرے کا منظر بیان کرتے ہیں جس میں غریب اور گمنام مصور اختر تصاویر بناتا تھا۔

تشریح:
میرزا ادیب کا شمار اردو ادب کے ممتاز ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے ڈراموں میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہوتا ہے۔" لہو اور قالین" ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریا کاری جیسے قبیح عوامل کو اجاگر کیا گیا ہے۔
        تشریح طلب اقتباس میں مصنف سردار تجمل حسین کی کوٹھی کا منظر بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی کوٹھی کانام " النشاط" ہےاور اس کے ایک وسیع و عریض کمرے کو مصور اختر استعمال کرتا ہے۔ اختر اس کمرے میں تصویر سازی کرتا رہتا ہے۔
       یہ کمرہ  اعلی اور عمدہ فرنیچر سے سجا ہوا ہے جس کے فرش پر قالین بچھا ہوا ہے اور اس کمرے کی دیواروں پر مشہور تصویر سازوں کی بنائی ہوئی عمدہ تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔کمرے کے ایک طرف سننے کےلیے ریڈیو اور اس کا ساز وسامان رکھا گیا ہے اور اس سے کچھ فاصلے پر صوفے، گدے اور کرسیاں بچھائی گئی ہیں۔کمرے کی شمالی دیوار کے ساتھ دو الماریاں لگی ہوئی ہیں جس میں جلد شدہ کتابیں رکھی گئی ہیں۔
      کمرے کی دیوار کی منڈیر اور کمرے میں رکھی ہوئی چھوٹی میزوں پر گلدان رکھے گئے ہیں جو تازہ پھولوں سے سجے ہوئے ہیں۔کمرے کے دروازوں اور کھڑکیوں پر ریشم کے نرم و ملائم پردے لگائے گئے ہیں جبکہ اس کے مرکز میں ایک بڑے فریم یا سٹینڈ پر تصویر سازی کےلیے  نقاشی والا کپڑا لگایا گیا ہے جو ابھی صاف شفاف تھا اور اس پر کوئی تصویر نہیں بنائی گئی تھی۔
       غرض کوٹھی اور اس کے وسیع کمرے میں اختر کو ضرورت کی ہر چیز مہیا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
بقول شاعر
میسر تھی ہر ضرورت زندگی جس میں
وہ کوٹھی کسی امیر شہر کی تھی۔

جماعت نہم اردو سبق آرام و سکون تشریح پیراگراف نمبر1


سبق: آرام و سکون
صرف ایک ہی اہم پیراگراف۔

اقتباس:
بیسیوں مرتبہ کہ چکی ہوں..............کام بےطرح زوروں پر ہے۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: آرام و سکون
مصنف کا نام: سید امتیاز علی تاج
صنف: ڈرامہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
 بیسیوں مرتبہ.......متعددبار۔کئ بار
نصیب دشمناں.........دشمنوں کو نصیب ہو۔ خدانخواستہ
خاک.......مٹی
بےطرح.......بے ہنگم، بہت زیادہ
زوروں پر.........عروج پر

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " آرام و سکون " کے ابتدائی حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس میں مصنف کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب میاں اشفاق کا معائنہ کرتے ہیں اور اس کی بیوی کو بتاتے ہیں کہ آپ کے شوہر کو صرف تکان کی وجہ سے حرارت ہے اور غالبا یہ کام زیادہ کرتے ہیں اس لیے انھیں آرام کی ضرورت ہے۔اس کی بیوی کہتی ہے ڈاکٹر صاحب یہ میری بات نہیں سنتے آپ ہی انھیں سمجھائیے کہ یہ زیادہ کام نہ کیا کریں۔

تشریح:
سید امتیاز علی تاج کا شمار اردو کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کی تحریر سادہ اور بےتکلف ہوتی ہے۔" آرام و سکون" ان کا تحریر کردہ ایسا ہی ڈرامہ ہے جس میں تکلف کہیں نظر نہیں آتا بلکہ اس میں انھوں نے سیدھے سادھے مکالموں سے مزاح پیدا کیا ہے۔
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف آرام و سکون کی اہمیت بیان اجاگر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹر نے میاں کی خرابی حالت کا سبب تھکان کو ٹھہرایا تو بیوی نے ڈاکٹر کے سامنے اپنی مجبوری بیان کرتے ہوئے کہا کہ میاں میری کوئی بات سنتے اور سمجھتے ہی نہیں۔ میں انھیں ایک نہیں بلکہ متعدد بار سمجھا چکی ہوں کہ آپ اپنی مصروفیت کم کر دیں اور زیادہ کام نہ کیا کریں۔ اگر آپ اسی طرح زیادہ کام میں مصروف رہیں گے تو خدانخواستہ صحت جیسی انمول نعمت سے محرومی ہو جائے گی۔ایک مقولہ ہے

"دولت کمانے کےلیے انسان اپنی صحت کھو دیتا ہے اور پھر صحت کو پانے کےلیے دولت کھوتا ہے".

بیوی ڈاکٹر صاحب کو مزید احوال بیان کرتے ہوئے کہتی ہے کہ میاں بار بار سمجھانے کے باوجود بھی میری بات پر ذرا بھر بھی توجہ نہیں دیتے اور ہمیشہ یہ بات کہ کر مجھے ٹال دیتے ہیں کہ آج کل دفتر میں بہت زیادہ کام ہوتا ہے اس لیے آرام کےلیے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
 بقول شاعر

کس نے پایا سکون دنیا میں
زندگانی   کا   سامنا   کرکے

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر15 اور آخری


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر15 اور آخری۔

اقتباس:
بھیا، جب سے تم نے میری پنچایت کی...........انصاف کے سوا کچھ نہیں سوجھتا

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
 مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
 دشمن.......مخالف
مسند.......عہدہ،ذمہ داری
سوجھنا........ سمجھ آنا، ترکیب آنا
چال.........مکروفریب، دغابازی

سیاق وسباق:
 تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت"کا آخری پیراگراف ہے۔ اس میں مصنف کہتا ہے کہ جب شیخ جمن نے الگو چودھری اور سمجھو سیٹھ کے تنازعہ کا منصفانہ فیصلہ سنایا تو اس کو یہ احساس ہوگیا کہ انصاف کی مسند پر صرف عدل و انصاف ہی سوجھتا ہے اور وہ الگو چودھری کے منصفانہ فیصلے پر خواہ مخواہ اس سے ناراض ہے۔جمن اس احساس کے ساتھ الگو کے گلے ملتا ہے اور اپنی رنجش دور کر لیتا ہے۔
 
تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔اس کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب ہوتی ہے۔ " پنچایت" بھی اس کا ایسا افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی اہمیت اور ضرورت بھی واضح کرتا ہے۔
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ جب جمن شیخ نے الگو چودھری اور سمجھو سیٹھ کے درمیان بیل کی خرید و فروخت کا معاملہ انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر حل کیا تو اس کے دل میں انصاف کی اہمیت اجاگر ہوئی اور اسے الگو کے اس فیصلے پر خفا ہونے پر بھی ندامت ہوئی تو وہ ایک گھنٹے کے بعد الگو چودھری کے پاس آیا اور اس کے گلے لگ کر کہنے لگا کہ بھائی جب سے تم نے میرے اور میری خالہ کے درمیان تنازعہ کا فیصلہ کیا ہے تب سے میں دل سے تمھارا دشمن بنا ہوا تھا۔ حسد اور انتقام کی آگ مجھے چین نہیں لینے دیتی تھی مگر آج مجھے سبق مل گیا ہے کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر کوئی کسی کا دوست ہوتا ہے اور نہ ہی دشمن بلکہ انصاف کرنے والے کو انصاف کرنے کے علاؤہ کچھ نہیں سوجھتا۔
       یہ کہ کر جمن نے الگو کو اپنے سینے سے لگا لیا اس طرح ان دونوں کی دوستی کا مرجھایا ہوا درخت جمن کے احساس کے بعد دوبارہ ہرابھرا ہوگیا۔
 بقول شاعر
دوست، دوست نہیں دل کی دعا ہوتا ہے
محسوس تب ہوتا ہے جب وہ دل سے جدا ہوتا ہے

جماعت نہم اردو سبق پنچایت پیراگراف نمبر14


سبق : پنچایت
پیراگراف 14

اقتباس شیخ جمن کو اپنی عظیم الشان ذمہ داری.............غور سے سنا اور تب فیصلہ سنایا۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کانام :منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
عظیم الشان........ شاندار، بڑے مرتبے والی
احساس...... لحاظ
مسند......عہدہ،کرسی،تخت
مطلق.......... بالکل، قطعی
حق اور راستی.........سچ اور انصاف
جو بھر ٹلنا........ رتی برابر پھرنا، معمولی سا  پھرنا
سیاہ........تاریک

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" پنچایت" سے اخذ کیا گیا ہے۔اس  سبق میں مصنف بتاتے ہیں کہ الگو چودھری اور سمجھو سیٹھ کے درمیان بیل کی فروخت کا تنازعہ جب پنچایت میں لایا گیا تو پنچایت کے سرپنچ جمن شیخ کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ انصاف کا حکم اللہ کا حکم ہے اس لیے اس نے مکمل عدل و انصاف سے ذمہ داری نبھانی ہے۔چناں چہ اس نے انصاف کے مطابق فیصلہ الگوکے حق میں کردیا۔

تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب ہوتی ہے۔" پنچایت " اس کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی اہمیت بھی اجاگر کرتا ہے۔
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف جمن شیخ کے الگوچودھری اور سمجھو سیٹھ کے درمیان ثالثی کے فیصلے کے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جب الگو اور سمجھو سیٹھ کے درمیان بیل کی فروخت کا معاملہ جمن کے سامنے آیا تو جمن کے دل میں اس بات کا احساس جاگ اٹھا کہ اس کو انصاف کی جو اعلی ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کا مقام بہت بلند ہے کیونکہ  انصاف کرنے کا حکم اوپر والے رب کا حکم ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے

" جب تم دو گروہوں کے درمیان فیصلہ کرنے لگو تو انصاف کے ساتھ کیا کرو".

چناں چہ حکم خداوندی میں میری نیت اور خواہش کو بالکل بھی دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اگر میں نے حق اور انصاف کے راستے کوذرا بھر بھی پس پشت ڈال دیا تو دین اور دنیا دونوں میں رسوائی کے علاؤہ کچھ حاصل نہ ہوگا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ
"اپنی خواہش کے پیچھے نہ چلوبلکہ عدل کرو، اگر تم نے ہیر پھیر کی یا منھ پھیرا تو اللہ تمھارے کاموں سے باخبر ہے"

جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر 13


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر13

اقتباس:
ایک بار وہ بھی بگڑے اور سیٹھ جی..............آپس میں سرپھٹول سے کام نہ چلے گا

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی۔
بگڑے....... خفا ہوئے
گرم ہونا.......تپنا، غصے ہونا
جذبے کے مارے....... جوش میں آکر
مباحثہ......... بحث و تکرار
مجادلہ......... لڑائی جھگڑا
نوبت........مرحلہ، وقت، حالت
کواڑ....... دروازے
معزز.......عزت دار،قابل احترام
فریق........جزو، حصہ دار
دلاسا.......حوصلہ
صلاح.......مشورہ
سرپھٹول........سر پھاڑنا، لڑائی جھگڑا کرنا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت کے درمیان سے اخذ کیا گیا ہے۔اس میں مصنف کہتے ہیں کہ الگو چودھری نے اپنا بیل سمجھو سیٹھ کو ایک ماہ کے ادھار پر دیا۔ سمجھو سیٹھ نے بیل کو دوڑا دوڑا کر مار ڈالا۔جب الگو چودھری نے سمجھو سیٹھ سے رقم کا تقاضا کیا تو وہ بگڑ گیا اور رقم دینے سے انکار کردیا۔ اس دوران الگو اور سمجھو میں ہاتھا پائی ہوگئی۔ گاؤں کے معززین نے ان کو سمجھاتے ہوئے پنچایت میں اپنا تصفیہ کرانے کا مشورہ دیا۔جسے دونوں نے تسلیم کرلیا۔
 
تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب نظر آتی ہے۔ " پنچایت "ان کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عدل وانصاف کی ضرورت اور اہمیت بھی بیان کرتے ہیں۔
          تشریح طلب اقتباس میں مصنف الگو چودھری اور سمجھو سیٹھ کے تنازعہ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ الگو چودھری نے سمجھو سیٹھ کو اپنا بیل ایک ماہ کے ادھار پر بیچ دیا۔ سمجھو سیٹھ نے بیل کو دوڑا دوڑا کر مار ڈالا۔الگو چودھری کی طرف سے بیل کی رقم ڈیڑھ سو روپے رقم طلب کیے جانے پر سمجھو سیٹھ نے رقم دینے سے انکار کر دیا اس پر الگو غصے ہوگیا اور سمجھو سیٹھ سے تلخ کلامی کرنے لگا جس پر سمجھو سیٹھ بھی تپ اٹھا اور دونوں ایک دوسرے پر خوب بگڑے۔ سیٹھانی جی یعنی سمجھو سیٹھ کی بیوی  جوش اور جذبات میں آکر گھر سے باہر نکل آئی ۔الگو اور سمجھو کے درمیان خوب بحث و تکرار ہوئی اور آپس میں خوب سوال و جواب بھی ہوئے۔ جب معاملہ حد سے بڑھ کر لڑائی جھگڑے تک پہنچ گیا تو سیٹھ جی غصے میں آکر کر اپنے گھر میں گھس گئے اور گھر کے دروازے بند کردیے۔
حدیث مبارکہ ہے۔
"  جب دوبھائیوں میں جھگڑا ہو تو ان میں صلح کرا دیا کرو."
اسی صلح کےلیے گاؤں کے بہت سے معزز اور قابل احترام لوگ وہاں اکٹھے ہوگئے اور انھوں نے الگو چودھری کو سمجھایا اور سمجھو سیٹھ کو گھر سے نکال کر تسلی دی کہ اس طرح بحث و تکرار اور لڑائی جھگڑے سے کام بننے کی بجائے مزید بگڑے گا اور دلی نفرت بڑھ جائے گی جس سے سب کےلیے مشکلات میں اضافی ہوگا۔
 بقول شاعر

بگڑنے سے تمھارے کیا کہوں کیا بگڑتا ہے
کلیجا منھ کو آجاتاہے ہے،دل ایسا بگڑتا ہے۔

جماعت نہم اردو سبق پنچایت پیراگراف نمبر12


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر12

اقتباس:
اس فیصلے نے الگو اور جمن کی دوستی کی جڑیں ہلا دیں................ انتقام کی خواہش چین نہ لینے دیتی تھی۔

حوالہ متن:
 سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
جڑیں ہلانا........ بنیادیں ختم کرنا
تناور......... توانا، مضبوط
حق........سچ
جھونکا....... لہر
سہنا....... برداشت کرنا
تیر و سپر.......... تیر اور ڈھال
 غداری....... بغاوت

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت " کے درمیان میں سے اخذ کیا گیا ہے۔اس میں مصنف شیخ جمن اور اس کی خالہ کے درمیان نان نفقے کے حوالے سے پنچایت کے فیصلے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ الگو چودھری نے خالہ کے حق میں فیصلہ سنایا تو جمن فیصلہ سن کر الگوچودھری کا دشمن ہوگیا اور اسے نقصان پہنچانے کی سوچنے لگا۔اس دوران الگو کا بیل مرا تو اس نے جمن پر ہی شک کیا۔

تشریح:
منشی پریم چند اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں نیکی اپنی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب نظر آتی ہے۔ " پنچایت بھی ان کا ایسا افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل بیان کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی ضرورت اور اہمیت کے بارے میں بھی آگاہ کرتے ہیں۔
       تشریح طلب اقتباس میں مصنف جمن اور اس کی خالہ کے نان نفقے کے حوالے سے ہونے والی پنچایت کے فیصلے کے بارے میں بتاتا ہے کہ جمن کے دوست الگو چودھری نے جمن اور اس کی خالہ کی تمام تر گفتگو سننے کے بعد انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر خالہ کے حق میں فیصلہ سنایا کہ جمن کےلیے ضروری ہے کہ وہ خالہ کے نان نفقے کو پورا کرے یا  خالہ کی جائیداد واپس کرے۔
              پنچایت کے اس فیصلے نے الگو چودھری اور جمن شیخ کی دوستی کی بنیادیں ہلا دیں۔ اپنے خلاف فیصلہ سن کر جمن الگو چودھری کا مخالف بن گیا۔

" تنازعات اور ان کے فیصلے نہ صرف انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں بلکہ دوستی کی بنیادیں تک ہلا دیتے ہیں".

اس لیے جمن اور الگو کے درمیان گہری دوستی کا مضبوط درخت بھی سچ اور انصاف کا ایک جھونکا بھی برداشت نہ کرسکا۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے ملتے ضرور تھے لیکن ان کی آپس میں بنتی نہیں تھی۔ جس طرح میدان جنگ میں تیر اور ڈھال ایک دوسرے کی مخالفت میں کام آتے ہیں  اسی طرح وہ بھی ایک دوسرے کے مخالف ہوگئے اور ایک دوسرے سے دشمنوں کی طرح ملتے تھے۔
          جمن سمجھتا تھا کہ الگو نے اس کے خلاف فیصلہ دے کر اس کے ساتھ غداری کی ہے۔ وہ ہرصورت الگو سے اس کا بدلہ لینا چاہتا تھا کیونکہ بدلے کی آگ اسے آرام سے نہیں بیٹھنے دیتی تھی اور وہ الگو کو ہرصورت نقصان پہنچانے کے درپے ہوچکا تھا۔
بقول شاعر
عجب جنون ہے یہ انتقام کا جذبہ
شکست کھاکے وہ پانی میں زہر ڈال آیا۔

جماعت نہم اردو سبق پنچایت پیراگراف نمبر11


سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر11

اقتباس:
جرح ختم ہونے کے بعد الگو نے فیصلہ سنایا..............ہبہ نامہ منسوخ ہو جائے گا۔

حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ

خط کشیدہ الفاظ کے معانی
 جرح........ زخم،گھاؤ، سچائی معلوم کرنے کےلیے پوچھے گئےسخت سوالات
لہجہ.......طرز گفتگو
سنگین.......سخت
تحکمانہ........ حکم دینے کے انداز میں
معاملہ.......مسئلہ
زیادتی....... قصور،ناجائزی
سراسر....... مکمل،ساری کی ساری
معقول....... مناسب
نفع........فائدہ
بندوبست........ انتظام
ماہوار... .... مہینے بھر کا۔
ہبہ نامہ........وہ دستاویز جس پر کوئی چیز عطا کرنے کا اقرار لکھا جائے۔
منسوخ ........ملتوی، ختم ہونا
سناٹے میں آنا.........دنگ رہ جانا، حیرت زدہ ہونا

سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت" کے درمیان میں سے لیا گیا ہے۔ اس سبق میں مصنف کہتے ہیں کہ جب جمن کی خالہ نے اپنے مسئلے کے حل کےلیے جمن کے خلاف پنچایت بلائی تو اس کا سرپنچ الگو چودھری کو بنایا گیا جو جمن کا گہرا دوست تھا۔اس نے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کےلیے جمن سے حقائق معلوم کرنے کےلیے سوالات کیے اور آخر میں انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے فیصلہ سنایا جس میں جمن کےلیے دو راستے رکھے گئے کہ یا تو وہ خالہ کی وعدے کے مطابق دیکھ بھال کرے یا ہبہ نامہ منسوخ کرائے۔

تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔اس کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب نظر آتی ہے۔ " پنچایت " اس کا ایسا ہی افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی ضرورت اور اہمیت بھی واضح کرتا ہے۔
     تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتے ہیں کہ پنچایت کے سرپنچ الگو چودھری نے اپنے دوست جمن سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور حقائق پرکھنے کےلیے تیز و تند سوالات کیے۔ جس سے شیخ جمن پریشان ہوگیا۔تمام تر صورتحال کو سمجھنے کے بعد الگو چودھری نے جمن اور اس کی خالہ کے درمیان تنازعہ کا فیصلہ سنایا۔ فیصلہ سنانے کے دوران  الگو چودھری کا لب و لہجہ اور انداز گفتگو بہت سخت تھا اور ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ فیصلہ نہیں سنا رہا  ہو بلکہ حکم جاری کر رہا ہو۔
       الگوچودھری نے جمن کو مخاطب کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیا کہ ہم پنچایت والوں نے سارے معاملے پر مکمل غور و فکر سے کام لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ساری کی ساری غلطی تمھاری ہے۔ تم نے خالہ جان سے ناجائزی کی ہے۔تمھیں کھیتوں سے اچھا خاصا منافع حاصل ہوتا ہے اس لیے تمھارے اوپر لازم ہے کہ تم خالہ جان کے ماہانہ اخراجات کا انتظام کرو۔ اس کے علاؤہ تمھارے پاس کوئی دوسری راہ نہیں۔اگر تم ہمارے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے اور خالہ کے ماہوار اخراجات پورے کرنے سے انکار کرتے ہو تو وہ اقرار نامہ جس کے تحت خالہ جان کی  ملکیت تمھارے نام ہوگئی تھی منسوخ کر دیا جائے گا اور خالہ کی ملکیت اسے واپس  دلا دی جائے گی۔
         جمن یہ فیصلہ سن کر ہکابکا رہ گیا۔ وہ مایوسی کے عالم میں ٹوٹے دل کے ساتھ کہنے لگا کہ آج کل زمانے میں یہی دوستی ہے کہ جو آپ پر بھروسا کرے اس کی مخالفت پر اتر آؤ اور اس کی گردن پر بھری پھیر کراسے تباہ و برباد کر دو۔
 بقول شاعر
 دل ابھی پوری طرح ٹوٹا نہیں
دوستوں کی مہربانی چاہیے

پیراگراف نمبر8 خطوط غالب

                     03065976174            سبق:    خطوط غاؔلب               aufsurani.blogspot.com                                         ...