ہماری تعلیم ۔۔۔ پنجاب بورڈ کے مطابق جماعت نہم، دہم اور انٹر کی اردو کے نثرپاروں کی تشریح ،اہم نوٹس اور گیس پیپر میسر ہوں گے۔
Saturday, October 12, 2019
جماعت نہم اردو سبق امتحان پیراگراف نمبر2 تشریح
سبق: امتحان
پیراگراف نمبر2
اقتباس:
بندے پر امتحان کا رتی برابر اثر.........شرط اٹھا دی جائے۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کا نام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
رتی برابر....... ذرا سا، معمولی سا
افسوس....... غم،دکھ
امیدوار.......امید رکھنے والا،آرزو مند
مجمع....... ہجوم
عجیب......انوکھا
دل سیر ہونا.......دل بھرنا،جی بھرنا
شرط.....پابندی، لازم قرار دینا
سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق" امتحان" کے ابتدائی حصے سے اخذ کیا گیاہے۔مصنف کہتا ہے کہ لوگ امتحان کے نام سے گھبراتے ہیں حالانکہ اس میں دو ہی صورتیں ہوتی ہیں،پاس یا فیل۔ میں امتحان سے ذرا بھر بھی نہیں گھبراتا اور میں نے لا کلاس کا کورس یاروں،دوستوں کے ساتھ ٹہلتے ہوئے پورا کیا۔
تشریح:
مصنف فرحت اللہ بیگ کا شمار اردو کے نامور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا ہے۔" امتحان" ان کا تحریر کردہ ایسا ہی مضمون ہے جس میں امتحان کے اثرات ،اس کی اہمیت اور دوران امتحان کے حالات و واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کیا گیا ہے۔
تشریح طلب اقتباس میں مصنف امتحان کے حوالے سے اپنے تصورات اور خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ امتحان کے نام سے لوگ گھبراتے ہیں مگر میرے اوپر امتحان کا معمولی سا بھی اثر نہیں پڑتا۔ میرے اوپر امتحان کا اثر نہ تو امتحان کے شروع میں ہوتا ہےاور نہ ہی امتحان کے ختم ہونے کے بعد اس کےگزر جانے کا دکھ ہوتا ہے۔میں تو چاہتا ہوں کہ امتحان ہوتے رہیں کیونکہ اس سے ہمیں امتحان میں شریک ہونے والوں سے ملنے کے مواقع ملتے ہیں،وہاں مختلف خیالات کے حامل لوگ موجود ہوتے ہیں جن سے ملنے اور ان کے عجیب و غریب خیالات سے بہرہ مند ہونے کے مواقع ملتے ہیں اور یہ سب چیزیں ایسی ہیں جن سےانسان کا دل کبھی نہیں بھرتا اور وہ اس ملنے ملاپ سے نہیں اکتاتا بلکہ دل تو یہ چاہتا ہے کہ ساری زندگی امتحان میں گزر جائے اور ہم اسی طرح دوسروں سے مل کر ان کے خیالات جانتے اور سمجھتے رہیں البتہ امتحان کےلیے نصاب کو پڑھنے اور اسے یاد رکھنے کی شرط ختم کر دی جائے کیونکہ یہی وہ کام ہے جس سے ہمارا دل بےچین ہوتا ہے اور یہ کام ہم بڑی مشکل سے کر پاتے ہیں۔اس کیفیت کو شاعر یوں بیان کرتا ہے۔
کچھ پڑھنا ہے، کچھ لکھنا ہے، کچھ رونا ہے
میں سب کام سرشام چکانے میں لگا ہوں۔
جماعت نہم اردو سبق امتحان پیراگراف نمبر 1 تشریح
سبق: امتحان
پیراگراف نمبر1 تشریح
اقتباس:
لوگ امتحان کے نام سے گھبراتے ہیں..........اتنی سی صورت نکل آتی تھی۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: امتحان
مصنف کا نام: مرزا فرحت اللہ بیگ
صنف: مضمون
ماخذ: مضامین فرحت
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
گھبرانا.....پریشان ہونا
ہنسی......مسکراہٹ
امتحان...... جائزہ،جانچ پرکھ
صورتیں.....شکلیں، حالتیں
کامیاب......کامران
آئندہ......آنے والا
جوں جوں......جیسے جیسے
حواس...... اوسان ،ہوش
مختل ....... بگڑا ہوا، درہم برہم، خلل زدہ
سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درس سبق امتحان کا ابتدائی پیراگراف ہے۔ اس میں مصنف کہتا ہے کہ لوگ امتحان سے گھبراتے ہیں لیکن میرے اوپر امتحان کا رتی برابر بھی اثر نہیں ہوتا بلکہ ان چیزوں سے میرا دل ہی سیر نہیں ہوتا۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ تمام عمر امتحان ہو جائے۔
تشریح:
مصنف مرزا فرحت اللہ بیگ کا شمار اردو کے نامور ادیبوں میں ہوتا ہے۔ ان کا طرز تحریر سادہ اور پرلطف ہوتا ہے اور ان کی تحریر میں مزاح کی چاشنی موجود ہوتی ہے۔" امتحان" ان کا لکھا گیا ایسا ہی مضمون ہے جس میں امتحان کے اثرات، اس کی اہمیت اور دوران امتحان کے حالات و واقعات کو خوش اسلوبی سے بیان کیا گیا ہے۔
تشریح طلب اقتباس میں مصنف امتحان کے حوالے سے اپنے تصورات اور خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے ہے کہ جب امتحان کا زمانہ آتا ہے تو لوگ امتحان کا نام سنتے ہی پریشان ہوجاتے ہیں اور ان کی سٹی گم ہوجاتی ہے لیکن میں امتحان سے قطعی پریشان نہیں ہوتا بلکہ مجھے تو امتحان سے گھبرانے والوں پر ہنسی آتی ہے ہے۔ ہمیں امتحان سے پریشان ہونے کی ضرورت بھی نہیں کہ اس میں ہمارے لیے کوئی مصیبت تو ہوتی نہیں ہے بلکہ اس کی دو ہی صورتیں ہیں کہ ہم پاس ہوں گے یا فیل ۔کامیابی اور ناکامی تو زندگی کا حصہ ہیں ان سے انسان کو سبق سیکھنا چاہیے نہ کہ ان سے پریشان ہوکر اپنی زندگی اجیرن کرے۔
جیسا کہ ایک مقولہ ہے
"ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے".
یہ
اس لیے اپنی ناکامی سے پریشان ہونے کی بجائے ہمیں آئندہ سال کامیابی کےلیے کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ بقول شاعر
کبھی ناکامیوں کا اپنی ہم ماتم نہیں کرتے
مقدر میں جو غم لکھے ہیں ان کا غم نہیں کرتے
مصنف کہتا ہے کہ امتحان کے دن جیسے جیسے قریب آتے جاتے ہیں تو میں دیکھتا ہوں کہ میرےدوست اور میرے ہم جماعت حواس باختہ نظر آتے ہیں اور ان کے دل و دماغ پریشان ہوتے ہیں اور وہ ہمہ وقت امتحان کو اپنے سروں پر سوار کرکے پھر رہے ہوتے ہیں۔ان کی شکل و صورت کا رنگ امتحان کے خوف سے فق پڑ چکا ہوتا ہے اور ان کے چہروں پر اڑتی ہوائیاں صاف پڑھی جاسکتی ہیں۔ بقول شاعر
جگر کا خون پیتے ہیں یہ سارے امتحان ظالم
کبھی سہ ماہی،کبھی ششماہی،کبھی کم بخت سالانہ
Thursday, September 19, 2019
جماعت نہم اردو سبق لہو اور قالین تشریح پیراگراف نمبر1
سبق " لہو اور قالین"
پیراگراف نمبر1
اقتباس:
سردار تجمل حسین کی کوٹھی"النشاط".............. مصوری کا دوسرا سامان ۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: لہو اور قالین
مصنف کانام: میرزا ادیب
صنف: ڈرامہ
ماخذ: لہو اور قالین
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
کوٹھی......بنگلہ
نشاط........خوشی،
مسرت
وسیع........کشادہ
اسٹوڈیو......وہ کمرہ جہاں فلم یا تصویر سازی ہو۔
اعلی.......عمدہ، شاندار
آراستہ......مزین، سجا ہوا
شاہکار....... عمدہ کارنامے
مجلد........ جلد کیاگیا
کارنیس.........منڈیر،طاق
تپائی......... چھوٹی میز
مزین.......سجا ہوا، آراستہ
گل دان......وہ گملا جس میں پھول رکھے ہوں۔
وسط.....درمیان، مرکز
ایزل...... سٹینڈ، فریم
کینوس....... وہ کپڑا یا کاغذ جس پر تصاویر بنائی جاتی ہیں۔
سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " لہو اور قالین" کا ابتدائی پیراگراف ہے۔اس سبق میں مصنف تجمل حسین کی کوٹھی " النشاط" کے ایک کمرے کا منظر بیان کرتے ہیں جس میں غریب اور گمنام مصور اختر تصاویر بناتا تھا۔
تشریح:
میرزا ادیب کا شمار اردو ادب کے ممتاز ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کے ڈراموں میں زندگی کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہوتا ہے۔" لہو اور قالین" ان کا تحریر کردہ ایسا ڈرامہ ہے جس میں معاشرتی ناہمواری اور ریا کاری جیسے قبیح عوامل کو اجاگر کیا گیا ہے۔
تشریح طلب اقتباس میں مصنف سردار تجمل حسین کی کوٹھی کا منظر بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کی کوٹھی کانام " النشاط" ہےاور اس کے ایک وسیع و عریض کمرے کو مصور اختر استعمال کرتا ہے۔ اختر اس کمرے میں تصویر سازی کرتا رہتا ہے۔
یہ کمرہ اعلی اور عمدہ فرنیچر سے سجا ہوا ہے جس کے فرش پر قالین بچھا ہوا ہے اور اس کمرے کی دیواروں پر مشہور تصویر سازوں کی بنائی ہوئی عمدہ تصاویر آویزاں کی گئی ہیں۔کمرے کے ایک طرف سننے کےلیے ریڈیو اور اس کا ساز وسامان رکھا گیا ہے اور اس سے کچھ فاصلے پر صوفے، گدے اور کرسیاں بچھائی گئی ہیں۔کمرے کی شمالی دیوار کے ساتھ دو الماریاں لگی ہوئی ہیں جس میں جلد شدہ کتابیں رکھی گئی ہیں۔
کمرے کی دیوار کی منڈیر اور کمرے میں رکھی ہوئی چھوٹی میزوں پر گلدان رکھے گئے ہیں جو تازہ پھولوں سے سجے ہوئے ہیں۔کمرے کے دروازوں اور کھڑکیوں پر ریشم کے نرم و ملائم پردے لگائے گئے ہیں جبکہ اس کے مرکز میں ایک بڑے فریم یا سٹینڈ پر تصویر سازی کےلیے نقاشی والا کپڑا لگایا گیا ہے جو ابھی صاف شفاف تھا اور اس پر کوئی تصویر نہیں بنائی گئی تھی۔
غرض کوٹھی اور اس کے وسیع کمرے میں اختر کو ضرورت کی ہر چیز مہیا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
بقول شاعر
میسر تھی ہر ضرورت زندگی جس میں
وہ کوٹھی کسی امیر شہر کی تھی۔
جماعت نہم اردو سبق آرام و سکون تشریح پیراگراف نمبر1
سبق: آرام و سکون
صرف ایک ہی اہم پیراگراف۔
اقتباس:
بیسیوں مرتبہ کہ چکی ہوں..............کام بےطرح زوروں پر ہے۔
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: آرام و سکون
مصنف کا نام: سید امتیاز علی تاج
صنف: ڈرامہ
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
بیسیوں مرتبہ.......متعددبار۔کئ بار
نصیب دشمناں.........دشمنوں کو نصیب ہو۔ خدانخواستہ
خاک.......مٹی
بےطرح.......بے ہنگم، بہت زیادہ
زوروں پر.........عروج پر
سیاق و سباق:
تشریح طلب اقتباس درسی سبق " آرام و سکون " کے ابتدائی حصے سے اخذ کیا گیا ہے۔اس میں مصنف کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب میاں اشفاق کا معائنہ کرتے ہیں اور اس کی بیوی کو بتاتے ہیں کہ آپ کے شوہر کو صرف تکان کی وجہ سے حرارت ہے اور غالبا یہ کام زیادہ کرتے ہیں اس لیے انھیں آرام کی ضرورت ہے۔اس کی بیوی کہتی ہے ڈاکٹر صاحب یہ میری بات نہیں سنتے آپ ہی انھیں سمجھائیے کہ یہ زیادہ کام نہ کیا کریں۔
تشریح:
سید امتیاز علی تاج کا شمار اردو کے نامور ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ان کی تحریر سادہ اور بےتکلف ہوتی ہے۔" آرام و سکون" ان کا تحریر کردہ ایسا ہی ڈرامہ ہے جس میں تکلف کہیں نظر نہیں آتا بلکہ اس میں انھوں نے سیدھے سادھے مکالموں سے مزاح پیدا کیا ہے۔
تشریح طلب اقتباس میں مصنف آرام و سکون کی اہمیت بیان اجاگر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ڈاکٹر نے میاں کی خرابی حالت کا سبب تھکان کو ٹھہرایا تو بیوی نے ڈاکٹر کے سامنے اپنی مجبوری بیان کرتے ہوئے کہا کہ میاں میری کوئی بات سنتے اور سمجھتے ہی نہیں۔ میں انھیں ایک نہیں بلکہ متعدد بار سمجھا چکی ہوں کہ آپ اپنی مصروفیت کم کر دیں اور زیادہ کام نہ کیا کریں۔ اگر آپ اسی طرح زیادہ کام میں مصروف رہیں گے تو خدانخواستہ صحت جیسی انمول نعمت سے محرومی ہو جائے گی۔ایک مقولہ ہے
"دولت کمانے کےلیے انسان اپنی صحت کھو دیتا ہے اور پھر صحت کو پانے کےلیے دولت کھوتا ہے".
بیوی ڈاکٹر صاحب کو مزید احوال بیان کرتے ہوئے کہتی ہے کہ میاں بار بار سمجھانے کے باوجود بھی میری بات پر ذرا بھر بھی توجہ نہیں دیتے اور ہمیشہ یہ بات کہ کر مجھے ٹال دیتے ہیں کہ آج کل دفتر میں بہت زیادہ کام ہوتا ہے اس لیے آرام کےلیے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔
بقول شاعر
کس نے پایا سکون دنیا میں
زندگانی کا سامنا کرکے
جماعت نہم اردو سبق پنچایت تشریح پیراگراف نمبر15 اور آخری
سبق: پنچایت
پیراگراف نمبر15 اور آخری۔
اقتباس:
بھیا، جب سے تم نے میری پنچایت کی...........انصاف کے سوا کچھ نہیں سوجھتا
حوالہ متن:
سبق کا عنوان: پنچایت
مصنف کا نام: منشی پریم چند
صنف: افسانہ
خط کشیدہ الفاظ کے معانی
دشمن.......مخالف
مسند.......عہدہ،ذمہ داری
سوجھنا........ سمجھ آنا، ترکیب آنا
چال.........مکروفریب، دغابازی
سیاق وسباق:
تشریح طلب اقتباس سبق " پنچایت"کا آخری پیراگراف ہے۔ اس میں مصنف کہتا ہے کہ جب شیخ جمن نے الگو چودھری اور سمجھو سیٹھ کے تنازعہ کا منصفانہ فیصلہ سنایا تو اس کو یہ احساس ہوگیا کہ انصاف کی مسند پر صرف عدل و انصاف ہی سوجھتا ہے اور وہ الگو چودھری کے منصفانہ فیصلے پر خواہ مخواہ اس سے ناراض ہے۔جمن اس احساس کے ساتھ الگو کے گلے ملتا ہے اور اپنی رنجش دور کر لیتا ہے۔
تشریح:
منشی پریم چند کا شمار اردو کے نامور اور اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔اس کے افسانوں میں نیکی تمام تر مشکلات کے باوجود برائی پر غالب ہوتی ہے۔ " پنچایت" بھی اس کا ایسا افسانہ ہے جس میں وہ دیہاتی زندگی کے مسائل اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ عدل و انصاف کی اہمیت اور ضرورت بھی واضح کرتا ہے۔
تشریح طلب اقتباس میں مصنف کہتا ہے کہ جب جمن شیخ نے الگو چودھری اور سمجھو سیٹھ کے درمیان بیل کی خرید و فروخت کا معاملہ انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر حل کیا تو اس کے دل میں انصاف کی اہمیت اجاگر ہوئی اور اسے الگو کے اس فیصلے پر خفا ہونے پر بھی ندامت ہوئی تو وہ ایک گھنٹے کے بعد الگو چودھری کے پاس آیا اور اس کے گلے لگ کر کہنے لگا کہ بھائی جب سے تم نے میرے اور میری خالہ کے درمیان تنازعہ کا فیصلہ کیا ہے تب سے میں دل سے تمھارا دشمن بنا ہوا تھا۔ حسد اور انتقام کی آگ مجھے چین نہیں لینے دیتی تھی مگر آج مجھے سبق مل گیا ہے کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھ کر کوئی کسی کا دوست ہوتا ہے اور نہ ہی دشمن بلکہ انصاف کرنے والے کو انصاف کرنے کے علاؤہ کچھ نہیں سوجھتا۔
یہ کہ کر جمن نے الگو کو اپنے سینے سے لگا لیا اس طرح ان دونوں کی دوستی کا مرجھایا ہوا درخت جمن کے احساس کے بعد دوبارہ ہرابھرا ہوگیا۔
بقول شاعر
دوست، دوست نہیں دل کی دعا ہوتا ہے
محسوس تب ہوتا ہے جب وہ دل سے جدا ہوتا ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)
اردو پڑھنے لکھنے میں درپیش مشکلات کا حل
السلام علیکم! پیارے طالب علمو! اگر آپ اردو پڑھنے لکھنے میں مشکلات کا شکار ہیں یا امتحان میں اردو پرچہ کے حل میں دقت محسوس کرتے ہیں تو ہمہ ...
-
بخدمت جناب ہیڈماسٹر،گورنمنٹ ہائی سکول الف۔ب۔ج عنوان: درخواستِ رخصت برائ...







